یورپ اپنے سونے کے ذخائر شمالی امریکا سے کیوں منتقل کررہا ہے؟

ہفتہ 5 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور معاشی غیر یقینی کے باعث مرکزی بینک اپنے سونے کے ذخائر کے تحفظ اور فوری دستیابی پر زیادہ توجہ دینے لگے ہیں۔

اسی سلسلے میں نیدرلینڈز کے مرکزی بینک نے امریکا اور کینیڈا میں موجود اپنے سونے کے ذخائر میں سے 86 ٹن سونا لندن منتقل کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سونے اور چاندی کی قیمتوں میں عالمی اور مقامی مارکیٹ میں اضافہ

ڈچ مرکزی بینک کے مطابق مارچ سے اگست کے دوران منتقل کیا گیا سونا اب بینک آف انگلینڈ کے محفوظ خزانے میں رکھا گیا ہے۔

نیدرلینڈز کے پاس امریکا اور کینیڈا میں مجموعی طور پر تقریباً 313 ٹن سونا موجود تھا۔

بینک کا کہنا ہے کہ سونے کی منتقلی کا مقصد کسی فوری معاشی بحران کی پیش گوئی نہیں بلکہ ملک کو ممکنہ شدید بحرانوں سے نمٹنے کے لیے زیادہ مضبوط اور تیار رکھنا ہے۔

مرکزی بینک کے گورنر اولاف سلیپن نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ان ذخائر کو کبھی استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، تاہم موجودہ عالمی حالات میں ملکی مالیاتی ذخائر کی لچک اور بحران سے نمٹنے کی صلاحیت مضبوط کرنا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا کینیڈا تجارتی مذاکرات ناکام، ٹرمپ کی ٹیرف بڑھانے کی دھمکی

لندن کو سونے کے ذخیرے کے لیے اس لیے منتخب کیا گیا کہ یہ دنیا کے اہم ترین سونے کے تجارتی مراکز میں شامل ہے۔

بینک آف انگلینڈ دنیا کے بڑے سونے کے محافظ اداروں میں شمار ہوتا ہے اور اس کے زیرِ حفاظت تقریباً 400,000 سونے کی اینٹیں موجود ہیں، جن کی مجموعی مالیت 200 ارب پاؤنڈ سے زائد ہے۔

ماہرین کے مطابق نیدرلینڈز کا اقدام غیر معمولی نہیں، کیونکہ فرانس بھی رواں سال امریکا سے اپنے سونے کے ذخائر واپس منتقل کرنے کا اعلان کرچکا ہے۔

دوسری جانب جرمنی کا مرکزی بینک گزشتہ برسوں میں نیویارک اور پیرس سے 216 ٹن سے زائد سونا منتقل کرچکا ہے۔

مزید پڑھیں: لیک اونٹاریو یا لیک امریکا؟ کینیڈا نے ٹرمپ کا فیصلہ مسترد کردیا

ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق جنگوں، تجارتی تنازعات اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے علاوہ افراطِ زر، شرح سود اور سونے کو ایسے مقام پر رکھنے کی ضرورت جہاں اسے فوری طور پر خریدا یا فروخت کیا جاسکے، بھی مرکزی بینکوں کے فیصلوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔

گزشتہ 4 برسوں کے دوران مرکزی بینکوں نے سالانہ اوسطاً تقریباً ایک ہزار ٹن سونا خریدا، جو اس سے پچھلی دہائی کی 500 ٹن سالانہ اوسط سے تقریباً دوگنا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا، کینیڈا اور یورپ میں بھارتی جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 24 ملزمان گرفتار

سونے کی بڑھتی ہوئی طلب نے اس کی قیمت کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ جنوری 2026 میں سونے کی قیمت پہلی بار 5,000 ڈالر فی ٹرائے اونس سے تجاوز کرگئی تھی۔

اگرچہ قیمت ریکارڈ سطح سے کچھ نیچے آئی ہے، تاہم تاریخی اعتبار سے اب بھی بلند ہے۔

گولڈمین ساکس کے مطابق 2026 کے اختتام تک سونے کی قیمت 4,900 ڈالر فی ٹرائے اونس تک پہنچ سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp