اقوام متحدہ افغان سر زمین سے ہونے والی دہشتگردی، کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کرے، پاکستان

ہفتہ 12 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دہشتگردی کے خلاف نئے اور جامع عالمی ایکشن کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ دنیا بدلتے ہوئے جدید دہشتگردانہ خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی صفیں درست کرے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے افغان سرزمین سے ابھرنے والی دہشتگردی اور کالعدم تحریک طالبان پاکسان (ٹی ٹی پی )، کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی( بی ایل اے) سمیت دیگر کالعدم تنظیموں کے خلاف مؤثر بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

نیویارک میں پاکستان کے مستقل مندوب کے دفتر جاری اعلامیے کے مطابق اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں نائن الیون حملوں کے 25 سال مکمل ہونے پر سلامتی کونسل کی خصوصی بریفنگ کا انعقاد کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:عاصم افتخار احمد نئے سیکریٹری خارجہ مقرر، آمنہ بلوچ ترکیہ میں پاکستان کی سفیر ہوں گی

اس موقع پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کرتے ہوئے 9/11 کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جن میں 7 پاکستانی بھی شامل تھے۔

انہوں نے امریکی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یاد دلایا کہ دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس صدی کے آغاز سے اب تک سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں سمیت 90 ہزار سے زیادہ پاکستانی دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، جس کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔

القاعدہ کی شکست اور نئے خطرات کی نشاندہی

عاصم افتخار احمد نے عالمی برادری پر واضح کیا کہ القاعدہ کے خلاف بین الاقوامی مہم میں سب سے نمایاں کامیابیاں پاکستان کی فعال انٹیلی جنس کوآرڈینیشن اور انسدادِ دہشتگردی کی کوششوں کے باعث ہی ممکن ہوئیں۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ گزشتہ 25 برسوں میں دہشتگردی کی نوعیت اور منظرنامہ یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔

مزید پڑھیں:طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے پراکسی بن چکی ہے، عاصم افتخار احمد

آج دنیا کو دائیں بازو کی انتہا پسندی، مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں دہشتگردی کے تسلسل کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی، ڈارک ویب، ورچوئل اثاثوں اور کرپٹو کرنسی کے بڑھتے استعمال جیسے نئے اور سنگین خطرات کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مناسب ریگولیشن کی عدم موجودگی میں یہ خطرہ مزید کئی گنا بڑھ جائے گا۔

افغان سرزمین اور کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن کا مطالبہ

پاکستانی مندوب نے افغانستان سے ابھرنے والی دہشتگردی پر خصوصی اور شدید تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے سلامتی کونسل کو زمینی حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ محض گزشتہ 3 برسوں کے دوران 4700 سے زیادہ پاکستانی دہشتگردی کے ان واقعات میں جان کی بازی ہار چکے ہیں جن کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے ہیں۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے، ای ٹی آئی ایم اور داعش جیسی تنظیموں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کرے۔

حقِ خودارادیت اور ریاستی جبر پر احتساب

دہشتگردی کی بنیادی وجوہات پر بات کرتے ہوئے پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ انسدادِ گردی کی عالمی حکمت عملی کے تمام ستونوں پر متوازن عملدرآمد ناگزیر ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ غیر ملکی قبضے کے تحت رہنے والے عوام کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو دبانے والی غاصب قوتوں کا بھی ہر صورت احتساب ہونا چاہیے اور انہیں ریاستی جبر کی کھلی چھوٹ نہیں ملنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:پاک سعودی دفاعی معاہدہ شدت پسندانہ کارروائیوں کے تناظر میں علاقائی سلامتی کے لیے اہم ہے، عاصم افتخار احمد

واضح رہے کہ 11 ستمبر 2001 کے بعد سلامتی کونسل نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے قرارداد 1373 منظور کر کے دہشتگردی کے خلاف عالمی فریم ورک کی بنیاد رکھی تھی۔پاکستان اس عالمی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی رہا ہے۔

تاہم اب 2026 میں خطے کے بدلتے ہوئے حالات اور اقتدار کی تبدیلیوں کے بعد دہشتگرد گروہوں نے جدید ٹیکنالوجی اور سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کی مدد سے خود کو دوبارہ منظم کر لیا ہے۔

جس کا براہِ راست نشانہ ایک بار پھر پاکستان بن رہا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان مسلسل عالمی برادری پر زور دے رہا ہے کہ وہ انسدادِ دہشتگردی کے مروجہ قوانین اور پابندیوں کے نظام کو جدید خطرات کے مطابق اپ گریڈ کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp