بلوچستان میں ملک دشمن عناصر سے کسی صورت مذاکرات نہیں ہوں گے، بابر یوسفزئی

بدھ 16 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معاون برائے وزیر داخلہ بلوچستان بابر یوسفزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں اب تک 1180 سے زیادہ دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ صوبے کے مختلف علاقوں میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے، اب ملک دشمن عناصر سے کسی صورت مذاکرات نہیں ہوں گے۔

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دہشتگردوں کو چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی، اب آنے والے دنوں میں کارروائیوں میں مزید تیزی آئے گی۔

مزید پڑھیں: دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

بابر یوسفزئی کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایف سی، پولیس اور سیکیورٹی فورسز مشترکہ طور پر دہشتگردوں کا تعاقب کر رہی ہیں، جبکہ شعبان، مستونگ، خضدار، قلات سمیت دیگر متاثرہ علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہاکہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے نیشنل کوآرڈینیٹر میجر جنرل فیصل نصیر کا بلوچستان کا حالیہ دورہ اہم تھا، جہاں انہوں نے صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیا۔

ان کے بقول میجر جنرل فیصل نصیر بلوچستان میں مختلف ادوار میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور دہشتگردی کے خلاف ان کا کردار نمایاں رہا ہے، اس لیے ان کی نیکٹا میں تعیناتی بلوچستان کے لیے خوش آئند ہے۔

بابر یوسفزئی نے دعویٰ کیاکہ بلوچستان میں دہشتگردی کے پیچھے بیرونی عناصر ملوث ہیں اور دشمن قوتیں صوبے میں بدامنی پیدا کرکے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتی ہیں۔

ان کے مطابق بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت، گوادر اور قدرتی وسائل کی وجہ سے دشمن یہاں بدامنی پھیلانے کی کوشش کررہا ہے۔

انہوں نے گزشتہ ہفتے صحافیوں کے 30 رکنی وفد کے بلوچستان کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ صحافیوں کو صوبے کی زمینی صورتحال، امن و امان اور دہشتگردی کے پس منظر سے آگاہ کیا گیا تاکہ قومی میڈیا بلوچستان کا مثبت چہرہ اجاگر کرے اور بیرونی پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دیا جاسکے۔

سرکاری ملازمین کی برطرفی سے متعلق سوال پر بابر یوسفزئی نے کہاکہ ریاست سے حلف لینے اور سرکاری مراعات حاصل کرنے والے ملازمین کو ریاست مخالف بیانیہ فروغ دینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

ان کے مطابق جن ملازمین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور سرگرمیوں کی نگرانی کے بعد ریاست مخالف بیانیے میں ملوث ہونے کے شواہد ملے، ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔

انہوں نے کہاکہ حکومت کو ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا حق حاصل ہے، تاہم نوجوانوں کے لیے راستہ تعلیم، قلم اور جمہوری جدوجہد کا ہے۔

مذاکرات کے معاملے پر بابر یوسفزئی نے واضح کیاکہ دہشتگردی میں ملوث عناصر سے مذاکرات نہیں ہوں گے، تاہم بلوچستان کے طلبہ، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں سے بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔

ان کے مطابق وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور وزیر داخلہ کا اس معاملے پر مؤقف ایک ہے کہ بندوق اٹھانے والوں کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جاسکتے۔

دہشتگردی کے لیے نجی املاک کے استعمال سے متعلق وزیراعلیٰ کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے بابر یوسفزئی نے کہاکہ اگر کسی باغ، گھر یا نجی پراپرٹی کو دہشتگردی کے لیے استعمال کیا جائے تو مالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں کو بروقت اطلاع دے۔

ان کے مطابق عام شہری کا دہشتگردوں سے لڑنا ضروری نہیں، تاہم اطلاع دینا اس کی اخلاقی، سماجی اور شہری ذمہ داری ہے۔

مزید پڑھیں: ریاست کے خلاف بولنے والے دہشتگردی پر خاموش، اسما جتک کیس میں انصاف ہوگا، مینا مجید، راحیلہ حمید

نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر بابر یوسفزئی نے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ انتظامی بنیادوں پر مزید صوبے اور انتظامی یونٹس بننے چاہییں تاکہ عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے دور دراز سفر نہ کرنا پڑے اور گورننس بہتر ہوسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام کو امن، تعلیم، روزگار اور بہتر حکمرانی کی ضرورت ہے، جبکہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ترقی اور عوامی مسائل کے حل پر بھی توجہ دینا ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp