بھارتی ٹیم کا ایشیا کپ ٹرافی نہ لینے کا ڈراما: پروٹوکول توڑنا ہے تو بھارت ایسے ٹورنامنٹس میں شرکت ہی نہ کرے، سابق کرکٹر مدن لال

پیر 14 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق بھارتی فاسٹ بولر مدن لال نے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر محسن نقوی سے ایشیا کپ ٹرافی وصول کرنے سے بار بار انکار پر بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) پر سوال اٹھا دیے۔

یہ بھی پڑھیں: فتح بے وقار، ہٹ دھرمی برقرار: بھارتی ویمنز ٹیم کا محسن نقوی سے ایشیا کپ ٹی 20 ٹرافی لینے سے انکار

بھارتی ویمنز ٹیم نے اتوار کو اے سی سی ویمنز ٹی 20 ایشیا کپ 2026 کے فائنل میں سری لنکا ویمنز کو شکست دی لیکن بھارتی ٹیم نے ایک بار پھر آفیشل تقریب میں فاتح ٹرافی وصول نہیں کی۔

سنہ1983  ورلڈ کپ جیتنے والی بھارتی ٹیم کے رکن مدن لال نے محسن نقوی جو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین بھی ہیں سے ٹرافی کی پیشکش سے متعلق بار بار پیدا ہونے والے تنازعے پر مایوسی کا اظہار کیا۔

39 ٹیسٹ اور 67 ون ڈے میچوں میں بھارت کی نمائندگی کرنے والے سابق پیسر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اس فیصلے کے پیچھے موجود سوچ پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت اے سی سی حکام سے ٹرافیاں لینے کو تیار نہیں ہے تو اسے ایسے ٹورنامنٹس میں شرکت پر نظر ثانی کرنی چاہیے جہاں ٹرافی دینا پروٹوکول کا حصہ ہے۔

مدن لال نے لکھا کہ ’ایک بار پھر وہی پرانی کہانی۔ اگر ہمیں اسی طرح برتاؤ کرنا ہے تو ہمیں کسی بھی ٹرافی میں پاکستان کے ساتھ نہیں کھیلنا چاہیے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ بورڈ کا فیصلہ ہے۔

پریزنٹیشن تقریب میں کیا ہوا؟

دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں فائنل میں سری لنکا کو شکست دینے کے بعد بھارتی ویمنز ٹیم ٹرافی لینے کے لیے باہر نہیں آئی۔

مزید پڑھیے: ٹرافی دینے کے لیے پہلے بھی تیار تھا، اب بھی ہوں، میرے دفتر آئیں اور ٹرافی لے لیں، محسن نقوی نے بھارتی ٹیم پر واضح کردیا

پوسٹ میچ پریزنٹیشن میں تاخیر ہوئی کیونکہ بھارتی ٹیم محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے پر آمادہ نہیں تھی۔ ٹرافی پیش کرنے کا پروٹوکول طے ہو چکا تھا اور ٹرافی فاتح ٹیم کے لیے موجود تھی۔

تاہم بھارتی کھلاڑی اور کوچنگ اسٹاف ٹرافی لیے بغیر ڈریسنگ روم میں واپس چلے گئے جبکہ سری لنکا کی کپتان چماری اتھاپتھو نے اے سی سی صدر سے رنرز اپ کی انعامی رقم کا چیک وصول کیا۔

اے سی سی ذرائع کے مطابق ٹرافی بھارتی ٹیم کے لیے دستیاب رہی جبکہ بھارتی مینز ٹیم کی جانب سے سال 2025 ایشیا کپ میں جیتا گیا ٹائٹل بھی تاحال وصول کیا جانا باقی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ محسن نقوی اپنے گزشتہ مؤقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے اور پریزنٹیشن کے حوالے سے اپنے مؤقف پر قائم رہے۔

ڈریسنگ روم میں جشن

ٹائٹل جیتنے کے بعد بھارتی کھلاڑی الگ سے ایک ہڈل میں جمع ہوئیں جہاں ہیڈ کوچ امول مزومدار نے ٹیم سے خطاب کیا اور انہیں کامیابی پر مبارکباد دی۔

بعد ازاں بی سی سی آئی کے سیکریٹری دیواجیت سائکیا اور نائب صدر راجیو شکلا نے جشن میں شرکت کی اور کھلاڑیوں کو میڈلز پیش کیے جن میں نندنی شرما بھی شامل تھیں۔

سائکیا نے کھلاڑیوں کے ساتھ طویل گفتگو بھی کی اور شاندار مہم اور ٹائٹل جیتنے پر انہیں مبارکباد دی۔

مزید پڑھیں: بھارتی ٹیم کی ہٹ دھرمی، محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہیں کی، وننگ ٹرافی دیے بغیر ہی تقریب ختم

یہ تازہ واقعہ سال 2025 کے مینز ایشیا کپ فائنل سے کافی مماثلت رکھتا ہے جب بھارت نے دبئی میں پاکستان کو 5 وکٹوں سے شکست دی تھی اور بھارتی ٹیم نے اس وقت بھی پریزنٹیشن تقریب کے دوران محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔مدن لال۔

بھارتی ٹیم کی مذکورہ حرکت پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ ٹرافی وصول کرنے سے انکار کرنے سے بھارت کی سفارتی شکست اور عسکری شکست ختم نہیں ہوگی۔

انہوں نے بھارت کو اسپورٹس کلچر کو تباہ کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اسپورٹس اسپرٹ اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ میں وہ جذبہ نہیں ہے تو جیت یا ہار کوئی معنی نہیں رکھتی۔

چوہدری نے کہا کہ بھارتی حکومت نے اپنی پوری قوم میں جنونیت بھر دی ہے اور ہمارا اسپورٹس کلچر جو امن و محبت کی علامت تھا اور جس نے کئی جنگوں کو ختم کیا اسے کمزور کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بھارتی ٹیم حدیں پار کرنے لگی، جیت کی صورت میں محسن نقوی سے ٹرافی نہ لینے کا فیصلہ

وزیر مملکت نے زور دے کر کہا کہ پاکستان نے کھیلوں کو سیاسی نہیں بنایا اور نہ ہی اسے دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا نشانہ بنایا ہے اور وہ ہر متنازع مسئلے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp