چین نے اپنے شہریوں کے بیرون ملک سفر سے متعلق پابندیوں میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے صنعتی یا تکنیکی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے افراد کے ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چینی ریاستی کونسل کے مطابق ٹیکنالوجی کی درآمد و برآمد سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے شہریوں کو ملک سے باہر جانے سے روکا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وائٹ ہاؤس کا چینی اے آئی کمپنی پر امریکی ٹیکنالوجی چرانے کا الزام، پابندیوں کا عندیہ
نئے قواعد کے تحت بیرون ملک غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے والے چینی شہریوں کو وطن واپسی کی تاریخ سے 6 ماہ سے 3 سال تک ملک سے باہر جانے سے بھی منع کیا جا سکے گا۔
چین اور امریکا کے درمیان ٹیکنالوجی کے میدان میں مقابلہ گزشتہ کچھ عرصے سے شدت اختیار کر چکا ہے، جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر مقامی طور پر تیار کیے گئے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ماڈلز کی صلاحیتیں چرانے کے الزامات بھی عائد کرتے رہے ہیں۔
China tightened travel curbs as new exit-and-entry rules took effect, barring citizens deemed a potential threat to national technology security from leaving the country. More here: https://t.co/GPwl4mSTmV
— Reuters Business (@ReutersBiz) September 15, 2026
چینی ریاستی کونسل کے مطابق نئے قواعد، جو پہلی بار جولائی میں جاری کیے گئے تھے اور منگل سے نافذ العمل ہوئے ہیں، کا مقصد قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقی کے مفادات کا تحفظ ہے۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نئی سفری پابندیاں چینی حکام کو وسیع اختیارات فراہم کرتی ہیں۔
سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کے ماہر تعلیم چونگ جیا ایان کا کہنا ہے کہ سلامتی اور مجرمانہ سرگرمیوں کی تعریف مبہم ہو سکتی ہے اور اسے باآسانی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا کا چینی ہیکنگ نیٹ ورک کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ، حساس اداروں کو نشانہ بنانے کا انکشاف
ان کے مطابق دنیا کو اس قانون کے دائرہ کار کا اندازہ اس وقت ہوگا جب اس کے تحت عملی طور پر کارروائیاں سامنے آئیں گی۔
چونگ نے غیر ملکی شہریوں پر عائد کیے جانے والے بعض ایگزٹ بینز کا حوالہ بھی دیا، جن میں حالیہ عرصے میں امریکی شہری من زیِن کا معاملہ بھی شامل ہے۔
امریکی حکومت کے مطابق سیاسی تجزیہ کار من زیِن کو 3 جون کو چین کے صوبے یوننان میں چینی حکام نے حراست میں لیا اور انہیں غیر مناسب طور پر زیر حراست رکھا گیا۔
مزید پڑھیں: چینی ٹیکنالوجی کے خلاف واشنگٹن کا نیا محاذ، روبوٹس پر پابندی، بیجنگ کا سخت ردعمل
چین نے اگست میں امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ من زیِن پر چینی قانون کی خلاف ورزی کا شبہ ہے۔
چونگ کے مطابق من زیِن کا معاملہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ چین کی جانب سے بیرون ملک جانے سے روکے جانے والے افراد کا دائرہ خاصا وسیع اور ممکنہ طور پر من مانی نوعیت کا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب سنگاپور کی نانیانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈیلن لوہ کے مطابق نئی سفری پابندیاں یہ پیغام دیتی ہیں کہ چین سلامتی یا قومی مفاد سے متعلق حساس شعبوں میں معلومات کے اخراج کو روکنے کے لیے کارروائی کرے گا۔














