امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مختلف مقامات کے نام تبدیل کرنے کی مہم میں اتوار کو ایک نیا اور غیر متوقع ہدف سامنے آگیا، جب انہوں نے ریاست نیو میکسیکو کا نام تبدیل کرکے ’نیو امریکا‘ رکھنے کی تجویز پیش کردی۔
ٹرمپ کی تجویز کو ریاست کی گورنر مشیل لوجان گریشم نے فوری طور پر یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ ریاست کا نام کسی بحث کا موضوع نہیں، کیونکہ یہ نام امریکا کے موجودہ ملک کی تشکیل سے بھی پہلے سے موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے جھیل اونٹاریو کا نام ’لیک امریکا‘ رکھ دیا، مصنوعی ذہانت سے تیار ویڈیو بھی جاری
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’بہت سے لوگوں نے نیو میکسیکو کا نام تبدیل کرکے نیو امریکا رکھنے کی تجویز دی ہے۔
’اس ممکنہ طور پر ناقابلِ یقین ریاست کے لوگوں کے لیے یہ نام کہیں زیادہ باوقار اور خوبصورت ہوگا، واہ! مجھے یہ بہت پسند ہے۔‘
Trump: Many people suggested changing the name of New Mexico, one of the great vote cheating states of all time, to NEW AMERICA. pic.twitter.com/iKtMGo9R7c
— Republicans against Trump (@RpsAgainstTrump) September 7, 2026
وائٹ ہاؤس نے بھی ایک تصویر دوبارہ شیئر کی، جس میں ریاست کے نام میں موجود لفظ ’میکسیکو‘ کو کاٹ کر اس کی جگہ ’امریکا‘ لکھا گیا تھا۔
امریکی میڈیا کی بعض رپورٹس کے مطابق نیو میکسیکو کا نام تبدیل کرنے کی تجویز دراصل انٹرنیٹ پر پھیلنے والے ایک مذاق یا جعلی مہم سے شروع ہوئی تھی۔
ریاست نیو میکسیکو کی گورنر مشیل لوجان گریشم کا کہنا تھا کہ ریاست کا نام تبدیل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
مزید پڑھیں: کینیڈا میں ٹرمپ ایونیو کا نام تبدیل ہونے کا امکان، ’ٹیکو ایونیو‘ سمیت مختلف نام زیرِ غور
’یہ نام زیر بحث نہیں ہے، یہ ہمارا نام اس وقت سے ہے جب امریکا بھی موجود نہیں تھا۔‘
گورنر نے الزام عائد کیا کہ صدر ٹرمپ نام تبدیل کرنے جیسے معاملات کے ذریعے امریکی عوام کی توجہ بڑھتی ہوئی پیٹرول کی قیمتوں سمیت دیگر اہم مسائل سے ہٹانا چاہتے ہیں۔
ٹرمپ اس سے قبل بھی مختلف جغرافیائی مقامات کے نام تبدیل کرنے کی تجاویز اور اقدامات پیش کرچکے ہیں۔
مزید پڑھیں:لیک اونٹاریو یا لیک امریکا؟ کینیڈا نے ٹرمپ کا فیصلہ مسترد کردیا
گزشتہ ہفتے انہوں نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے تناظر میں آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کرکے ’ٹرمپ آبنائے‘ رکھنے کی تجویز دی تھی، تاہم چند گھنٹے بعد ان کے بیانات سے عندیہ ملا کہ وہ اس منصوبے کے بارے میں سنجیدہ نہیں تھے۔
جنوری 2025 میں وائٹ ہاؤس میں واپسی کے پہلے ہی روز ٹرمپ نے خلیج میکسیکو کا نام تبدیل کرکے ’خلیج امریکا‘ رکھنے کا حکم دیا تھا، جسے میکسیکو نے مسترد کردیا تھا۔
اسی طرح کینیڈا نے بھی لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’لیک امریکا‘ رکھنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی کوشش کو مسترد کردیا ہے۔














