شنگلز ایک تکلیف دہ بیماری ہے جو جسم میں پہلے سے موجود چکن پاکس کے وائرس کے دوبارہ فعال ہونے سے پیدا ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں شدید درد، جلن اور جسم کے کسی حصے پر چھالوں سمیت مختلف علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔ اب ایک نئی تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ شنگلز کی موجودہ ویکسین نہ صرف بیماری سے تحفظ فراہم کرسکتی ہے بلکہ اس کے استعمال کے بعد دل اور خون کی شریانوں سے متعلق بیماریوں کے خطرے میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چکن پاکس کیا ہے اور بچوں کو اس سے بچاؤ کی ویکسین کیسے لگوائی جاسکتی ہے؟
چکن پاکس کے عارضے سے صحت یاب ہونے کے بعد وائرس جسم سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا بلکہ اعصابی نظام کے قریب غیر فعال حالت میں موجود رہتا ہے۔ کئی برس بعد جب جسم کی مخصوص مدافعتی صلاحیت کمزور پڑتی ہے تو یہ وائرس دوبارہ فعال ہو کر شنگلز کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
اس کی ابتدائی علامات میں جسم کے کسی ایک حصے میں جلن، سنسناہٹ، خارش، سوئیاں چبھنے جیسا احساس یا شدید درد شامل ہو سکتا ہے اور عموماً چند دن بعد اسی حصے میں سرخ دانے اور پانی سے بھرے چھالے نمودار ہوتے ہیں۔ یہ دانے زیادہ تر جسم کے ایک ہی طرف، کمر، سینے یا چہرے پر ایک پٹی کی شکل میں نکلتے ہیں اور عموماً جسم کے درمیان والی لکیر کو پار نہیں کرتے۔ بعض افراد کو بخار، سردرد، کپکپی یا طبیعت میں خرابی بھی محسوس ہو سکتی ہے۔
شنگلز کتنے عرصے تک رہتا ہے اور اس کی تکلیف کتنی شدید ہو سکتی ہے؟
شنگلز کے چھالے عموماً 7 سے 10 دن میں خشک ہو کر پپڑی بنانا شروع کر دیتے ہیں اور زیادہ تر افراد میں دانے 2 سے 4 ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ تاہم بیماری کی سب سے تکلیف دہ پیچیدگیوں میں سے ایک اعصابی درد ہے جسے پوسٹ ہرپیٹک نیورلجیا کہا جاتا ہے۔ اس میں دانے ختم ہونے کے باوجود اسی جگہ کئی ماہ بلکہ بعض اوقات برسوں تک جلن، چبھن یا شدید درد رہ سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: شِنگلز ویکسین تکلیف سے بچاؤ کے علاوہ مزید کیا فائدہ پہنچاتی ہے؟
اس پیچیدگی کا خطرہ عمر بڑھنے کے ساتھ زیادہ ہوتا ہے جبکہ 40 سال سے کم عمر افراد میں یہ نسبتاً کم پایا جاتا ہے۔ شنگلز اگر آنکھ کے قریب ہو تو بینائی کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے جبکہ کان یا چہرے کے اعصاب متاثر ہونے کی صورت میں سماعت یا چہرے کے پٹھوں سے متعلق مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
کیا شنگلز مدافعتی نظام کو کمزور کرتا ہے؟
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ شنگلز کو عام طور پر ایسی بیماری نہیں سمجھا جاتا جو صحت مند شخص کے پورے مدافعتی نظام کو مستقل طور پر کمزور کر دے۔ دراصل اکثر صورتوں میں مدافعتی نظام کی کمزوری ہی شنگلز کے دوبارہ فعال ہونے کی ایک اہم وجہ بنتی ہے۔
عمر بڑھنے کے ساتھ وائرس کو قابو میں رکھنے والی مخصوص مدافعتی صلاحیت کم ہو سکتی ہے جبکہ بعض بیماریوں اور علاج، مثلاً کینسر، ایچ آئی وی، اعضا کی پیوند کاری، کیموتھراپی یا مدافعتی نظام کو دبانے والی ادویات سے بھی خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ شنگلز کے دوران جسم وائرس کے خلاف مدافعتی ردعمل ضرور پیدا کرتا ہے مگر یہ کہنا درست نہیں کہ بیماری ختم ہوتے ہی مدافعتی نظام کو لازماً اتنے مخصوص دنوں یا ہفتوں میں مکمل طور پر معمول پر آ جاتا ہے۔ صحت یابی کا دورانیہ فرد کی مجموعی صحت اور مدافعتی حالت کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔
کیا شنگلز دوبارہ بھی ہو سکتا ہے؟
ایک بار شنگلز ہو جانے کے بعد یہ لازماً زندگی بھر کے لیے ختم نہیں ہو جاتا اور دوبارہ بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم زیادہ تر لوگوں کو زندگی میں صرف ایک مرتبہ شنگلز ہوتا ہے۔
دوبارہ ہونے کی صورت میں اس کی شدت لازماً پہلی مرتبہ سے کم نہیں ہوتی بلکہ بیماری کی شدت کا انحصار عمر، مدافعتی نظام اور دیگر طبی عوامل پر ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد میں شنگلز زیادہ شدید، طویل یا جسم کے وسیع حصے میں پھیل سکتا ہے۔ اسی لیے پہلے شنگلز ہو چکا ہو تب بھی بعض افراد کے لیے ویکسین کی ضرورت برقرار رہتی ہے۔
بڑی عمر سے پہلے شنگلز کیوں ہو جاتا ہے؟
اگرچہ شنگلز کا خطرہ 50 سال کی عمر کے بعد نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے لیکن یہ صرف بڑی عمر کے لوگوں کی بیماری نہیں۔ کم عمر افراد میں بھی یہ ہو سکتا ہے اور اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ کسی بیماری یا علاج کی وجہ سے مدافعتی نظام کمزور ہو گیا ہو۔ کینسر، ایچ آئی وی، اعضا یا بون میرو کی پیوند کاری، کیموتھراپی اور بعض ایسی ادویات جو مدافعتی نظام کو دباتی ہیں خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ بعض اوقات کسی نوجوان یا صحت مند شخص میں بھی وائرس دوبارہ فعال ہو جاتا ہے اور کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آتی۔
مزید پڑھیں: خواتین پر گھر کے ذہنی بوجھ کی ذمہ داری زیادہ کیوں، اسے کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟
طبی ماہرین کے مطابق جسمانی یا ذہنی دباؤ بھی بعض افراد میں کردار ادا کر سکتا ہے لیکن ہر کیس میں شنگلز کی ایک مخصوص وجہ تلاش کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
شنگلز کی صورت میں بروقت علاج کیوں ضروری ہے؟
شنگلز کی علامات ظاہر ہونے کے بعد جلد از جلد ڈاکٹر سے رابطہ کرنا اہم ہے۔ اینٹی وائرل ادویات کا فائدہ خاص طور پر بیماری کے ابتدائی مرحلے میں زیادہ ہوتا ہے اور عام طور پر علامات یا دانے ظاہر ہونے کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر علاج شروع کرنا زیادہ مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ اگر دانے آنکھ یا ناک کے قریب ہوں، بینائی متاثر ہو رہی ہو یا مریض کا مدافعتی نظام کمزور ہو تو فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ شنگلز براہ راست دوسرے شخص کو شنگلز نہیں لگتا لیکن چھالوں کے پانی میں موجود وائرس ایسے شخص کو چکن پاکس منتقل کر سکتا ہے جسے پہلے چکن پاکس نہیں ہوا یا جسے اس کے خلاف ویکسین نہیں لگی۔ اس لیے چھالے خشک ہونے تک انہیں ڈھانپ کر رکھنا اور حاملہ خواتین، نومولود بچوں اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد سے قریبی رابطے سے گریز کرنا ضروری ہے۔
شنگلز کی ویکسین سے امراض قلب کے خطرے میں 9 فیصد کمی کا انکشاف
نئی تحقیق میں شنگلز سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے والے افراد میں 7 سال کے دوران دل اور خون کی شریانوں سے متعلق بیماریوں کے مجموعی بوجھ میں 9 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔
شنگلز ایک تکلیف دہ بیماری ہے جو جسم میں پہلے سے موجود چکن پاکس کے وائرس کے دوبارہ فعال ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ عام طور پر عمر بڑھنے کے ساتھ اس بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اب ایک نئی تحقیق میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ شنگلز سے بچاؤ کی ویکسین کا فائدہ صرف اس بیماری سے تحفظ تک محدود نہیں ہو سکتا بلکہ یہ دل اور خون کی شریانوں کی صحت کے لیے بھی ممکنہ طور پر مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کیا بڑھتی عمر کی رفتار سست کی جا سکتی ہے؟ نئی تحقیق سے اہم اشارے
طبی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق شنگلز کی نئی ویکسین لگوانے والے افراد میں ویکسین لگوانے کے بعد 7 برس کے دوران امراض قلب کے مجموعی بوجھ میں 9 فیصد کمی دیکھی گئی۔
شنگلز کی ویکسین اور امراض قلب
امریکا کے ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے سنہ 2017 میں شنگلز سے بچاؤ کے لیے نئی قسم کی ویکسین ریکومبیننٹ زوسٹر ویکسین کی منظوری دی تھی جو تجارتی طور پر شنگرکس کے نام سے دستیاب ہے۔
یہ ویکسین وقت کے ساتھ پرانی لائیو وائرس ویکسین زوسٹاویکس کی جگہ لینے کے لیے متعارف کرائی گئی تھی۔
امریکا کے مراکز برائے بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مطابق 50 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بالغ افراد کو شنگلز سے بچاؤ کے لیے اس ویکسین کی 2 خوراکیں لگوانے کی سفارش کی جاتی ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران ہونے والی تحقیقات میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ شنگرکس ویکسین شنگلز کے علاوہ دیگر بیماریوں کے خطرے پر کیا اثر ڈال سکتی ہے۔ بعض سابقہ مطالعات میں اس ویکسین کے استعمال اور ڈیمنشیا اور امراضِ قلب کے کم خطرے کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئی تھی۔ نئی تحقیق نے اسی سلسلے کو مزید آگے بڑھایا ہے۔
72 ہزار سے زیادہ افراد کے طبی ریکارڈ کا جائزہ
محققین نے امریکا کے ایک بڑے الیکٹرانک طبی ریکارڈ نیٹ ورک سے 72 ہزار 920 افراد کے طبی اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔
ان میں سے 36 ہزار 460 افراد نے شنگرکس ویکسین لگوائی تھی جبکہ اتنی ہی تعداد میں افراد کو پرانی زوسٹاویکس ویکسین دی گئی تھی۔
تحقیق میں 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد پر توجہ مرکوز کی گئی اور ویکسین لگوانے کے بعد 7 برس کے دوران ان میں امراض قلب کے خطرے کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق کے اختتام پر معلوم ہوا کہ زوسٹاویکس لگوانے والے افراد کے مقابلے میں شنگرکس لگوانے والوں میں 7 سال کے دوران امراضِ قلب کے مجموعی بوجھ میں 9 فیصد کمی دیکھی گئی۔
مزید پڑھیں: عمر بڑھنے کے ساتھ صحت کے بارے میں 7 عام غلط فہمیاں اور ان کی سائنسی حقیقت
آکسفورڈ یونیورسٹی کے شعبۂ نفسیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور تحقیق کے مرکزی مصنف میکس ٹیکیٹ کے مطابق دل اور خون کی شریانوں کی بیماریاں دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو متاثر کرتی ہیں اور دنیا میں اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔
ان کے مطابق اگر کوئی ایسا اقدام موجود ہو جو امراض قلب کے خطرے کو کم کر سکتا ہو تو اس کے عوامی صحت پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دل کی ناکامی کے خطرے میں 12 فیصد کمی
تحقیق میں امراض قلب کی مختلف اقسام کے حوالے سے بھی اہم نتائج سامنے آئے۔
شنگرکس لگوانے والے افراد میں اسکیمک ہارٹ ڈیزیز یعنی دل کو خون کی فراہمی میں کمی سے متعلق بیماریوں کا بوجھ 10 فیصد کم دیکھا گیا۔
اسی طرح ہارٹ فیلیئر یا دل کی ناکامی کے بوجھ میں 12 فیصد کمی دیکھی گئی۔
مردوں میں فالج کے بوجھ میں بھی 12 فیصد کمی سامنے آئی جبکہ مردوں اور خواتین دونوں میں ایٹریل فبریلیشن یعنی دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی کے بوجھ میں 7 فیصد کمی دیکھی گئی۔
محققین کے مطابق یہ نتائج خاص طور پر دلچسپ ہیں کیونکہ فالج موت اور مستقل معذوری کے بلند خطرے سے وابستہ ہے۔
ڈاکٹر ٹیکیٹ کا کہنا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شنگلز سے بچاؤ کی ویکسین بالخصوص ریکومبیننٹ ویکسین، شنگلز سے تحفظ کے علاوہ صحت کے دیگر شعبوں میں بھی غیر متوقع فوائد فراہم کر سکتی ہے۔
تاہم ان کے مطابق اگرچہ نتائج حوصلہ افزا ہیں لیکن مزید تحقیق کے بغیر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ویکسین براہِ راست امراضِ قلب میں کمی کا سبب بنتی ہے۔
ویکسین دل کے لیے کیسے فائدہ مند ہو سکتی ہے؟
ماہرین کے پاس اس حوالے سے چند ممکنہ وضاحتیں ہیں۔
امریکا کے ایک طبی ادارے سے وابستہ ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر ہیدر جانسن جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں کے مطابق ایک امکان یہ ہے کہ ویکسین شنگلز سے ہی بچاتی ہے۔
شنگلز جسم میں شدید سوزش پیدا کر سکتا ہے اور ماضی کی تحقیقات میں اسے دل کے دورے اور فالج سمیت قلبی واقعات کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔
اس لیے شنگلز اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سوزش کو روکنے سے دل اور خون کی شریانوں پر پڑنے والا دباؤ بھی کم ہو سکتا ہے۔
تاہم ان کے مطابق شنگرکس میں شامل ایک اضافی جزو جسے اے ایس زیرو ون کہا جاتا ہے جسم کے مدافعتی ردعمل کو مضبوط بناتا ہے۔
محققین کا خیال ہے کہ یہ جزو مدافعتی خلیوں اور جسم میں سوزش سے متعلق بعض راستوں میں زیادہ دیرپا تبدیلیاں پیدا کر سکتا ہے۔
تحقیق میں انٹرلیوکن سکس نامی ایک سوزش پیدا کرنے والے کیمیائی سگنل کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو امراضِ قلب سے منسلک پایا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: نیند کو ’پرفیکٹ‘ بنانے کی کوشش کہیں اسے مزید خراب نہ کردے؟
ڈاکٹر جانسن کے مطابق ممکن ہے کہ ریکومبیننٹ ویکسین مدافعتی نظام اور خون کی شریانوں میں سوزش کے عمل کو اس انداز سے متاثر کرتی ہو جو دل کو تحفظ فراہم کرے۔
تاہم وہ واضح کرتی ہیں کہ یہ فی الحال ایک دلچسپ سائنسی مفروضہ ہے جس کی تجرباتی طور پر تصدیق ہونا باقی ہے۔
کیا یہ ویکسین ہر شخص کے لیے دل کی بیماری سے بچاؤ کا ذریعہ ہے؟
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تحقیق کے نتائج کو اس طرح نہیں سمجھنا چاہیے کہ شنگلز کی ویکسین اب امراض قلب سے بچاؤ کی دوا بن چکی ہے۔
تحقیق مشاہداتی نوعیت کی ہے یعنی محققین نے موجود طبی ریکارڈز کا جائزہ لے کر ویکسین اور صحت کے نتائج کے درمیان تعلق تلاش کیا ہے۔
اس طرح کی تحقیق کسی تعلق کی نشاندہی تو کر سکتی ہے لیکن یہ لازماً ثابت نہیں کرتی کہ ایک چیز دوسری چیز کا براہِ راست سبب بنی۔
ڈاکٹر ٹیکیٹ کے مطابق ان نتائج کی تصدیق کے لیے باقاعدہ طبی تجربات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے دو طبی آزمائشیں پہلے ہی جاری ہیں۔
محققین یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ ویکسین جسم میں کس طریقے سے امراضِ قلب کے خطرے کو متاثر کر سکتی ہے اور کس عمر میں اس کے ممکنہ اضافی فوائد زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔
عوامی صحت پر بڑا اثر ممکن
ماہر امراض قلب ڈاکٹر کیون شاہ جو تحقیق میں شامل نہیں تھے کے مطابق نتائج دلچسپ اور حوصلہ افزا ہیں۔
ان کے مطابق شنگرکس پہلے ہی شنگلز اور اس کی پیچیدگیوں سے بچاؤ کے لیے بڑے پیمانے پر تجویز کی جاتی ہے اس لیے اگر یہ ویکسین امراض قلب کے خطرے کو بھی کم کرنے میں مدد دیتی ہے تو اس کا عوامی صحت پر نمایاں اضافی فائدہ ہو سکتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ویکسینیں صحت عامہ کے مؤثر ترین اقدامات میں شامل ہیں۔ اگر کوئی ویکسین اپنی بنیادی بیماری سے بچانے کے ساتھ ساتھ دیگر سنگین بیماریوں کے خطرے کو بھی کم کرے تو اس کے اثرات بہت وسیع ہو سکتے ہیں۔
خاص طور پر ایسے وقت میں جب دل اور خون کی شریانوں کی بیماریاں دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہیں اس ممکنہ فائدے کو سمجھنا انتہائی اہم ہوگا۔
شنگلز کی ویکسین لگوانے کی ایک اور ممکنہ وجہ
ایک اور ماہرِ امراضِ قلب، ڈاکٹر ریناتو اپولیٹو، جو تحقیق میں شامل نہیں تھے، کے مطابق یہ نتائج شنگلز کی ویکسین کے حق میں ایک اور مثبت پہلو سامنے لاتے ہیں۔
ان کے مطابق ویکسین کا بنیادی فائدہ پہلے ہی واضح ہے کیونکہ یہ شنگلز کے تکلیف دہ حملوں اور اس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔
اگر مستقبل کی تحقیقات یہ بھی ثابت کر دیتی ہیں کہ اس ویکسین سے دل کی بیماری، فالج یا دل کی ناکامی جیسے مسائل کا خطرہ کم ہوتا ہے تو یہ اس ویکسین کے استعمال کی ایک اضافی اہم وجہ بن سکتی ہے۔
ابھی کیا نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے؟
موجودہ تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ شنگرکس امراض قلب کو براہ راست روکتی ہے تاہم شنگلز کی ویکسین لگوانے اور بعد کے برسوں میں دل اور خون کی شریانوں سے متعلق بیماریوں کے کم بوجھ کے درمیان ایک اہم تعلق ضرور سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا الارم کے بغیر جاگنا ممکن ہے؟ نیند کی اندرونی گھڑی درست کرنے کا طریقہ
خاص طور پر دل کی شریانوں کی بیماری، دل کی ناکامی، فالج اور ایٹریل فبریلیشن کے حوالے سے سامنے آنے والے نتائج نے مزید تحقیق کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق فی الحال شنگلز کی ویکسین اپنے بنیادی مقصد یعنی شنگلز سے تحفظ کے لیے اہم ہے جبکہ اس کے ممکنہ قلبی فوائد کو ایک امید افزا مگر ابھی غیر حتمی سائنسی دریافت سمجھا جانا چاہیے۔














