بلوچستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئے، جہاں پارٹی کے اراکین اسمبلی نے اپنے ہی پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر صادق عمرانی کے خلاف بلوچستان اسمبلی میں مشترکہ مذمتی قرارداد منظور کرالی۔
قرارداد میں صادق عمرانی کی جانب سے اسمبلی فلور اور اسلام آباد میں بلوچستان کے اراکین اسمبلی اور قبائلی رہنماؤں سے متعلق مبینہ طور پر نامناسب الفاظ کے استعمال کو قابل مذمت قرار دیا گیا۔ قرارداد پر بحث کے دوران پیپلز پارٹی کے اپنے اراکین نے بھی اپنے پارلیمانی لیڈر کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے ان کے بیان پر شدید تنقید کی، جس سے ایوان کا ماحول خاصا گرم ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کی مخلوط حکومت میں اختلافات، سرفراز بگٹی کی وزارت اعلیٰ خطرے میں؟
پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی علی مدد جتک نے قرارداد پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ صادق عمرانی نے اسلام آباد میں بلوچستان کے اراکین اسمبلی اور قبائلی عمائدین سے متعلق غیر مناسب زبان استعمال کی، جبکہ 31 اگست کے اسمبلی اجلاس میں بھی نامناسب الفاظ استعمال کیے گئے۔
علی مدد جتک کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں بلوچستان کے نمائندوں اور قبائلی رہنماؤں کو عزت دی گئی اور ان کی بات سنی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ملک اور جمہوریت کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں، اس لیے پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کی جانب سے ایسے بیانات قابل مذمت ہیں۔
پیپلز پارٹی کے رکن بخت محمد کاکڑ نے بھی اپنے پارلیمانی لیڈر کی زبان اور طرزِ بیان کو غیر مناسب قرار دیا۔
بخت محمد کاکڑ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں بلوچستان کے مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور یہ اپنی نوعیت کا ایک اہم اجلاس تھا، تاہم بلوچستان کے لیے ہونے والی مثبت پیش رفت کو متنازع بنانا مناسب نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نئے صوبوں کا قیام: بلوچستان میں کیا رائے پائی جاتی ہے؟
قرارداد پر بحث کے دوران صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب بخت محمد کاکڑ اور صادق عمرانی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور دونوں جانب سے سخت جملوں کا تبادلہ کیا گیا۔
صادق عمرانی نے تاہم اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ عسکری قیادت کی جانب سے کانفرنس کا انعقاد ایک مثبت اقدام تھا، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوریت اور ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں اور وہ بلوچستان کی حفاظت اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہمیشہ اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے بیان پر آج بھی قائم ہیں اور بلوچستان میں امن و امان اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
شدید بحث اور تلخ کلامی کے بعد بلوچستان اسمبلی نے صادق عمرانی کے خلاف مشترکہ مذمتی قرارداد منظور کرلی۔
سیاسی مبصرین کا موقف ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں اپنے ہی پارلیمانی لیڈر کے خلاف پیپلز پارٹی کے اراکین کی جانب سے قرارداد منظور ہونا محض ایک عام پارلیمانی واقعہ نہیں بلکہ پارٹی کے اندر موجود اختلافات کی ایک واضح علامت ہے۔ خاص طور پر جب پارٹی کے اپنے اراکین کھل کر اپنے پارلیمانی لیڈر کے خلاف ایوان میں مؤقف اختیار کریں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی صفوں میں ہم آہنگی کس حد تک موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تبدیلی کا زور، سرفراز بگٹی سے کون کتنا ناراض ہے؟
تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ واقعہ پارٹی قیادت کے لیے ایک سیاسی امتحان بھی ہے۔ اگر ان اختلافات کو بروقت ختم نہ کیا گیا تو اس کے اثرات صرف اسمبلی کے اندر تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پیپلز پارٹی کی سیاسی ساکھ اور بلوچستان میں اس کی تنظیمی صورتحال بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب یہ معاملہ بلوچستان کی سیاست میں ایک اہم پیغام بھی دیتا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس اور بلوچستان کے مسائل پر سیاسی جماعتوں کے اندر بھی یکساں رائے موجود نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ پیپلز پارٹی کی مرکزی اور صوبائی قیادت ان اختلافات کو اندرونی سطح پر حل کرتی ہے یا یہ معاملہ مستقبل میں پارٹی کے اندر مزید سیاسی تقسیم کا سبب بنتا ہے۔













