آزاد کشمیر میں کالعدم جے اے اے سی کی احتجاجی کال مسترد، تمام اضلاع میں کاروباری مراکز کھلے رہے

بدھ 9 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد جموں کشمیر بھر میں عوام اورتاجروں نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کال کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

تمام اضلاع میں کاروباری مراکز کھلے رہے، جبکہ شاہراہوں پر ٹریفک کی نقل و حرکت معمول کے مطابق جاری رہی۔

کاروباری سرگرمیاں اور ٹریفک کی معمول کے مطابق آمدورفت

مظفرآباد، میرپور، کوٹلی، بھمبر، باغ، نیلم اور حویلی سمیت تمام اہم اضلاع میں ہڑتال کی کال کا اثر نہ ہونے کے برابر رہا۔
یہ بھی پڑھیں:راولاکوٹ احتجاج میں فتنہ الخوارج کے لوگ بھی شامل، شرپسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ہوگی، حکومت آزاد کشمیر

ننگی، چوک شہیداں اور دیگر بڑے تجارتی علاقوں میں دکانیں، مارکیٹیں، ہوٹل اور دیگر کاروباری ادارے کھلے رہے۔

پبلک ٹرانسپورٹ کی روانگی بھی بلا تعطل جاری رہی، جس سے پہیہ جام کی کوشش ناکام ہو گئی۔ تمام اضلاع میں سرکاری و نجی دفاتر، تعلیمی ادارے اور روزمرہ کی سرگرمیاں معمول کے مطابق چلیں اور شہریوں نے پرامن ماحول میں اپنے کام انجام دیے۔

انتظامیہ کے سیکیورٹی اقدامات

حساس مقامات اور اہم شاہراہوں پر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔

پولیس اور انتظامی حکام صورتحال کی مسلسل نگرانی کرتے رہے، اور خطے بھر سے کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اکتوبر 2025 میں آئینی اور حکمرانی کی اصلاحات کے لیے احتجاجی تحریک شروع کی تھی۔

ان کے اہم مطالبات میں حکمران طبقات کی مراعات کا خاتمہ، مقبوضہ جموں کشمیر کے مہاجرین کے لیے اسمبلی میں مخصوص 12 نشستوں کی منسوخی اور کوٹہ سسٹم کا خاتمہ شامل تھا۔

مزید پڑھیں:آزاد کشمیر میں 9 جون کے احتجاج سے قبل ہی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم تنظیم قرار، نوٹیفکیشن جاری

ان مظاہروں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپیں بھی ہوئیں، جس کے نتیجے میں دونوں جانب جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

بعد ازاں حکومت اور ’جے اے اے سی ‘ کے درمیان 12 بنیادی اور 13 اضافی نکات پر معاہدہ طے پایا تھا جس میں مہاجرین کی نشستوں پر اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔

پولیس اہلکاروں کا اغوا اور سنگین الزامات

حالیہ دنوں میں صورتحال اس وقت دوبارہ کشیدہ ہوئی جب 13 اگست کو آزاد کشمیر پولیس کے ترجمان نے انکشاف کیا کہ کالعدم تنظیم کے کارکنوں نے الیکشن ڈیوٹی پر مامور شاہراہ پولیس کے 8 اہلکاروں کو اغوا کر کے ان پر تشدد کیا۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر: ایکشن کمیٹی کی 9 جون کو احتجاج کی کال، الیکشن شیڈول بھی جاری، ریاست میں کیا ہونے جا رہا ہے؟

حکومتی نمائندوں کی جانب سے بھی ’ جے اے اے سی‘ پر بھارتی فنڈنگ اور خودکار اسلحے کے استعمال جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

 پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے واضح کر دیا ہے کہ ریاست کی عملداری کو چیلنج کرنے اور عوامی زندگی کو مفلوج کرنے کی کسی بھی کوشش کا قانونی اور آئینی راستے سے سختی سے جواب دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ماؤ زے تنگ سے متعلق مبینہ مذاق، چین میں ایمباپے کی اسپانسرشپ ختم

اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان، انڈیکس میں 950 پوائنٹس سے زائد اضافہ

’اب تو عادی ہو چکا ہوں‘، ندا یاسر کی وائرل میمز پر یاسر نواز کا دلچسپ ردعمل

آن لائن بائیک رائیڈ کے دوران مبینہ ہراسانی، خاتون نے چلتی موٹر سائیکل سے چھلانگ لگا دی

اسٹار ٹریک میں پاول چیخوف کا کردار ادا کرنے والے والٹر کوئنیگ چل بسے

ویڈیو

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں