اسلام آباد ہائیکورٹ: احتجاج کے نام پر راستے بند نہیں کیے جاسکتے، سرکاری وسائل سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے پر بھی پابندی

پیر 14 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 14 ستمبر کے فیصلے نے سیاسی احتجاج، شہریوں کے بنیادی حقوق اور ریاستی وسائل کے استعمال سے متعلق اہم قانونی اصول واضح کردیے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت، رہنما، صوبائی حکومت یا سرکاری عہدیدار عوامی استعمال کی جگہوں اور راستوں کو بند کرکے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت، کاروبار، تعلیم اور علاج تک رسائی متاثر نہیں کرسکتا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے 24 ارکان پارلیمنٹ کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم

عدالتی فیصلے کے مطابق عوامی مقامات کسی سیاسی جماعت یا گروہ کی ملکیت نہیں اور سیاسی ریلی، جلوس یا مارچ کے لیے انہیں اس انداز میں بند نہیں کیا جاسکتا جس سے عام شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوں۔

فیصلے میں سیاسی سرگرمیوں کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال پر بھی واضح پابندی عائد کی گئی ہے۔ صوبائی حکومتیں، وزرائے اعلیٰ اور دیگر متعلقہ حکام اسلام آباد کی جانب کسی سیاسی مارچ، جلوس یا ریلی کے لیے سرکاری فنڈز، گاڑیوں، مشینری یا دیگر وسائل استعمال نہیں کرسکتے۔

عدالت نے اس امر پر بھی زور دیا کہ سیاسی احتجاج کے لیے سرکاری مشینری اور اہلکاروں کا استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ سرکاری وسائل عوام کی خدمت کے لیے ہیں اور انہیں کسی سیاسی جماعت کی سرگرمی کے لیے استعمال کرنا قابلِ قبول نہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکلز 9، 15، 18، 23، 24 اور 25 اے کے تحت شہریوں کے جان و مال، آزادانہ نقل و حرکت، کاروبار، جائیداد اور دیگر بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے اور ان کے معمولات زندگی میں غیر ضروری رکاوٹ نہ آنے دے۔

سرکاری ملازمین کو سیاسی احتجاج میں شرکت پر مجبور نہیں کیا جاسکے گا

فیصلے میں سرکاری ملازمین کے حقوق کے تحفظ پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ صوبائی چیف سیکریٹریز اور انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ اسلام آباد کی حدود میں فرائض انجام دینے والے اپنے اہلکاروں کے آئینی حقوق اور ملازمت کا تحفظ یقینی بنائیں۔

کسی سرکاری ملازم کو کسی سیاسی مارچ یا احتجاج میں شرکت، اس کی معاونت یا اس مقصد کے لیے سرکاری وسائل استعمال کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے کسی دباؤ یا غیر قانونی حکم کی صورت میں اہلکار متعلقہ اعلیٰ حکام کو آگاہ کرسکیں گے۔

مزید پڑھیے: کیا 27 ستمبر کا احتجاج پی ٹی آئی کے لیے خطرہ ہے، صحافیوں کو بلوچستان کیوں بلایا گیا؟

عدالت نے شکایات کے ازالے کے لیے ہیلپ لائن یا براہِ راست رابطے کا نظام قائم کرنے اور شکایت موصول ہونے پر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی کی بھی ہدایت کی ہے۔

عدالتی حکم میں یہ اصول بھی واضح کیا گیا ہے کہ سرکاری عہدہ کسی شخص کو قانون اور آئینی ذمہ داریوں سے استثنا نہیں دیتا۔ شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی یا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے سرکاری عہدیداروں کو قانونی اور محکمانہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

احتجاج آئینی حق، مگر عوام کے راستے بند کرنا نہیں

عدالتی فیصلے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ سیاسی احتجاج اور اجتماع کا حق اپنی جگہ موجود ہے تاہم اس حق کے استعمال سے دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہونے چاہییں۔

شاہراہیں، عوامی مقامات اور راستے شہریوں کی آمدورفت، کاروبار، تعلیم، علاج اور روزمرہ زندگی کے لیے ہیں۔ سیاسی احتجاج کے نام پر انہیں طویل عرصے تک بند کرکے شہریوں کو مشکلات میں ڈالنے کو محض سیاسی سرگرمی قرار دے کر جائز نہیں بنایا جاسکتا۔

اسی طرح کسی سیاسی جماعت یا حکومت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ سرکاری خزانے، گاڑیوں، مشینری یا ملازمین کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرے۔

پشاور ہائیکورٹ کا نومبر 2025 کا فیصلہ بھی اہم پس منظر

سرکاری وسائل کے سیاسی استعمال سے متعلق معاملہ اس سے قبل بھی عدالتوں میں زیر بحث آچکا ہے۔ پشاور ہائیکورٹ نے نومبر 2025 میں قرار دیا تھا کہ سرکاری گاڑیاں، مشینری اور سرکاری ملازمین سیاسی احتجاج یا سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کیے جاسکتے۔

اس فیصلے میں بھی سیاسی سرگرمی اور ریاستی وسائل کے درمیان واضح فرق برقرار رکھنے پر زور دیا گیا تھا۔ عدالت نے اس امر کی نشاندہی کی تھی کہ ریاستی وسائل عوام کی امانت ہیں اور انہیں کسی سیاسی جماعت کی سرگرمی کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

اس تناظر میں پی ٹی آئی کے احتجاج اور لانگ مارچ کے دوران خیبر پختونخوا حکومت کی سرکاری مشینری اور وسائل کے استعمال کے معاملات بھی پہلے سامنے آچکے ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت پی ٹی آئی کی مدد، آزادکشمیر کشیدگی میں ملوث ہے، افغان پالیسی کے ذمہ دار قومی مجرم ہیں، خواجہ آصف

ستمبر 2024 میں پی ٹی آئی کی ایک ریلی کے لیے خیبر پختونخوا سے ریسکیو 1122 کا سامان اسلام آباد منتقل کیے جانے کی رپورٹ سامنے آئی تھی، جس پر سوالات اٹھے تھے کہ عوام کی ہنگامی خدمت کے لیے مختص سرکاری سامان کو سیاسی احتجاج کے لیے کیوں منتقل کیا گیا۔

اسی طرح نومبر 2024 کے احتجاج کے دوران بھی خیبر پختونخوا حکومت کی مشینری اور سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال کا معاملہ زیر بحث رہا۔

سیاسی سرگرمی اور ریاستی وسائل میں فرق واضح

اسلام آباد ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے کو اسی وسیع تر قانونی تناظر میں دیکھا جارہا ہے، جس میں سیاسی احتجاج کے حق اور عام شہریوں کے بنیادی حقوق کے درمیان توازن قائم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

فیصلے کی ہدایات کسی ایک سیاسی جماعت یا صوبائی حکومت تک محدود نہیں بلکہ ان کا اطلاق متعلقہ سیاسی جماعتوں، صوبائی حکومتوں، عوامی عہدیداروں اور سرکاری اہلکاروں پر ہوگا۔

عدالتی حکم کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ سیاسی مؤقف پیش کرنے اور احتجاج کرنے کا حق اپنی جگہ، لیکن عوام کے راستے بند کرنا، ان کے کاروبار اور آمدورفت میں رکاوٹ ڈالنا یا ریاستی وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا قابلِ قبول نہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ریاست کے خلاف سنگین جرائم: حماد اظہر کے بعد پی ٹی آئی کے دیگر مرکزی رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے گھیرا تنگ

یوں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک طرف شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری ریاستی اداروں پر عائد کی ہے تو دوسری جانب سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کو بھی یہ واضح پیغام دیا ہے کہ سیاسی سرگرمیوں کے لیے سرکاری وسائل اور عوامی سہولیات کو استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp