بھارتی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو مبینہ طور پر دانستہ معاشی دباؤ کا سامنا ہے، جہاں انٹرن ڈاکٹرز گزشتہ 5 روز سے احتجاج کر رہے ہیں اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں گزشتہ 7 برس سے صرف 128 ڈالر ماہانہ وظیفہ دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے انٹرن ڈاکٹرز تقریباً 18 گھنٹے روزانہ کام کے عوض صرف 4 ڈالر یومیہ حاصل کرتے ہیں، جو مبینہ طور پر ایک عام مزدور کی یومیہ آمدن سے بھی کم ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہلی کے بعض اسپتالوں میں انٹرن ڈاکٹرز کو تقریباً 245 ڈالر ماہانہ ادا کیے جاتے ہیں، جبکہ اڑیسہ اور مغربی بنگال میں دیہی تعیناتی کے دوران 24 گھنٹے کی شفٹ کرنے والے انٹرنز کو تقریباً 460 ڈالر ماہانہ تک معاوضہ ملتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر میں ایک دہائی کے دوران 5 ہزار سے زائد سرکاری اسکول ختم
اس حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ مسئلہ صرف طبی شعبے تک محدود نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی اسی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں۔ پی ایچ ڈی اور نیٹ کوالیفائیڈ اسسٹنٹ پروفیسرز کو مقبوضہ کشمیر میں تقریباً 10 ڈالر یومیہ کے مساوی معاوضہ ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ دہلی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسرز کو تقریباً 520 ڈالر ماہانہ ادا کیے جاتے ہیں۔
اس کے برعکس آزاد جموں و کشمیر میں میڈیکل انٹرنز کو تقریباً 231 ڈالر ماہانہ جبکہ پی ایچ ڈی یافتہ کنٹریکٹ اسسٹنٹ پروفیسرز کو تقریباً 400 ڈالر ماہانہ معاوضہ دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے اسپتالوں سے جامعات تک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو معاشی مواقع کی عدم مساوات کا سامنا ہے اور انہیں ایک ہی نوعیت کے کام کے بدلے بھارت کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں کم معاوضہ دیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں اسے ’منصوبہ بند معاشی دباؤ‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار اور مساوی معاوضے کے مواقع کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔














