مقبوضہ جموں کشمیر: کشمیری اپنی ہی سرزمین پر بے روزگار، باہر سے آنے والوں کے لیے کاروبار

بدھ 16 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مقامی دکانداروں اور چھوٹے تاجروں کو اپنی ہی سرزمین پر بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات اور روزگار کے عدم تحفظ کا سامنا ہے، کیونکہ بھارت کے مختلف حصوں سے آنے والے افراد ان کے شہروں میں سڑک کنارے اپنے کاروبار قائم کر رہے ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جموں میں باہر سے آنے والے افراد کی جانب سے ریڑھیاں اور اسٹالز لگانے میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مقامی دکانداروں کو کاروبار کے لیے مناسب جگہ اور مستقل آمدنی کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کا کریک ڈاؤن، گھروں پر چھاپے، ڈیجیٹل نگرانی مزید سخت

مقامی تاجروں نے باہر سے آنے والے افراد کے ساتھ بڑھتے ہوئے مقابلے اور قابلِ استعمال تجارتی مقامات اور مستحکم آمدنی کے حصول میں درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)، جنہوں نے دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد بھارتی حکومت کی پالیسیوں کی حمایت کی تھی، کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ خطے کو غیر مقامی افراد کے لیے کھولنے سے سرمایہ کاری، روزگار، سیاحت اور مقامی معیشت کو فروغ ملے گا۔

تاہم، مقامی افراد کا کہنا ہے کہ صورتِ حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ عام دکاندار اور مزدور اپنے روزگار کے تحفظ اور معاشی مواقع کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

جموں میں احتجاج کے دوران ایک دکاندار نے کہا، ’ جو لوگ آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے پر مٹھائیاں بانٹ کر جشن منا رہے ہیں، کیا وہ جموں کے دکاندار کی تکلیف اور مشکلات کو سمجھ سکتے ہیں؟ باہر کے لوگ یہاں آ کر سڑک کنارے اسٹالز لگا رہے ہیں، جبکہ جموں کا مقامی باشندہ اپنے ہی شہر میں روزی کمانے کے لیے ایک چھوٹی سی جگہ حاصل کرنے کی خاطر بھی جدوجہد کر رہا ہے۔‘

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا جموں میں مقامی لوگوں کو منصفانہ معاشی مواقع حاصل ہیں؟

دوسری جانب سول سوسائٹی کی جانب سے بھی 2019 کے بعد آبادیاتی تبدیلی، روزگار اور معاشی مواقع سے متعلق خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وسائل اور معاشی مواقع پر مقامی افراد کے اختیار کو کمزور کیا گیا ہے، جبکہ مقامی منڈیوں میں بیرونی لوگوں کی آمد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے مقبوضہ کشمیر کے انٹرن ڈاکٹرز 7 سال سے کم وظیفے پر کام کرنے پر مجبور، احتجاج پانچویں روز بھی جاری

وادی کشمیر میں بھی ایسے ہی مسائل کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جہاں مقامی دکانداروں کے مطابق غیر مقامی افراد نے مختلف علاقوں میں چھوٹے کاروبار شروع کیے ہیں۔

سری نگر کے لال چوک اور اس کے اطراف غیر مقامی افراد کی جانب سے ریڑھیاں اور چھوٹے کاروبار قائم کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ مقامی دکانداروں کا کہنا ہے کہ انہیں اجازت ناموں اور مناسب جگہ کے حصول میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

مقامی تاجروں کا سوال ہے کہ اگر ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں تو ان میں مقامی لوگوں کا حصہ کہاں ہے؟

جموں اور کشمیر، دونوں خطوں میں اٹھنے والے یہ خدشات اس وسیع بحث کو جنم دے رہے ہیں کہ 2019 کے بعد ہونے والی معاشی تبدیلیوں سے حقیقی فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے۔ مقامی چھوٹے تاجروں کے لیے معاملہ صرف کاروبار کا نہیں، بلکہ اپنے ہی شہر میں روزگار، جگہ اور معاشی تحفظ کا بھی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp