صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ خواندگی قومی ترقی، خوشحالی اور معاشرتی استحکام کی بنیاد ہے، ہر بچے اور شہری کو معیاری تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنا قومی ذمہ داری ہے، حکومت ملک میں شرح خواندگی بڑھانے اور تعلیمی نظام کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر اپنے الگ الگ پیغامات میں صدر مملکت اور وزیراعظم نے اساتذہ، طلبا، والدین، ماہرینِ تعلیم اور تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرنے والے افراد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
مزید پڑھیں:عالمی یومِ خواندگی: صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغامات میں کیا کہا؟
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ امسال عالمی یومِ خواندگی کی 60ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے اور ’افراد، کرۂ ارض اور خوشحالی کے لیے خواندگی‘ کا عالمی موضوع اس امر کی یاد دہانی ہے کہ خواندگی صرف پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت کا نام نہیں بلکہ یہ افراد کو باخبر فیصلے کرنے، معاشرے میں مؤثر کردار ادا کرنے اور قومی ترقی میں حصہ لینے کا شعور اور اعتماد فراہم کرتی ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کے لیے ہمہ گیر خواندگی کا حصول ترقی کی ناگزیر ضرورت اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ بڑی تعداد میں بچے اب بھی رسمی تعلیمی نظام سے باہر ہیں جبکہ بہت سے بچوں کو معیاری تعلیمی ماحول میسر نہیں، اس لیے خواندگی کو محض ایک عدد یا شرح کے طور پر نہیں بلکہ ملک کے مستقبل کی عکاسی کے طور پر دیکھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ تیز رفتار تکنیکی تبدیلی کے دور میں تعلیمی نظام کو بھی جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ بنیادی خواندگی کے ساتھ تنقیدی سوچ، ڈیجیٹل مہارتوں اور عملی ہنر کو فروغ دینا ضروری ہے، جبکہ پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے بچوں، نوجوانوں اور رسمی تعلیم سے محروم بالغ افراد تک تعلیمی مواقع پہنچانے کے لیے غیر رسمی تعلیم، تیز رفتار تعلیمی پروگرامز اور بالغوں کی خواندگی کے منصوبوں کو مضبوط بنانا ہوگا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ خواندگی انفرادی اور قومی معیارِ زندگی بہتر بنانے اور ترقی و خوشحالی کی سمت متعین کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے خواندگی کی شرح بڑھانے اور طلبہ کو عصرِ حاضر سے ہم آہنگ تعلیم فراہم کرنے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر کام کر رہی ہے۔
A Book Can Change a Mind.
A Mind Can Change the World.” 📚🌍This International Literacy Day, let’s celebrate the power of knowledge, learning, and opportunity.
Read. Learn. Empower.#InternationalLiteracyDay #LiteracyForAll #PowerOfKnowledge #Education #Scriptzol #Viralpost pic.twitter.com/QrDoyMttpk
— Scriptzol (@scriptzol) September 8, 2026
انہوں نے کہا کہ تعلیمی دھارے سے باہر بچوں کو اسکولوں میں لانے کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیے گئے ہیں جبکہ دانش اسکولز جیسے اقدامات اس عزم کا اظہار ہیں کہ کسی بچے کے لیے معیاری تعلیم کا حصول اس کے سماجی و معاشی حالات سے مشروط نہیں ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مستحق اور پسماندہ طبقات، بالخصوص یتیم بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم کی فراہمی سے ان کی صلاحیتیں اجاگر کرنے، اعتماد بڑھانے اور بہتر مستقبل کی راہیں ہموار کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ نوجوانوں کو عالمی معیار کے مطابق ہنر فراہم کرنے کے لیے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کو مؤثر اور فعال بنایا گیا ہے تاکہ انہیں باعزت روزگار، کاروبار اور معاشی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
صدر مملکت اور وزیراعظم دونوں نے خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم اور بااختیاری کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو تعلیم اور ہنرمندی کے مساوی مواقع فراہم کیے بغیر جامع قومی ترقی ممکن نہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تنزلی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی معیاری اور جامع تعلیم کا فروغ اہم ہے، جبکہ پائیدار ترقی کے ہدف 4 کے تحت سب کے لیے مساوی اور معیاری تعلیم اور زندگی بھر سیکھنے کے مواقع یقینی بنانا ضروری ہے۔
دونوں رہنماؤں نے کہا کہ خواندگی کا فروغ حکومت کی اکیلے کی ذمہ داری نہیں بلکہ وفاقی و صوبائی حکومتوں، تعلیمی اداروں، نجی شعبے، سول سوسائٹی، مخیر حضرات، والدین، اساتذہ اور بیرون ملک پاکستانیوں سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔
مزید پڑھیں:شرح خواندگی میں پاکستان جنوبی ایشیا میں بدستور آخری نمبر پر، رپورٹ میں انکشاف
صدر مملکت نے اساتذہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کی تعلیم و تربیت اور قوم کی تعمیر میں ان کا کردار انتہائی اہم ہے اور انہیں بھرپور ادارہ جاتی تعاون اور حوصلہ افزائی فراہم کی جانی چاہیے۔
وزیراعظم نے بھی اس امر پر زور دیا کہ شرح خواندگی میں بہتری اور معیاری نظامِ تعلیم کے قومی مقصد کے حصول کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں، طلبہ، اساتذہ، والدین، سول سوسائٹی، ترقیاتی شراکت دار، نجی شعبے اور ذرائع ابلاغ کو متحد ہو کر مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
صدر مملکت اور وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو ایسا ملک بنایا جائے گا جہاں علم مواقع، مساوات اور خوشحالی کو وسعت دے اور ہر شہری اپنی تعلیم اور صلاحیتوں کے ذریعے ملک کے مستقبل کی تشکیل میں بامعنی کردار ادا کر سکے۔














