آزاد کشمیر: 3 الیکشن ہارنے کے باوجود وزارت تک پہنچنے والے سیاسی رہنما کون ہیں؟

پیر 7 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

2011 میں انتخابی سیاست میں قدم رکھنے والے آزاد کشمیر کے نوجوان سیاسی رہنما راجا ثاقب مجید بالآخر 2026 میں اپنی منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

15 برس پر محیط سیاسی جدوجہد، مسلسل انتخابی محنت اور عوام سے مضبوط رابطے کے بعد ثاقب مجید راجا نے 2026 کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے نہ صرف پہلی مرتبہ آزاد کشمیر اسمبلی میں جگہ بنائی بلکہ اپنی طویل سیاسی جدوجہد کو ایک بڑی کامیابی سے ہمکنار کردیا۔

2011 میں پہلی مرتبہ انتخابی میدان میں اترنے کے بعد انہیں کامیابی حاصل نہ ہوسکی، 2016 میں بھی وہ منزل تک نہ پہنچ سکے، جبکہ 2021 میں وہ کامیابی کے انتہائی قریب پہنچ کر معمولی فرق سے انتخاب ہار گئے، لیکن ان تینوں مواقع پر انتخابی نتائج ان کے عزم کو متزلزل نہ کرسکے۔

پھر 2026 کا انتخاب آیا اور اس مرتبہ راجا ثاقب مجید نے وہ کر دکھایا جس کے لیے وہ 15 برس سے سیاسی میدان میں سرگرم تھے۔

2026 کے حالیہ عام انتخابات میں ثاقب مجید راجا نے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر 32 ہزار 511 ووٹ حاصل کیے اور کامیابی اپنے نام کی، جبکہ ان کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے چوہدری لطیف اکبر 23 ہزار 957 ووٹ حاصل کرسکے۔

راجا ثاقب مجید نے اس طرح 8 ہزار 554 ووٹوں کے واضح فرق سے کامیابی حاصل کی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ 2021 میں جہاں وہ اسی حریف سے صرف ایک ہزار 343 ووٹوں کے فرق سے پیچھے رہ گئے تھے، وہیں 2026 میں انہوں نے اسی انتخابی میدان میں نمایاں برتری حاصل کرکے اپنی سیاسی قوت ثابت کردی۔

2026 میں راجا ثاقب مجید کی کامیابی کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی کہ ان کے مقابل آزاد کشمیر کی سیاست کے تجربہ کار رہنما چوہدری لطیف اکبر تھے، جو انتخابات کے وقت ریاست کے قائم مقام صدر تھے۔

کامیابی کے فوراً بعد اہم ذمہ داری

انتخابی کامیابی کے بعد راجا ثاقب مجید کو نئی آزاد کشمیر حکومت میں اہم ذمہ داری بھی سونپی گئی اور انہیں وزیر توانائی و آبی وسائل مقرر کیا گیا ہے، جس کا انہوں نے باقاعدہ چارج سنبھال لیا ہے۔

توانائی اور آبی وسائل آزاد کشمیر کے اہم ترین شعبوں میں شمار ہوتے ہیں۔ پن بجلی کے وسیع امکانات، توانائی کے مسائل اور آبی وسائل سے متعلق معاملات اس وزارت کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔

ہمت نہ ہارنے والے امیدوار کی کامیابی

راجا ثاقب مجید کی انتخابی کامیابی کا سب سے نمایاں پہلو یہی ہے کہ انہوں نے تین انتخابی مراحل میں کامیابی نہ ملنے کے باوجود اپنے سیاسی سفر کو جاری رکھا۔ ہر انتخاب کے بعد وہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوکر واپس آئے اور بالآخر چوتھی بڑی انتخابی کوشش میں کامیابی حاصل کرلی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ثاقب مجید راجا ماضی کی طرح حلقے کے عوام کے ساتھ رابطے میں رہے تو پھر وہ چوہدری لطیف اکبر کی طرح لمبی سیاسی اننگز کھیلنے میں کامیاب رہیں گے، ان کی کامیابی محض انہی 5 سالوں تک محدود نہیں رہےگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp