وائٹ ہاؤس کا چینی اے آئی کمپنی پر امریکی ٹیکنالوجی چرانے کا الزام، پابندیوں کا عندیہ

جمعرات 23 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وائٹ ہاؤس نے چینی مصنوعی ذہانت یا اے آئی کمپنی مون شاٹ اے آئی پر امریکی کمپنی انتھروپک کے جدید اے آئی ماڈل کی صلاحیتیں چرانے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر انٹلیکچوئل پراپرٹی (دانشورانہ املاک) کی چوری ثابت ہوئی تو پابندیاں بھی عائد کی جا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چینی کمپنی مون شاٹ اے آئی کا نیا ماڈل کیمی کے 3‘ لانچنگ کے لیے تیار، خاص بات کیا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے مشیر مائیکل کریٹسیوس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ مون شاٹ اے آئی نے ڈسٹلیشن نامی طریقہ استعمال کرتے ہوئے انتھروپک کے جدید فیبل اے آئی ماڈل کی صلاحیتیں حاصل کیں اور انہیں اپنے نئے کیمی کے تھری ماڈل کی تیاری میں استعمال کیا۔

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی خبردار کیا کہ اگر چینی کمپنیاں صنعتی پیمانے پر ڈسٹلیشن حملوں کے ذریعے امریکی دانشورانہ املاک کی چوری کرتی ہیں تو ان کے خلاف پابندیاں عائد کرنا زیر غور ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اوپن سورس اے آئی اور اس سے جنم لینے والی جدت کی حمایت کرتے ہیں لیکن اوپن سورس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی دانشورانہ املاک ہر کسی کے لیے کھلی چھوٹ ہے۔

ڈسٹلیشن کیا ہے؟

ڈسٹلیشن مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک ایسا طریقہ ہے جس میں نسبتاً کمزور اے آئی ماڈل بار بار زیادہ طاقتور ماڈل سے سوالات کرکے اس کی کارکردگی اور صلاحیتوں کو سیکھنے یا نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس عمل کے ذریعے طاقتور ماڈل کی کئی خصوصیات نسبتاً چھوٹے ماڈل میں منتقل کی جا سکتی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کا الزام ہے کہ مون شاٹ اے آئی نے اسی طریقے سے انتھروپک کے جدید ماڈل کی صلاحیتیں حاصل کیں۔

اینویڈیا کے جدید سرورز تک غیرقانونی رسائی کا بھی الزام

مائیکل کریٹسیوس نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ مون شاٹ اے آئی نے اینویڈیا کے جدید سرورز تک غیرقانونی رسائی حاصل کی، جہاں کمپنی کے جی بی 300 گریس بلیک ویل کمپیوٹنگ سسٹمز موجود ہیں جنہیں جدید اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے: اے آئی چیٹ بوٹس پیاروں کے نہ رہنے کا غم کم کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں، نئی تحقیق

امریکا نے سنہ 2022 میں قومی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر اینویڈیا کی جدید ترین چپس کی چین کو برآمد پر پابندیاں عائد کر دی تھیں تاہم حکام کے مطابق غیرقانونی طور پر ان چپس کی منتقلی کا سراغ لگانا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

کیمی کے تھری ماڈل جلد اوپن سورس ہوگا

مون شاٹ اے آئی نے اعلان کیا ہے کہ وہ 27 جولائی کو اپنے کیمی کے تھری ماڈل کو اوپن سورس کے طور پر جاری کرے گی۔

ماہرین کے مطابق کسی اے آئی ماڈل کے اوپن سورس ہونے کے بعد دانشورانہ املاک کی چوری کا قانونی مقدمہ ثابت کرنا نسبتاً پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

کیمی کے تھری کو گزشتہ ہفتے متعارف کرایا گیا تھا اور اسے دنیا بھر میں خاصی توجہ حاصل ہوئی۔ متعدد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل مغربی اور چینی اے آئی ماڈلز کے درمیان موجود تکنیکی فرق کو نمایاں حد تک کم کرنے میں کامیاب دکھائی دیتا ہے، جو امریکا کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

اس سے پہلے بھی ایسے الزامات سامنے آ چکے ہیں

یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی چینی کمپنی پر ڈسٹلیشن کے ذریعے اے آئی صلاحیتیں چرانے کا الزام لگایا گیا ہو۔

مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت کی بڑھتی من مانی، چیٹ بوٹس کے ہدایات سے انحراف کے سینکڑوں واقعات

صرف 2 ماہ قبل جون میں انتھروپک نے بھی چینی ای کامرس کمپنی علی بابا پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے کلاڈ اے آئی ماڈل کی صلاحیتیں غیرقانونی طور پر ڈسٹلیشن حملوں کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بدخشاں میں طالبان کے اعلیٰ عہدیدار کی ہلاکت، افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال پر سوالیہ نشان؟

بے بی پاؤڈر سے کینسر : جانسن اینڈ جانسن نے  76 ہزار مقدمات سے جان چھڑانے کے لیے  5.5 ارب ڈالر  ادا کرنے کا فیصلہ کرلیا

آزاد کشمیر میں انتخابات کا پہلا مرحلہ پرامن اور شفاف رہا، چیف الیکشن کمشنر

آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ شفاف رہا، مسلم لیگ (ن) کو واضح برتری حاصل، عطا اللہ تارڑ

سپریم کورٹ کا پبلک فیسیلیٹیشن سینٹر مکمل طور پر فعال، سائلین کو 23 ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی

ویڈیو

جب تک ن لیگ کی حکومت قائم ہے پیپلزپارٹی اتحاد کا حصہ رہے گی، حسن مرتضیٰ

آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ: ن لیگ نے 13 میں سے 9 نشستیں جیت کر برتری حاصل کرلی، پیپلز پارٹی 4 پر کامیاب

سائیکل ایمبولینس: ہنگامی ضرورت یا ترقی کی رفتار پر سوال؟

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی