بحرِ ہند میں واقع جزیرہ نما ملک مڈغاسکر دنیا کی منفرد ترین جنگلی حیات کا مسکن ہے، جہاں ایسے ہزاروں جانور اور پودے پائے جاتے ہیں جو دنیا کے کسی اور خطے میں موجود نہیں۔
یہ دنیا کا واحد ملک بھی ہے جہاں لیمرز قدرتی ماحول میں آزادانہ زندگی گزارتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سنہری لنگور کی نایاب جھلک، دنیا کا واحد جانور جو انسانوں سے دور رہتا ہے
مڈغاسکر کی اسی منفرد حیاتیاتی دولت کو قریب سے دیکھنے کے لیے ایک سیاحتی جوڑے نے 3 ہفتوں پر محیط تقریباً 2500 کلومیٹر کا روڈ ٹرپ کیا۔
سفر کا آغاز دارالحکومت انٹاناناریوو سے ہوا اور راستہ گھنے بارانی جنگلات، وسیع چاول کے کھیتوں، دشوار گزار وادیوں، صحرائی علاقوں اور مغربی ساحل تک پھیلا ہوا تھا۔
Verreaux's sifaka lemur—commonly known as a dancing sifaka—moving across the sandy ground in Madagascar 🇲🇬 pic.twitter.com/vZM2sRJwsh
— ContempraINN🌹 (@CONTEMPRA_INN) September 12, 2026
اس دوران 8 قومی پارکس اور قدرتی محفوظ علاقے دیکھے گئے۔
مٹسینجو ریزرو میں اس سفر کا سب سے یادگار منظر اس وقت سامنے آیا جب دنیا کے سب سے بڑے لیمر، انڈری، کو درختوں کی گھنی شاخوں میں انتہائی قریب سے دیکھا گیا۔
مزید پڑھیں: مڈغاسکر میں فوجی یونٹ نے اقتدار سنبھال لیا، صدر راجویلینا برطرف
معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار انڈری اپنی بڑی آنکھوں، نمایاں کانوں اور دور تک سنائی دینے والی منفرد آواز کے باعث مشہور ہے۔
رانومافانا نیشنل پارک میں سرخ پیٹ والے لیمرز، گریٹر بانس لیمرز اور انتہائی نایاب گولڈن بانس لیمرز دیکھنے کو ملے۔

ماہرین کے مطابق مڈغاسکر کے مختلف جنگلات میں لیمرز کی الگ الگ اقسام اس لیے ارتقا پذیر ہوئیں کہ جزیرے کے ہر خطے کا قدرتی ماحول دوسرے سے مختلف ہے۔
تاہم جنگلات کی کٹائی اور زرعی سرگرمیوں کے باعث ان جانوروں کے قدرتی مسکن مسلسل سکڑ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: چین میں نایاب برفانی چیتوں کی پوری فیملی ایک فریم میں
سفر کے دوران انجا کمیونٹی ریزرو میں رنگ دار دم والے لیمرز جبکہ اسالو نیشنل پارک میں ویروکس سیفاکا کا مشاہدہ کیا گیا۔
یہ لیمرز زمین پر ایک جانب سے دوسری جانب چھلانگ لگانے کے منفرد انداز کے باعث ’ڈانسنگ لیمرز‘ کے نام سے مشہور ہیں۔
Król Julian 😁
Lemur katta
Na Madagaskarze zostało ich niecałe 2500 osobników. Są one wyłapywane przez kłusowników. Na masową skalę tracą swoje siedliska. pic.twitter.com/qzspeFcTZN— Hirek123 (@123Hirek) September 9, 2026
مڈغاسکر کے مغربی حصے تک پہنچنا سفر کا سب سے مشکل مرحلہ ثابت ہوا، پکی سڑک ختم ہونے کے بعد 4 روز تک کیچڑ، ریت، دریاؤں اور انتہائی خراب راستوں سے گزرنا پڑا۔
مقامی رہنما نے، جنہیں ’پیسٹور‘ کہا جاتا ہے، دریائی گزرگاہوں اور دشوار گزار راستوں میں گاڑی کی رہنمائی کی۔
مزید پڑھیں: نیوزی لینڈ میں پہلی بار مقامی پرندے میں مہلک برڈ فلو ایچ 5 این ون کی تصدیق
مورونداوا کے قریب مشہور ایونیو آف دی باؤبابز، کرنڈی ریزرو اور بالآخر ٹسنگی دی بماراہا نیشنل پارک اس سفر کے اہم پڑاؤ تھے۔
ٹسنگی کے چونے کے پتھر سے بنے بلند و بالا نوکیلے سلسلے ’پتھریلے جنگل‘ کا منظر پیش کرتے ہیں اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں

مڈغاسکر کا یہ سفر اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ یہاں آزادانہ سفر بظاہر ممکن ہونے کے باوجود مقامی گائیڈز، رہنماؤں اور دیہاتیوں کی مدد کے بغیر مشکل ہے۔
انہی مقامی افراد کی معاونت نے اس غیر معمولی سفر کو ممکن بنایا اور مڈغاسکر کی نایاب جنگلی حیات کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔














