۔
۔
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے سینکڑوں افراد نے ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کے لیے احتجاج کیا۔ مظاہرین کی قیادت مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کی، جنہوں نے کہا کہ یہ احتجاج خطے کے حقوق، وقار اور چھینی گئی خودمختاری کی بحالی کی جدوجہد کا آغاز ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں سینکڑوں افراد نے پیر کے روز دہلی میں مظاہرہ کیا اور ریاستی درجہ واپس دینے کے حق میں نعرے لگائے۔
یہ بھی پڑھیے مقبوضہ کشمیر میں سینکڑوں کم عمر لڑکیاں لاپتہ، لوک سبھا میں تشویشناک انکشاف
مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔ عمر عبداللہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ پولیس نے مظاہرین کو احتجاج کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔
انہوں نے احتجاج کی تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کیں، جن میں لوگوں کو پلے کارڈز اٹھائے اور نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔
عمر عبداللہ نے اپنی پوسٹ میں کہا، ’یہ ریاستی حیثیت، ہمارے حقوق، ہمارے وقار اور ہم سے چھینی گئی ہر چیز کے لیے ہماری جدوجہد کا صرف آغاز ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے آزاد کشمیر کے عوام پرسکون، مقبوضہ کشمیر خوف کی فضا میں، محبوبہ مفتی کا اعتراف
واضح رہے کہ اگست 2019 میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کردی تھی۔ اس اقدام کے بعد خطے کی ریاستی حیثیت بھی ختم کردی گئی اور اسے دو وفاق کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کردیا گیا، جن میں جموں و کشمیر اور لداخ شامل ہیں۔
بھارتی حکومت کے اس فیصلے کے بعد سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی و آئینی صورتحال پر مسلسل بحث جاری ہے، جبکہ مقامی سیاسی جماعتیں اور رہنما ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔












