آبنائے ہرمز میں بحری جہاز پر حملے کی اطلاع، عالمی تیل سپلائی کو ایک بار پھر خطرہ

اتوار 13 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک بحری جہاز پر حملے کی نئی اطلاع نے مشرق وسطیٰ میں توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ برطانوی بحریہ سے منسلک ادارے یو کے ایم ٹی او کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک جہاز کو ایک ’پروجیکٹائل‘ نے نشانہ بنایا۔ ابتدائی اطلاعات میں جہاز کو پہنچنے والے نقصان اور عملے کی صورتحال واضح نہیں ہوسکی۔

رائٹرز کے مطابق بغداد نے حملے کے عراق سے ہونے کی تصدیق کی ہے، جہاں ایران نواز مسلح گروپ سرگرم ہیں۔

رائٹرز کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے، جبکہ امریکا میں ڈیزل کی قیمت بھی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو عالمی توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز کے اعصابی مرکز لارک جزیرے پر امریکی حملہ، محدود کارروائی یا نئی جنگ کا آغاز؟

ادھر ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی معاہدے کے لیے اس کی شرائط تسلیم کرنا ضروری ہوگا۔ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان پیر کو عمان میں ہونے والے اجلاس میں آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی بات چیت متوقع ہے، تاہم ایرانی حکام نے کسی فوری پیشرفت کے امکانات کو محدود قرار دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp