پاکستانی روپے نے منگل کے روز انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی معمولی مضبوطی برقرار رکھی اور 0.01 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: خراماں خراماں: روپے کی قدر مسلسل مضبوطی کی سمت گامزن، جانیے یہ سلسلہ کب سے جاری ہے؟
انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری روز کے اختتام پر روپیہ 277.37 پر بند ہوا جو گزشتہ روز کے مقابلے میں ڈالر کے مقابلے میں 3 پیسے کا اضافہ ہے۔
خیال رہے کہ پیر کو پاکستانی روپیہ 277.40 فی ڈالر پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر جاپانی ین منگل کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں سات ماہ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا کیونکہ بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کے باعث ٹریڈرز اپنی ’شارٹ پوزیشنز‘ ختم کرتے رہے جبکہ اس ہفتے متوقع سی پی آئی اعداد و شمار سے قبل ڈالر دباؤ کا شکار رہا۔
صبح کی ٹریڈنگ کے دوران ین 153.53 فی ڈالر تک مضبوط ہوا جس نے جولائی میں جاپان کی مداخلت کے دوران حاصل کی گئی سطح کو بھی عبور کر لیا اور یہ فروری کے بعد ین کی سب سے مضبوط سطح ہے۔
ٹریڈرز اور تجزیہ کاروں کے مطابق متعدد عوامل جن میں بینک آف جاپان کی جانب سے سخت مالیاتی پالیسی کی تیز رفتار قیاس آرائیاں، جاپانی سرمایہ کاروں کی جانب سے ممکنہ طور پر اپنے فنڈز واپس وطن منتقل کرنا، کیری ٹریڈز کا خاتمہ اور امریکی سیاسی دباؤ شامل ہیں اس دباؤ کا شکار کرنسی کے لیے ایک بڑی تبدیلی لا رہے ہیں اور بیئرز (مندی کے حامی سرمایہ کاروں) کو پیچھے دھکیل رہے ہیں۔
ڈالر انڈیکس جو کرنسیوں کے ایک مجموعے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر ناپتا ہے ین کی مضبوطی کے باعث معمولی کمی کے ساتھ 98.83 پر رہا۔
مزید پڑھیے: پاکستانی شہری نے بگ ٹکٹ میں 41 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم جیت لی
اس کے نتیجے میں یورو اور برطانوی پاؤنڈ اسٹرلنگ دونوں میں 0.06 فیصد اضافہ دیکھا گیا جو بالترتیب 1.1628 ڈالر اور 1.3549 ڈالر پر رہے۔
اب مارکیٹ کی توجہ اس ہفتے جاری ہونے والے امریکی افراطِ زر کے اعداد و شمار پر مرکوز ہو چکی ہے جو 15 سے 16 ستمبر کو ہونے والے ایف او ایم سی اجلاس سے قبل آخری اہم ڈیٹا ریلیز ہوگی۔ جمعہ کو غیر متوقع طور پر مضبوط ’نان فارم پے رولز‘ رپورٹ کے بعد ٹریڈرز اب اس ماہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے تقریباً 60 فیصد امکان کا تخمینہ لگا رہے ہیں۔
کرنسی کی برابری کے ایک اہم اشاریے تیل کی قیمتوں میں بھی منگل کے روز مسلسل اضافہ دیکھا گیا اور یہ کئی ہفتوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں کیونکہ ایران کی جانب سے اپنے اثاثوں پر کسی بھی نئے امریکی حملے کے جواب میں جوابی کارروائی کی دھمکی کے بعد مشرق وسطیٰ میں طویل تنازع کے خدشات میں اضافہ ہوا جس نے تیل کی سپلائی میں خلل کے خدشات کو مزید بڑھا دیا۔
مزید پڑھیںـ: روپے کی قدر میں مضبوطی، پاکستانی معیشت کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟
برینٹ کروڈ فیوچرز 0630 جی ایم ٹی تک 1 ڈالر 25 سینٹ یا 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 98.25 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ 2 ڈالر 22 سینٹ یا 2.4 فیصد اضافے کے ساتھ 93.70 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔














