امریکا میں ایک ایسے مبینہ ایم ایس 13 گینگ رکن کی رہائی پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے جسے ایل سلواڈور میں قتل کے مقدمے میں سزا سنائی جا چکی ہے۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکریٹری مارک وین مولن نے وفاقی جج کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس اقدام سے امریکی شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
فوکس نیوز کے مطابق 35 سالہ ڈیوڈ انتونیو ایویلس پیریز، جسے ’دی وِچ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، مبینہ طور پر ایم ایس 13 کا سرگرم رکن ہے۔ ایل سلواڈور میں اسے 2014 میں ہونے والے ایک وحشیانہ قتل کے مقدمے میں دسمبر 2025 میں مجرم قرار دے کر 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ استغاثہ کے مطابق مقتول کو گینگ ارکان نے پکڑ کر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا، جس کے بعد اسے سینے، کمر اور چہرے پر گولیاں ماری گئیں۔
DHS says a Biden-appointed federal judge ordered the immediate release of an MS-13 gang member convicted in an execution-style murder in El Salvador — ruling that ICE held him for five months without a bond hearing or individualized assessment of whether he posed a danger to the… pic.twitter.com/84fsa2mQ9j
— Fox News Politics (@foxnewspolitics) September 6, 2026
رپورٹ کے مطابق ایویلس پیریز امریکا میں بھی گرفتار ہو چکا ہے۔ 2023 میں کیلیفورنیا کے مونٹیری میں اسے مبینہ طور پر ایک بے گھر شخص پر چاقو نما بڑی تلوار (مچیٹے) لہرانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اسے دوبارہ حراست میں لیا گیا اور سان ڈیاگو کے اوٹے میسا حراستی مرکز میں رکھا گیا۔
فوکس نیوز کے مطابق امریکی ڈسٹرکٹ جج جن سوک اوہٹا نے 26 اگست کو اسے فوری رہا کرنے کا حکم دیا۔ جج نے قرار دیا کہ امیگریشن حکام نے تقریباً 5 ماہ تک اسے حراست میں رکھنے کے باوجود اس بات کا انفرادی جائزہ نہیں لیا کہ آیا وہ عوام کے لیے خطرہ یا فرار ہونے کا خدشہ رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا میں شوہر کے ہاتھوں بھارتی نژاد گوگل انجینیئرقتل، بیٹا بھی زخمی
محکمہ ہوم لینڈ کے سیکریٹری مولن نے جج کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ خطرناک شخص دوسری مرتبہ کیلیفورنیا کی سڑکوں پر آزاد ہوا ہے۔ تاہم جج کا فیصلہ ایویلس پیریز کو بے قصور قرار نہیں دیتا بلکہ اس میں صرف اس امر پر توجہ دی گئی ہے کہ اسے حراست میں رکھنے کے لیے قانونی طریقہ کار مکمل کیا گیا یا نہیں۔














