چاند کیسے بنا؟ سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں اہم سراغ ڈھونڈ لیے

جمعہ 4 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سائنسدانوں نے ایک حالیہ بڑی پیشرفت میں چاند کی تشکیل سے متعلق نئے اہم سراغ دریافت کیے ہیں جس نے طویل عرصے سے قائم نظریات کو چیلنج کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 2030 کی دہائی میں انسان چاند پر رہنے اور کام کرنے لگیں گے؟

سالوں سے چاند کی تشکیل سائنسدانوں کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی ہے کیونکہ وہ ابھی تک یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ چاند اصل میں بنا کیسے تھا۔

ایک نظریہ یہ کہتا ہے کہ چاند زمین اور مریخ کے سائز کے ایک جسم جسے ’تھیا‘ کہا جاتا ہے کے درمیان زبردست ٹکراؤ کے نتیجے میں بنا۔ اس ٹکراؤ سے ایک بہت بڑا ٹکڑا الگ ہوا جو بعد میں چاند بن گیا۔

محققین نے دریافت کیا ہے کہ ٹکراؤ سے پہلے زمین اور تھیا کی مادی مضبوطی اور درجہ حرارت نے چاند کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

پچھلے ماڈلز میں ٹکرانے والے اجسام کی ارضیاتی مضبوطی اور درجہ حرارت کو بڑی حد تک نظر انداز کیا جاتا تھا اور ان عوامل کو غیر متعلقہ سمجھا جاتا تھا۔

تاہم ساؤتھ ویسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں ایڈین ڈینٹن کی قیادت میں کی گئی نئی سمیولیشنز سے پتا چلتا ہے کہ مادی مضبوطی بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ گرم سیاراتی اجسام ٹھنڈے اجسام کے مقابلے میں ساختی طور پر کمزور ہوتے ہیں۔

ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز میں شائع ہونے والی نئی تحقیق میں ڈاکٹر ڈینٹن نے کہا کہ اس بات پر منحصر ہے کہ ٹکراؤ سے پہلے زمین اور تھیا کتنے گرم ہیں یہ ٹکراؤ تھیا کو تباہ کر سکتا ہے اور ملبے کی ایک بہت بڑی ڈسک بنا سکتا ہے جو آخر کار چاند بنتی ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان کی پہلی چاند گاڑی کا نام ’جناح-1‘ رکھ دیا گیا

انہوں نے مزید کہا کہ لیکن جب میں نے اصل امپیکٹ ماڈلنگ جیسے ہی پیرامیٹرز استعمال کیے یہاں تک کہ دونوں اجسام کے اندر درجہ حرارت کی ساخت بھی ایک جیسی رکھی تو تقریباً 5 گھنٹوں کے اندر ایک مکمل چاند نمودار ہو گیا۔

رابن کینپ وہ سائنسدان جنہوں نے سنہ 2001 میں ایک مقالے کے ذریعے چاند کی تشکیل کے لیے بڑے ٹکراؤ کے نظریے کو پیش کرنے میں مدد دی تھی نے ان نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے محققین کو اس واقعے کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔

تاہم یہ تحقیق اس بات کی وضاحت نہیں کرتی کہ چاند اور زمین ایک جیسے کیوں نظر آتے ہیں۔ ایک تجویز یہ ہے کہ زمین اور تھیا اصل میں ایک دوسرے کے قریب بنے تھے۔

ڈاکٹر ڈینٹن نے کہا کہ چونکہ زمین اور مریخ نظام شمسی کے ایک ہی پڑوس میں بنے ہیں اس لیے وہ بہن بھائیوں کی طرح ہیں۔ چاند اور زمین جڑواں بھائیوں کی طرح ہیں۔

مزید پڑھیں: ماہرین فلکیات کو چاند پر بھی ’اڑن طشتریاں‘ دکھائی دے گئیں، ماجرا کیا ہے؟

واضح رہے کہ چاند کا ٹکراؤ سے بننے والا نظریہ نیا نہیں بلکہ کئی دہائیوں پرانا ہے جسے ’جائنٹ امپیکٹ ہائپوتھیسس‘ کہا جاتا ہے جس کے مطابق آج سے ساڑھے 4 ارب سال پہلے زمین کا مریخ جتنے بڑے سیارے تھیا سے ٹکراؤ ہوا تھا۔ نئی تحقیق نے اسی پرانے نظریے کی مزید وضاحت کی ہے اور بتایا ہے کہ ٹکراؤ سے پہلے زمین اور تھیا کے درجہ حرارت اور مادی مضبوطی نے یہ طے کیا کہ چاند ملبے کی ڈسک سے بنا یا براہ راست ٹکراؤ کے چند گھنٹوں میں وجود میں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp