شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی جانیں بھی اہم، اختر مینگل سے مؤقف واضح کرنے کا مطالبہ

ہفتہ 5 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان میں سیکیورٹی کارروائیوں پر سوال اٹھانے والے اختر مینگل کو دہشتگردی کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان، شہریوں کے اغوا و قتل اور سرکاری و عوامی تنصیبات کی تباہی پر بھی واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔

سنجیدہ حلقوں کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر انسانی جانیں اور بلوچستان کے عوام کے حقوق اولین ترجیح ہیں تو پھر دہشتگرد حملوں میں جاں بحق ہونے والے شہریوں اور پاکستان آرمی و فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کی زندگیوں کو بھی اسی اہمیت کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔ دہشتگردوں کی جانب سے سڑکوں، پلوں، پولیس اسٹیشنز، اسکولوں، بجلی کی تنصیبات اور دیگر عوامی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی بھی مذمت ہونی چاہیے۔

سنجیدہ حلقوں کے مطابق اگر کسی باغ یا دیگر نجی جگہ کو عسکریت پسند مبینہ طور پر ریاستی کارروائی سے بچنے کے لیے استعمال کر رہے ہوں اور مالکان اس سے لاعلم ہوں تو یہ سوال بھی اہم ہے کہ زمین کے منتظمین اور وہاں کام کرنے والے افراد کو اس سرگرمی کا بالکل علم کیسے نہ ہوسکا۔ تاہم کسی بھی شہری کی ملکیت اور جان و مال کا تحفظ بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔

 اختر مینگل سے سوال کیا گیا کہ بلوچستان میں شہریوں کے اغوا، قتل، دہشت زدہ کیے جانے، تاجروں پر حملوں، تجارتی گاڑیوں کی تباہی اور آمدورفت و معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے والے مسلح گروہوں کے خلاف بھی اسی شدت سے آواز کیوں نہیں اٹھائی جاتی۔

بلوچستان کے عوام کو کسی ایک فریق کے بیانیے کے بجائے امن، عزت، ترقی، احتساب اور تحفظ کی ضرورت ہے۔ سیکیورٹی اقدامات پر سوال اٹھانا ایک جمہوری حق ہے، تاہم دہشتگردی اور مسلح تشدد کے محرکات کو نظرانداز کرکے ہر سیکیورٹی کارروائی کو محض ’قبضہ‘ یا ’غاصبانہ اقدام‘ قرار دینا مکمل تجزیہ نہیں۔ بلوچستان کے شہریوں کا تحفظ ریاستی اداروں اور مسلح گروہوں سمیت ہر جانب سے ہونے والے غیر قانونی تشدد سے یقینی بنایا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp