پاکستان کے 21 سالہ فاسٹ بولنگ آل راؤنڈر رضا اللہ نے اپنے ٹیسٹ ڈیبیو کو یادگار بنا دیا۔ انہوں نے ایجبسٹن میں انگلینڈ کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں 90 سے زائد رنز اور 4 وکٹیں حاصل کر کے کرکٹ کی ایک خاص فہرست میں اپنا نام لکھوا لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایجبسٹن ٹیسٹ: انگلینڈ کی پاکستان کو 8 وکٹوں سے شکست، سیریز میں 0-3 سے وائٹ واش
رضا اللہ ان 7 کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہیں پاکستان نے ہیڈنگلے اور لارڈز میں مسلسل دو عبرتناک شکستوں کے بعد تیسرے ٹیسٹ کے لیے اسکواڈ میں شامل کیا تھا۔ اپنی پہلی ہی اننگز میں وہ صرف 11 گیندوں پر 11 رنز بنا سکے۔
گیند کے ساتھ اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں انہوں نے شاندار کارکردگی دکھائی اور 23 اوورز میں 148 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں جس میں انگلش کپتان جو روٹ کی قیمتی وکٹ بھی شامل تھی۔
تاہم 21 سالہ نوجوان نے اپنے ڈیبیو کو دوسری اننگز میں ناقابل فراموش بنا دیا جب انہوں نے صرف 63 گیندوں پر 9 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے 81 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی۔
مزید پڑھیے: وائٹ واش کے باوجود محمد عباس کا اعزاز، انگلینڈ کے اولی رابنسن کے ساتھ مشترکہ پلیئر آف دی سیریز قرار
اگرچہ وہ انگلینڈ کی آخری اننگز میں کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے اور میزبان ٹیم نے یہ میچ 8 وکٹوں سے با آسانی جیت لیا لیکن رضا اللہ ٹونی گریگ، البرٹ ٹراٹ اور بروس ٹیلر جیسے لیجنڈز کی اس خاص فہرست میں شامل ہو گئے جنہوں نے اپنے ٹیسٹ ڈیبیو پر کم از کم 4 وکٹیں اور 90 سے زائد رنز بنائے ہیں۔
خاص بات یہ ہے کہ رضا اللہ اس صدی میں یہ کارنامہ انجام دینے والے پہلے کرکٹر بن گئے ہیں اور وہ ہے ٹیسٹ ڈیبیو پر 90 سے زائد رنز اور 4 وکٹیں لینے والے کھلاڑی کے طور پر سامنے آنا۔
19ویں اور 20 ویں صدی میں ڈیبیو میں کارنامہ دکھانے والے کھلاڑی
ولی بیٹس (انگلینڈ) – 105 رنز اور 4 وکٹیں بمقابلہ آسٹریلیا، 1881 میں
البرٹ ٹراٹ (آسٹریلیا): 110 رنز اور 8 وکٹیں بمقابلہ انگلینڈ (1895)
بروس ٹیلر (نیوزی لینڈ): 105 رنز اور 5 وکٹیں بمقابلہ بھارت (1965(
ٹونی گریگ (ساؤتھ افریقہ): 119 رنز اور 5 وکٹیں بمقابلہ آسٹریلیا، (1972)
جمی ایڈمز (ویسٹ انڈیز): 90 رنز اور 4 وکٹیں بمقابلہ ساؤتھ افریقہ (1992)














