مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کا کریک ڈاؤن، گھروں پر چھاپے، ڈیجیٹل نگرانی مزید سخت

پیر 14 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز نے گھروں پر چھاپوں، تلاشی کارروائیوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے، جب کہ سوشل میڈیا پر مبینہ حکومت مخالف بیانیے کی تحقیقات کے نام پر شہریوں کے ڈیجیٹل آلات اور اہم دستاویزات بھی قبضے میں لی جا رہی ہیں، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلایا جا رہا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی ایجنسی کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر نے بھارتی فوج اور پیراملٹری فورسز کے ہمراہ مختلف اضلاع میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں کیں۔ شوپیاں اور کولگام میں رہائشی گھروں پر چھاپے مارے گئے، جب کہ کپواڑہ کے مختلف مقامات پر بھی چھان بین کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے یومِ استحصالِ کشمیر: جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت بحال کی جائے، سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی

کارروائیوں کے دوران شہریوں کے ڈیجیٹل آلات، لیپ ٹاپ، موبائل فونز، دیگر اشیا، گھریلو دستاویزات اور بینک ریکارڈ بھی قبضے میں لے لیے گئے۔

بھارتی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ چھاپے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مبینہ ’بھارت مخالف بیانیے‘ کے استعمال سے متعلق جاری تحقیقات کا حصہ ہیں۔

اس سے قبل بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی، ریاستی تحقیقاتی ایجنسی، بھارتی فوج اور پیراملٹری فورسز نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت بھی مختلف علاقوں میں چھاپے مارے تھے۔

ان کارروائیوں کا دائرہ بانڈی پورہ، بارہمولہ، کپواڑہ، کولگام، شوپیاں، اسلام آباد، پونچھ اور ادھم پور اضلاع تک پھیلا ہوا تھا۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ایک درجن سے زائد افراد سے پوچھ گچھ اور تفتیش بھی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے مقبوضہ جموں و کشمیر کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ دہلی میں احتجاج پر کیوں مجبور ہوئے؟

مقبوضہ علاقے میں گھروں پر چھاپے، گرفتاریاں اور ڈیجیٹل نگرانی بھارتی فورسز کی نام نہاد انسدادِ عسکریت پسندی کی کارروائیوں کا معمول بنتی جا رہی ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے ذریعے سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے، کشمیریوں کی آواز کو خاموش کرنے اور خاندانوں کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہزاروں کشمیری یو اے پی اے اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے سخت قوانین کے تحت بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں قید ہیں، جن میں سے متعدد کو منصفانہ ٹرائل کے بغیر حراست میں رکھا گیا ہے۔

اسی دوران بھارتی پولیس نے جنوبی کشمیر کے اسلام آباد اور کولگام اضلاع میں 3 الگ کارروائیوں کے دوران 4 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ گرفتار افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp