’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘

پیر 14 ستمبر 2026
author image

مشکور علی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جس شاعر کے گیت ملکہ ترنم نورجہاں کی آواز میں امر ہوئے، جسے قتیل شفائی نے اپنا تخلص عطا کیا، جس نے دو ہزار سے زیادہ گیت لکھے اور جس کے لیے اب صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی کا اعلان ہوچکا ہے، وہ آج بھی لاہور کے لنڈا بازار میں کرائے کی ایک چھوٹی سی دکان پر پرانے کپڑے بیچتا ہے۔ یہ مشتاق شفائی کی کہانی ہے، شہرت کے آسمان سے روزمرہ زندگی کی غلام گردشوں تک۔

لاہور کی کسی یادگار شام کا تصور کیجیے۔ سامنے ملکۂ ترنم نورجہاں کھڑی ہیں۔ پاکستان کی آواز اور برصغیر کی عظیم گلوکارہ، جن کے سامنے بڑے بڑے فنکار بھی مؤدب ہو جاتے تھے۔ ایک کیمرامین تصویر بنانے کے لیے آگے بڑھتا ہے۔ نورجہاں پہلے کچھ ناراض ہوتی ہیں۔ پھر جب سامنے موجود شخص اپنا تعارف کرواتا ہے تو منظر یکسر بدل جاتا ہے۔ وہ احترام سے اپنا سر جھکا دیتی ہیں اور اس کے ساتھ تصویر بنواتی ہیں۔

وہ شخص مشتاق شفائی تھا۔ تصویر میں ان کے ساتھ سیاہ چشمہ پہنے معروف موسیقار استاد ماسٹر عبداللہ بھی موجود تھے۔

یہی وہ شاعر ہے جس کے لفظ کبھی نورجہاں کی آواز میں گونجے، کبھی غلام علی، دلیر مہدی، افشاں اور سونو ککڑ کے ہونٹوں سے نکلے اور کبھی فلمی پردے پر محبت، ہجر، حسن اور پچھتاوے کی کہانی بن گئے۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ جس شخص کے لفظوں نے لاکھوں لوگوں کے دلوں میں گھر بنایا، اس کی اپنی زندگی آج بھی ایک چھوٹی سی دکان، کرائے کے مکان اور روزمرہ کی معاشی جدوجہد میں گھری ہوئی ہے۔ اور شاید اسی تضاد نے مشتاق شفائی کو محض ایک شاعر نہیں، کہانی بنا دیا ہے۔

مشتاق شفائی کا اصل نام مشتاق بٹ تھا۔ لاہور کے بٹ خاندان سے تعلق رکھنے والے مشتاق نے زندگی کا آغاز کسی ادبی خانوادے کے آسودہ ماحول میں نہیں کیا تھا۔ والد پرانے کپڑوں کے کاروبار سے وابستہ تھے اور بیٹے کو بھی اسی کاروبار میں ہاتھ بٹانا پڑا۔ رسمی تعلیم زیادہ آگے نہ بڑھ سکی، لیکن لفظوں سے رشتہ قائم ہوگیا۔

قریباً بیس برس کی عمر میں گیت لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ اس وقت شاید خود مشتاق کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ شوق آگے چل کر پاکستانی فلمی موسیقی کی تاریخ میں ان کا نام امر کر دے گا۔

وہ زمانہ تھا جب فلمی گیت محض فلم کا ایک جزو نہیں ہوتے تھے، فلم کی پہچان ہوا کرتے تھے۔ ریڈیو پر گیت بجتا تو گلی، محلے، دکان اور گھر تک اس کی آواز پہنچتی تھی۔ شاعر کے الفاظ، موسیقار کی دھن اور گلوکار کی آواز مل کر ایک ایسی دنیا بناتے تھے جس میں لاکھوں لوگ اپنے دل کی کہانی تلاش کرتے تھے۔

مشتاق بٹ کا ’مشتاق شفائی‘ بن جانا بھی ایک دلچسپ قصہ ہے۔ معروف شاعر قتیل شفائی سے قربت بڑھی تو تعلق صرف دو شاعروں کی ملاقات تک محدود نہ رہا۔ قتیل شفائی کے خاندان سے رشتہ داری قائم ہوئی اور مشتاق کو قتیل صاحب کی قربت میں وہ ادبی ماحول ملا جس کا وہ شاید خواب بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔

وہ قتیل شفائی کو بڑے لوگوں میں شمار کرتے ہیں۔ وہ ان کے لکھنے، سوچنے اور تخلیقی انداز سے متاثر تھے۔ ایک موقع پر قتیل شفائی نے گرہ لگانے کے لیے وارث شاہ کا مصرع دیا: ’اج اکھاں وارث شاہ نوں، کتھوں قبراں وچوں بول‘ ۔ ۔ ۔ ۔ قتیل شفائی نے جب ان کا تخلیقی ہنر دیکھا تو حیران رہ گئے اور انہیں ’شفائی‘ کا تخلص عطا کیا۔

مشتاق شفائی کی شاعری کے پیچھے ایک اور دلچسپ واقعہ بھی ہے۔ قتیل شفائی کی صاحبزادی ان کے بھائی شوکت کی اہلیہ (بھابھی) بنیں۔ یوں قتیل شفائی کا گھر ان کے لیے صرف کسی بڑے شاعر کا گھر نہیں رہا بلکہ اپنوں کا گھر بن گیا۔ وہاں موسیقی، شاعری اور فلمی دنیا کے بڑے نام آتے جاتے تھے۔

مشتاق کی دلی خواہش تھی کہ وہ ان عظیم لوگوں کو قریب سے دیکھے جو گیت لکھتے اور دھن بناتے ہیں، پھر وہی گیت لوگوں کے دلوں تک پہنچ جاتا۔ ایک دن انہیں قتیل شفائی کے گھر جانے کا موقع ملا۔ کمرے میں ایک طرف موسیقار تھے، ایک طرف شاعر، اور تخلیق کا وہ عمل جاری تھا جسے مشتاق دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ منظر واقعی ’ناقابل فراموش‘ تھا۔

اسی دوران گفتگو میں بھابھی نے انہیں طعنہ مارا کہ ’جاؤ، اب شاعر بن کے دکھاؤ‘۔ طعنہ شاید معمولی لفظ تھا، مگر مشتاق شفائی کے لیے وہ زندگی کا اہم موڑ بن گیا۔ انہوں نے قلم اٹھایا اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک بھابھی نے رانجھا بنایا تھا، ایک بھابھی نے مشتاق شفائی۔

ابتدائی دنوں میں ایک گیت کے عوض ملنے والے چالیس روپے شاید آج کے زمانے میں معمولی رقم بھی نہ لگیں، لیکن اس وقت ایک نئے شاعر کے لیے یہ صرف معاوضہ نہیں تھا بلکہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اس کے لفظ بھی موسیقی کے ذریعے شائقین کی سماعتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

ریڈیو سے ایک گیت کے بیس سے چالیس روپے ملتے تھے، جبکہ فلمی گیت کا معاوضہ قریباً 250 روپے تک ہوتا تھا۔ 1970 کے اوائل میں قسمت نے یاوری کی کہ ان کا لکھا گیت ’پیری کھسہ پشوری، گل کرتا لہوری کرے تنگ ماہیا‘ (فلم: ایک ڈولی دو کہار) میڈم نورجہاں نے گایا۔ گیت پروڈیوسر کو پسند آیا تو مشتاق شفائی کو اس کا معاوضہ پانچ سو روپے ملا۔ یوں فلمی دنیا کے دروازے کھلتے چلے گئے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب ایک کامیاب گیت شاعر کو راتوں رات گھر گھر پہنچا سکتا تھا۔ مشتاق شفائی نے اس موقع کو صرف شہرت کے لیے استعمال نہیں کیا، بھابھی کے طعنے اور اپنے شوق کی تکمیل میں انہوں نے مسلسل لکھا۔ اور اتنا لکھا کہ ان کے گیتوں کی تعداد دو ہزار سے بھی تجاوز کر گئی۔

وہ دن بھی آئے جب مشتاق شفائی کے لفظوں کو پاکستان کی عظیم آوازوں نے گانا شروع کیا۔ ملکہ ترنم نورجہاں نے ان کے کئی گیت گائے۔ فلم ’کشمکش‘ کا گیت: ’تو ملا تو ملی ایسی جنت مجھے، اب کسی اور جنت کی پروا نہیں‘، یہ گانا نورجہاں کی آواز اور ماسٹر عبداللہ کی موسیقی کے ساتھ بے حد مقبول ہوا۔

پنجابی میں انہوں نے جدائی کو اس سادگی سے بیان کیا کہ ان کا گانا ہر ٹوٹے دل کی آواز بن گیا: ’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا، جدوں ساڈی یاد آئی، فیر کتھے جاویں گا۔‘ اس گیت کو ریڈیو پاکستان کے لیے استاد تصدق علی خان نے کمپوز کیا تھا جبکہ استاد غلام علی نے لفظوں کو آواز دی تھی۔

مشتاق شفائی کے گیتوں میں ایک خاص بات ہے کہ وہ مشکل زبان کے شاعر نہیں۔ ان کے ہاں لفظ عام آدمی کے ہیں، مگر احساس غیر معمولی۔ یہ وہ شاعری ہے جسے سمجھنے کے لیے لغت نہیں چاہیے۔ یہ سیدھا دل سے بات کرتی ہے۔ اور شاید یہی مشتاق شفائی کی سب سے بڑی طاقت ہے:

’تینوں بے چین نگاہواں سلام کہندیاں نیں‘

’وے توں آؤنا سی، توں نئیں آیا، سانوں تیری یاد ستاؤندی نیندر نئیں آندی‘

’مل گئی زندگی تیرے پیار سے‘ میرے آنگن دن آئے ہیں بہار کے‘

’خوبصورت سے بھی خوبصورت ہے تو، اس لیے زندگی کی ضرورت ہے تو‘

ریڈیو، فلم اور ٹیلی وژن، تینوں میدان ان کی تخلیقی سرگرمیوں کے گواہ ہیں۔ پاکستان ٹیلی وژن کے لیے بھی بڑی تعداد میں نغمے لکھے۔ پانچ دہائیوں کے اس سفر میں ان کے الفاظ مختلف گلوکاروں کی آواز بنتے رہے۔ کبھی محبت بن کر، کبھی جدائی بن کر، کبھی وطن سے محبت بن کر۔ 14 اگست کے لیے ان کا حالیہ ملی نغمہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

وہ شاعر جس کے گیت کبھی بڑے اسٹوڈیوز میں ریکارڈ ہوتے تھے، جس کے الفاظ پر موسیقار دھنیں بناتے تھے اور جنہیں نورجہاں جیسی عظیم گلوکارہ آواز دیتی تھیں، آج بھی لاہور کے لنڈا بازار میں پرانے کپڑوں کی ایک چھوٹی سی دکان پر بیٹھا نظر آتا ہے۔ یہ منظر بظاہر حیران کرتا ہے۔ مشتاق شفائی کے لیے شاید یہی زندگی کی تلخ حقیقت ہے، یہ بھی ان کے والد کے کاروبار ہی کا تسلسل ہے۔

مشتاق شفائی کے حالیہ انٹرویوز میں سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ نہیں کہ وہ پرانے کپڑے بیچتے ہیں۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہزاروں گیت لکھنے والا شاعر آج بھی ایک مستقل چھت کی خواہش رکھتا ہے۔ ان کے پاس اعزازات اور یادیں ہیں۔ گیت ہیں اور بڑے بڑے ناموں کی رفاقت، جن کے ساتھ کبھی انہوں نے کام کیا لیکن اپنی چھت نہیں۔

ایک شاعر جس نے دوسروں کے لیے بہاروں کے گیت لکھے، آج اپنی زندگی میں ایک مستقل گھر کی بہار کا منتظر ہے۔ مگر شاید وقت نے بہت دیر سے سہی، مشتاق شفائی کے دروازے پر ایک بار پھر دستک دی ہے۔

اگست 2026 میں حکومت پاکستان نے ان کا نام سول اعزازات کے لیے جاری فہرست میں شامل کرتے ہوئے صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی دینے کا اعلان کیا۔ یہ اعزاز 23 مارچ 2027 کو دیا جائے گا۔ یوں ایک ایسے شاعر کے نام کا سرکاری سطح پراعتراف ہوا، جس نے پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے تک پاکستانی موسیقی، فلم، ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لیے لکھا۔

یہ اعزاز شاید اس کے مالی مسائل حل نہ کرے۔ مگر کم از کم تاریخ کے دفتر میں یہ لکھ دے گا کہ لنڈا بازار کی ایک چھوٹی سی دکان پر بیٹھا ہوا یہ شخص صرف پرانے کپڑے بیچنے والا نہیں تھا۔

پھر واپس اسی تصویر کی طرف آئیے۔ وہ تصویر جس میں نورجہاں نے سر جھکا کر مشتاق شفائی کے ساتھ تصویر بنوائی تھی۔ ایک طرف پاکستان کی سب سے بڑی آواز۔ دوسری طرف ایک شاعر۔ نورجہاں جانتی تھیں کہ سامنے کھڑا شخص کون ہے۔ شاید وہ جانتی تھیں کہ گیت صرف گلوکار کی آواز سے نہیں بنتا، اس کے پیچھے کسی شاعر کا دل بھی ہوتا ہے۔

آج مشتاق شفائی لنڈا بازار میں بیٹھا ہے۔ دکان کے سامنے کپڑوں کے ڈھیر ہیں۔ شاید کوئی گاہک جیکٹ کی قیمت پوچھتا ہے۔ شاید کوئی پرانا کوٹ ہاتھ میں لے کر مول تول کرتا ہے۔ اور شاید کسی لمحے مشتاق شفائی کی آنکھوں کے سامنے وہ زمانہ بھی آجاتا ہو جب ایک طرف نورجہاں تھیں، دوسری طرف ماسٹر عبداللہ، اور درمیان میں ان کے لفظوں کی دنیا۔ وہ دنیا جس میں محبت تھی، جدائی تھی، بہار تھی، وطن تھا اور پچھتاوا بھی۔

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘، معلوم نہیں یہ گیت انہوں نے کس کے لیے لکھا تھا۔ مگر مشتاق شفائی کی زندگی کو دیکھا جائے تو لگتا ہے جیسے یہ گیت خود وقت سے مخاطب ہے۔ وقت نے شاعر کو بہت کچھ دیا، پھر لے بھی لیا۔ مگر شاعر نے لفظ نہیں چھوڑے اور شاید یہی کسی فنکار کی اصل فتح ہے کہ زمانہ بدل جائے، شہرت کی تعریف بدل جائے مگر اس کے لکھے ہوئے گیت کا مکھڑا لوگوں کی زبان پر زندہ رہے۔

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا’

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp