پارکنگ میں چھپکلی کی اطلاع، اہلکار کو ’جارح مزاج‘ دیو قامت مانیٹر سے واسطہ پڑگیا

اتوار 6 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ریاست میساچوسٹس میں پارکنگ لاٹ میں چھپکلی کی اطلاع پر پہنچنے والے جانوروں کے کنٹرول کے اہلکار کو اس وقت غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب وہاں عام چھپکلی کے بجائے ایک بڑی اور جارح مزاج مانیٹر چھپکلی گاڑی کے پہیے کے اندر چھپی ہوئی ملی۔

یونیائی پریس انٹرنیشنل (یو پی آئی) کے مطابق میساچوسٹس کے شہر برلنگٹن میں جانوروں کے کنٹرول کی افسر جیمی جیفری کو ایک پارکنگ میں غیر ملکی نسل کی چھپکلی موجود ہونے کی اطلاع ملی۔ وہ موقع پر پہنچیں تو معلوم ہوا کہ چھپکلی ایک گاڑی کے وہیل ویل میں گھسی ہوئی ہے اور بظاہر وہاں سے نکلنے کے موڈ میں نہیں تھی۔

جیمی جیفری نے صورتحال دیکھ کر اسے پکڑنے کی کوشش کی، مگر چھپکلی نے بھی آسانی سے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا۔ جیفری کے مطابق یہ کوئی عام پالتو چھپکلی نہیں بلکہ مینگروو مانیٹر تھی، جو آسٹریلیا، نیو گنی اور انڈونیشیا کے علاقوں میں پائی جاتی ہے اور نسبتاً جارح مزاج سمجھی جاتی ہے۔

انہوں نے ’بوسٹن گلوب‘ کو بتایا کہ چھپکلی پکڑے جانے پر بالکل آمادہ نہیں تھی۔ ان کے مطابق اس قسم کے رینگنے والے جانور کو پالنے کے لیے خاصی مہارت اور معلومات درکار ہوتی ہیں۔

صورت حال کچھ مشکل ہوئی تو جیفری نے کیمبرج اینیمل کنٹرول سے مدد طلب کی۔ دونوں ٹیموں نے مل کر کافی جدوجہد کے بعد بالآخر چھپکلی کو قابو کرلیا اور اسے دیکھ بھال کے لیے رین فاریسٹ رپٹائل شوز منتقل کردیا۔

معائنے کے دوران چھپکلی کی مجموعی صحت اچھی پائی گئی، تاہم اس کے سر پر ایک معمولی زخم موجود تھا۔ جیفری کے مطابق زخم کی نوعیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ جانور اپنے پنجرے سے فرار ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:5 فٹ لمبا آبی چھپکلی نما جانور 2 ریاستوں کو چکمہ دینے کے بعد گرفتار

دلچسپ بات یہ ہے کہ میساچوسٹس میں اس نسل کی چھپکلی کو بغیر اجازت پالتو جانور کے طور پر رکھنا قانونی نہیں۔ اب حکام اس کے مالک کی تلاش میں ہیں تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ اسے قانونی طور پر پالا جارہا تھا یا نہیں۔

جیمی جیفری کا کہنا ہے کہ یہ واضح طور پر کسی کا پالتو جانور تھا جس کی دیکھ بھال کی جاتی رہی ہے، اس لیے حکام امید کررہے ہیں کہ اس کا مالک خود سامنے آئے گا اور اسے واپس لے جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp