سپریم کورٹ کے ایڈمن بلاک میں آتشزدگی، سی ڈی اے فائر فائٹرز نے 2 منٹ میں قابو پالیا

جمعہ 11 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ آف پاکستان کے گراؤنڈ فلور پر واقع ایڈمنسٹریٹو بلاک میں آگ لگ گئی، کیپیٹل ایمرجنسی سروس، سی ڈی اے کی فائر فائٹنگ ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 2 منٹ میں موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پالیا۔

اطلاع ملتے ہی کیپیٹل ایمرجنسی سروس، سی ڈی اے کی فائر فائٹنگ ٹیمیں فوری طور پر سپریم کورٹ روانہ ہوئیں اور 2 منٹ میں موقع پر پہنچ گئیں۔ فائر فائٹنگ آپریشن میں کیپیٹل ایمرجنسی سروس، سی ڈی اے کے 20 اہلکاروں نے حصہ لیا۔

یہ بھی پڑھیں:پمز آتشزدگی واقعہ: وزیراعظم کا ہنگامی اجلاس، غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو رعایت نہ دینے کا حکم

فائر فائٹنگ کے بعد ایڈمنسٹریٹو بلاک میں کولنگ اور دھویں کے اخراج کا عمل جاری ہے تاکہ علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔

اسسٹنٹ کمشنر اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل بھی موقع پر موجود رہے اور امدادی کارروائیوں کی نگرانی کی۔

کیپیٹل ایمرجنسی سروس، سی ڈی اے کی ٹیمیں انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فائر فائٹنگ اور بعد از آتش حفاظتی کارروائیوں میں مصروف رہیں۔

دوسری جانب آگ کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیاں بھی سپریم کورٹ پہنچ گئیں۔ آگ پر قابو پانے کے باوجود ایڈمنسٹریٹو بلاک میں دھواں بھرا ہوا تھا، جس کے باعث فائر بریگیڈ کی ایک اور گاڑی بھی موقع پر پہنچ گئی۔

اس موقع پر سپریم کورٹ کے حفاظتی ضوابط فائر بریگیڈ کے لیے رکاوٹ بن گئے اور پولیس نے فائر بریگیڈ کو مرکزی دروازے پر روکے رکھا۔ انتظامیہ سے کلیئرنس ملنے کے بعد فائر بریگیڈ کو اندر داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے نجی ہوٹل میں آتشزدگی، پی ایس ایل ٹیمیں کمروں میں محصور

فائر بریگیڈ کے ایک اہلکار نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم ان کی وجہ سے لیٹ ہو رہے ہیں۔’

دوسری جانب شارٹ سرکٹ کی تحقیقات کے لیے آنے والے واپڈا اہلکاروں کو بھی پولیس نے روک دیا۔ بار بار نشاندہی پر پولیس کی جانب سے کہا گیا کہ افسران نے اندر جانے سے منع کیا ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp