بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے ستیا نکیتن میں ایک عمارت اچانک منہدم ہوگئی، جس کے ملبے تلے متعدد افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ امدادی ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے 6 افراد کو زندہ نکال لیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق حادثہ اتوار کی دوپہر جنوب مغربی دہلی کے گنجان آباد علاقے ستیا نکیتن میں پیش آیا۔ عمارت کے اچانک گرنے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور ملبے تلے کئی افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاعات ملنے پر فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی گئی۔
دہلی فائر سروس، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، جبکہ 12 فائر ٹینڈرز سمیت متعدد ریسکیو ٹیموں کو بھی جائے حادثہ پر روانہ کیا گیا۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر آمدورفت محدود کردی تاکہ امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہ آئے۔
#BREAKING | A building collapsed near Satya Niketan in South-West Delhi on Sunday afternoon, with several people feared trapped inside, police said.
Eight fire tenders are present at the site as rescue personnel are currently carrying out operations to search for and evacuate… pic.twitter.com/c0C44Or3VP
— Hindustan Times (@htTweets) September 6, 2026
مقامی افراد اور عینی شاہدین بھی امدادی کارروائی میں شامل ہوگئے اور اپنے ہاتھوں اور دستیاب آلات کی مدد سے ملبہ ہٹانے کی کوشش کی۔ ریسکیو ٹیموں نے ملبے سے اب تک 6 افراد کو بحفاظت نکال لیا ہے، تاہم مزید افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کے خدشے کے پیش نظر سرچ آپریشن جاری ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی ٹیمیں بھی موقع پر پہنچ گئی ہیں اور جدید آلات کے ذریعے ملبے میں پھنسے افراد کی تلاش کی جارہی ہے۔ امدادی اہلکار انتہائی احتیاط سے ملبہ ہٹا رہے ہیں تاکہ ممکنہ طور پر زندہ افراد کو مزید نقصان نہ پہنچے۔
دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے عمارت گرنے کے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملبے تلے پھنسے افراد کو بحفاظت نکالنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے اور وہ خود صورتحال کی مسلسل نگرانی کررہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:دہلی میں ہولناک سانحہ: بیٹے نے ماں، باپ اور بھائی کو قتل کر ڈالا
ستیا نکیتن دہلی کا گنجان آباد علاقہ ہے جہاں بڑی تعداد میں طلبہ رہائش پذیر ہیں، خصوصاً دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس میں زیر تعلیم طلبہ کے لیے یہاں متعدد ہاسٹلز اور رہائشی سہولیات موجود ہیں۔ حادثے کے بعد علاقے میں موجود طلبہ اور رہائشیوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ملبے کی مکمل تلاشی تک آپریشن جاری رہے گا اور مزید افراد کے بارے میں حتمی صورتحال ریسکیو کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔














