اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والی امریکی جامعات کے خلاف کارروائی کے لیے بل منظور

جمعرات 3 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ایوان نمائندگان نے اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والی جامعات کی وفاقی مالی معاونت روکنے کے لیے بل منظور کرلیا، جسے اسرائیل کے حامی ریپبلکن ارکان کی جانب سے پیش کیا گیا تازہ اقدام قرار دیا جارہا ہے۔

ایوان نمائندگان میں ’تحفظِ اقتصادی و علمی آزادی قانون‘ کے حق میں 237 جبکہ مخالفت میں 169 ووٹ آئے۔ بل کو قانون بننے کے لیے سینیٹ سے بھی منظوری درکار ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی جامعات میں تحقیقات شروع، غیر ملکی طلبہ کی پرو فلسطینی مظاہروں پر ملک بدری کا خدشہ

رائے شماری زیادہ تر جماعتی بنیادوں پر ہوئی، تاہم 2 ریپبلکن ارکان نے بل کی مخالفت کی جبکہ 33 ڈیموکریٹ ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔

بل کے تحت ان جامعات کی وفاقی امداد روکی جاسکے گی جو اسرائیل کے بائیکاٹ کا فیصلہ کریں۔ بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد تعلیمی آزادی یا علمی مباحثے کو محدود کرنا نہیں بلکہ اسرائیل اور یہودیت کے خلاف امتیازی رویے کو روکنا ہے۔

یہ پیش رفت غزہ میں جاری جنگ کے باعث امریکی جامعات میں اسرائیل کے خلاف احتجاج اور بائیکاٹ کی بڑھتی ہوئی تحریک کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ جنگ کے دوران امریکی جامعات میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے ہوئے اور اسرائیل کے بائیکاٹ کے مطالبات سامنے آئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے متعدد جامعات کے خلاف تحقیقات اور وفاقی فنڈنگ روکنے کی دھمکیاں بھی دیں۔

یہ بھی پڑھیں: برطانوی جامعات میں طلبہ کی خفیہ نگرانی کا انکشاف، فلسطین کے حق میں بولنے والے نشانہ بننے لگے

ٹرمپ انتظامیہ اور کانگریس کے متعدد ریپبلکن ارکان کا مؤقف ہے کہ بعض احتجاجی سرگرمیوں میں یہود مخالف رجحانات اور انتہا پسندی کی حمایت پائی گئی، تاہم مظاہرین اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فلسطینی حقوق کی حمایت اور غزہ میں تباہی کے خلاف احتجاج کو یہود دشمنی یا انتہا پسندی کی حمایت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

نیویارک سے ڈیموکریٹ رکن کانگریس جیرولڈ نیڈلر نے ووٹنگ سے قبل کہا کہ وہ عالمی بائیکاٹ، سرمایہ کاری سے دستبرداری اور پابندیوں کی تحریک کی مخالفت کرتے ہیں، تاہم وہ بل کے خلاف ووٹ دیں گے کیونکہ وہ امریکی شہریوں کے اظہارِ رائے کے حق کی حمایت کرتے ہیں۔

دوسری جانب بل کے حامی ڈیموکریٹ رکن کانگریس جوش گوٹ ہائمر نے کہا کہ اگر کوئی جامعہ وفاقی ٹیکس دہندگان کی رقم حاصل کرتی ہے تو اسے کسی ایک ملک کے ساتھ تعلیمی شراکت داری یا سرمایہ کاری کے معاملے میں امتیاز نہیں برتنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی عدالت نے فلسطین کے حامی اساتذہ و طلبہ کی ملک بدری کو خلاف آئین قرار دیدیا

عالمی بائیکاٹ، سرمایہ کاری سے دستبرداری اور پابندیوں کی تحریک اسرائیل کے خلاف معاشی اور سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش کرتی ہے اور فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلی سلوک پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp