خیبر پختونخوا کے محکمہ جنگلی حیات (وائلڈ لائف) نے سال 2026 کے سیزن کے لیے کونجوں کے زندہ شکار (پکڑنے) کا اعلان کرتے ہوئے شکاریوں اور کیمپ آپریٹرز کے لیے سخت قواعد و ضوابط پر مشتمل نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور چڑیا گھر میں 5 برس کے دوران 70 قیمتی جانور اور پرندے ہلاک ہونے کا انکشاف
نوٹیفکیشن کے مطابق کونجوں کو زندہ پکڑنے کا یہ سیزن یکم ستمبر سے 15 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ صوبے کے مختلف اضلاع کے لیے مجموعی طور پر 100 کیمپوں کا کوٹہ مقرر کیا گیا ہے اور سیزن کے دوران ہر کیمپ کو زیادہ سے زیادہ 15 کونجیں زندہ پکڑنے کی اجازت ہوگی۔
اہم قواعد و ضوابط اور پابندیاں
مقررہ قوانین تحت صرف عام کونج اور انڈین کونج کو ہی پکڑنے کی اجازت ہوگی جبکہ دیگر کسی بھی پرندے کے شکار یا پکڑنے پر مکمل پابندی ہوگی۔
ممنوعہ علاقے
دریائے کرم، لکی مروت کی مخصوص پناہ گاہوں اور زڑمیلان سمیت منتخب علاقوں میں کونجوں کا شکار مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
پرمٹ صرف متعلقہ اور مجاز اضلاع کے مقامی رہائشیوں کو جاری کیے جائیں گے۔ کونجوں کو صرف روایتی طریقوں سے ہی پکڑا جا سکے گا جبکہ الیکٹرانک آلات، آتشیں اسلحے یا جالوں کا استعمال سخت قانونی کارروائی کا موجب بنے گا۔
مزید پڑھیے: آزاد کشمیر کے مچھیارہ نیشنل پارک میں نایاب پرندے ریاڑ کی تعداد دوگنی کیسے ہوگئی؟
پکڑی گئی کونجوں کو صبح 6 بجے سے رات 12 بجے تک منتقل کرنے کی اجازت ہوگی جبکہ رات 12 سے صبح 6 بجے کے درمیان ان کی نقل و حمل پر مکمل پابندی ہوگی۔ سیزن کے اختتام پر تمام کیمپ ختم کرنا اور تمام کونجوں کا اندراج (رجسٹریشن) کروانا لازمی ہوگا۔
کیمپ پرمٹ کی فیس 15,000 روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ فی پرندہ سالانہ ملکیت کی فیس 400 روپے ہوگی۔ پکڑی گئی کونجوں کے کسی بھی قسم کے تجارتی استعمال پر پابندی عائد ہے۔
قوانین کی خلاف ورزی پر سزائیں
قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لائسنس منسوخ کر دیے جائیں گے اور انہیں 5 سال کے لیے بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ کی ایسی مارکیٹ جہاں پرندے ہول سیل ریٹ پر ملتے ہیں
اس کے علاوہ غیر قانونی شکار میں ملوث کیمپ لیڈروں کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔













