بلوچستان میں سیکیورٹی کارروائیوں پر سوال اٹھانے والے اختر مینگل کو دہشتگردی کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان، شہریوں کے اغوا و قتل اور سرکاری و عوامی تنصیبات کی تباہی پر بھی واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
سنجیدہ حلقوں کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر انسانی جانیں اور بلوچستان کے عوام کے حقوق اولین ترجیح ہیں تو پھر دہشتگرد حملوں میں جاں بحق ہونے والے شہریوں اور پاکستان آرمی و فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کی زندگیوں کو بھی اسی اہمیت کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔ دہشتگردوں کی جانب سے سڑکوں، پلوں، پولیس اسٹیشنز، اسکولوں، بجلی کی تنصیبات اور دیگر عوامی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی بھی مذمت ہونی چاہیے۔
نوشکی ،مستونگ، کھڈکوچاہ سے علاقہ مکینوں کی بیدخلی اور برسوں سے آباد باغات کی کٹائی بلوچ علاقوں پر قبضہ گیری کی واضح مثال ہے ، ریاست کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ طاقتور کا مقابلہ نہ کرنے کی صورت اپنے ناکامی اور غصے کا اظہار اسی انداز میں کرکے خوف کا عالم پیدا کرنا چاہتی ہے مگر اُس…
— Akhtar Mengal (@sakhtarmengal) September 4, 2026
سنجیدہ حلقوں کے مطابق اگر کسی باغ یا دیگر نجی جگہ کو عسکریت پسند مبینہ طور پر ریاستی کارروائی سے بچنے کے لیے استعمال کر رہے ہوں اور مالکان اس سے لاعلم ہوں تو یہ سوال بھی اہم ہے کہ زمین کے منتظمین اور وہاں کام کرنے والے افراد کو اس سرگرمی کا بالکل علم کیسے نہ ہوسکا۔ تاہم کسی بھی شہری کی ملکیت اور جان و مال کا تحفظ بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
اختر مینگل سے سوال کیا گیا کہ بلوچستان میں شہریوں کے اغوا، قتل، دہشت زدہ کیے جانے، تاجروں پر حملوں، تجارتی گاڑیوں کی تباہی اور آمدورفت و معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے والے مسلح گروہوں کے خلاف بھی اسی شدت سے آواز کیوں نہیں اٹھائی جاتی۔
بلوچستان کے عوام کو کسی ایک فریق کے بیانیے کے بجائے امن، عزت، ترقی، احتساب اور تحفظ کی ضرورت ہے۔ سیکیورٹی اقدامات پر سوال اٹھانا ایک جمہوری حق ہے، تاہم دہشتگردی اور مسلح تشدد کے محرکات کو نظرانداز کرکے ہر سیکیورٹی کارروائی کو محض ’قبضہ‘ یا ’غاصبانہ اقدام‘ قرار دینا مکمل تجزیہ نہیں۔ بلوچستان کے شہریوں کا تحفظ ریاستی اداروں اور مسلح گروہوں سمیت ہر جانب سے ہونے والے غیر قانونی تشدد سے یقینی بنایا جانا چاہیے۔














