پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ اور اداکارہ مومنہ اقبال کے درمیان جاری تنازع نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے، جہاں ثاقب چدھڑ نے ایک انٹرویو کے دوران اداکارہ اور ان کی بہن رمشا اقبال سے متعلق متعدد دعوے کیے ہیں۔
ثاقب چدھڑ کے مطابق انہوں نے رمشا اقبال کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے آسٹریلیا منتقل ہونے میں مدد فراہم کی اور بعد ازاں اپنی کمپنی میں انہیں ملازمت بھی دی۔
ان کا دعویٰ ہے کہ آسٹریلیا میں قیام کے دوران رمشا اقبال نے ان کے کاروباری شراکت دار کے خلاف ہراسانی کا مقدمہ درج کرایا، جو بعد میں مبینہ طور پر مالی معاملات طے ہونے کے بعد ختم ہوگیا۔
ن لیگی رکن اسمبلی نے الزام عائد کیاکہ بعد ازاں دونوں بہنوں کی جانب سے ان کے خلاف بھی اسی نوعیت کا طریقہ اختیار کرنے کی کوشش کی گئی۔
ثاقب چدھڑ نے مزید دعویٰ کیاکہ مومنہ اقبال ان کی ازدواجی حیثیت سے مکمل طور پر آگاہ تھیں، اس کے باوجود وہ ان کے ساتھ دوسری شادی پر رضامند تھیں۔
ان کے مطابق اداکارہ کے وکیل کی جانب سے بھی بھاری رقم کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ مختلف مواقع پر معاملہ کروڑوں روپے میں طے کرنے کی پیشکش کی گئی۔
ثاقب چدھڑ کا کہنا ہے کہ ان دعوؤں سے متعلق شواہد بھی ان کے پاس موجود ہیں اور انہوں نے ان کے پیش کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب مومنہ اقبال پہلے ہی ثاقب چدھڑ پر ہراسانی کے الزامات عائد کر چکی ہیں اور معاملہ متعلقہ اداروں تک لے جا چکی ہیں۔
واضح رہے کہ دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے حوالے سے مختلف الزامات اور دعوے سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ مزید توجہ حاصل کررہا ہے۔














