ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث کے بعد بلوچستان میں بھی اس معاملے پر سیاسی و عوامی سطح پر بحث شروع ہوگئی ہے، تاہم بلوچستان کی اپوزیشن جماعتوں سمیت مختلف سیاسی حلقے نئے صوبوں کے قیام کو مسائل کا حل قرار نہیں دے رہے جبکہ سیاسی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بلوچستان پہلے ہی مختلف مسائل کا شکار ہے، ایسے میں انتظامی یا سیاسی تقسیم سے مسائل کم ہونے کے بجائے سیاسی و لسانی اختلافات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
بلوچستان کے سینیئر صحافی و تجزیہ کار عرفان سعید نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام سے بلوچستان کے بنیادی مسائل حل ہوتے نظر نہیں آتے، کیونکہ صوبے میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ امن و امان اور سیکیورٹی کی صورتحال ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے حال ہی میں بنائے گئے نئے ڈویژن اور اضلاع پر بھی اختلافات سامنے آرہے ہیں، اس لیے اتنے بڑے فیصلے سیاسی جماعتوں اور عوام کو اعتماد میں لیے بغیر کیے گئے تو ان پر عملدرآمد مشکل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:نئے صوبے عوام کی مرضی سے بننے چاہییں، تحفظات دور ہونے تک ن لیگ کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے، بلاول بھٹو
عرفان سعید کے مطابق بلوچستان کی سیاسی جماعتیں بھی اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ نئے صوبے مسائل کا حل نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں پہلے ہی مختلف قوموں اور سیاسی حلقوں کے درمیان فاصلے موجود ہیں، نئے صوبوں کی بحث سے یہ اختلافات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں نئے صوبے بنانے کے بجائے امن و امان بہتر بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ترقیاتی مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول خاران جیسے بڑے رقبے کے علاقے کی آبادی تقریباً 6 لاکھ ہے، اگر کم آبادی پر مشتمل الگ صوبے بنائے گئے تو این ایف سی ایوارڈ کے تحت وسائل کی تقسیم میں انہیں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے، کیونکہ آبادی وسائل کی تقسیم کا ایک اہم معیار ہے۔
دوسری جانب بلوچستان کے سینیئر صحافی و تجزیہ کار سید علی شاہ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام پر ملک بھر سمیت بلوچستان میں بھی بحث جاری ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ بلوچستان میں نئے صوبے کن علاقوں پر مشتمل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر نئے انتظامی یونٹس یا صوبے بنائے جاتے ہیں تو جغرافیائی قربت، آبادی، فاصلے اور مواصلاتی رابطوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہوگی۔ ان کے مطابق ایسے علاقوں کو ایک انتظامی یونٹ میں شامل کیے جانے کا امکان زیادہ ہوگا جو ایک دوسرے کے قریب ہوں اور جہاں لوگوں کے لیے آمدورفت اور انتظامی امور آسان ہوں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں کون سے نئے صوبے بننے چاہئیں؟ اراکین پارلیمنٹ کی رائے
سید علی شاہ نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ژوب اور گوادر جیسے انتہائی دور دراز علاقوں کو ایک ہی صوبے میں شامل کرنا عملی طور پر مشکل ہوگا کیونکہ دونوں کے درمیان فاصلہ ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی ممکنہ حدود کے بارے میں اس وقت حتمی رائے دینا قبل از وقت ہے۔
بلوچستان میں ممکنہ نئے صوبے کہاں بن سکتے ہیں؟
سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بلوچستان کو نئے صوبوں یا بڑے انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کی تجویز آگے بڑھتی ہے تو جغرافیائی اور انتظامی بنیادوں پر مختلف امکانات زیر بحث آسکتے ہیں۔ ایک ممکنہ تقسیم میں شمالی بلوچستان کے پشتون اکثریتی اضلاع، وسطی بلوچ علاقوں اور مکران ڈویژن کے اضلاع کو الگ انتظامی یونٹس کی شکل دینے کی تجاویز سامنے آسکتی ہیں۔ تاہم فی الحال کسی مخصوص نقشے یا اضلاع کی حتمی تقسیم پر اتفاق موجود نہیں۔
عوام کو کیا فائدہ ہوگا؟
ماہرین کا مؤقف ہے کہ بڑے صوبے کو چھوٹے انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے سے حکومت عوام کے قریب آسکتی ہے، دور دراز علاقوں میں انتظامی سہولیات کی فراہمی بہتر ہوسکتی ہے اور ترقیاتی منصوبوں، صحت، تعلیم، روزگار اور دیگر سرکاری خدمات تک رسائی آسان ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نئے صوبے بنیں یا نہیں؟ سوشل میڈیا پر صارفین کی آرا منقسم
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ صرف صوبہ یا انتظامی یونٹ بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اگر نئے صوبوں کے ساتھ اضافی مالی وسائل، بہتر انتظامی ڈھانچہ، امن و امان اور روزگار کے مواقع پیدا نہ کیے گئے تو تقسیم سے عوام کو خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچ سکے گا۔
بلوچستان میں جاری بحث کا بنیادی سوال یہی ہے کہ آیا صوبے کو مزید انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے سے عوام کی محرومیوں کا ازالہ ہوگا یا موجودہ انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنا کر امن، روزگار اور ترقی پر توجہ دینا زیادہ مؤثر راستہ ہوگا۔













