امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے مصنوعی ذہانت کی ترقی روکنے کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسا کرنے سے امریکا چین کے مقابلے میں اپنی برتری کھو سکتا ہے۔
الجزیرہ اور رائٹرز کے مطابق مائیک جانسن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی پر پابندی یا وقفہ نہیں لگایا جاسکتا، کیونکہ اس صورت میں امریکا چین سے اپنی برتری کھو دے گا اور اس کے امریکی خاندانوں کی قومی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں کو بڑی حد تک خود اپنے معاملات کو منظم کرنے کی اجازت ہونی چاہیے اور حکومت کو انہیں ترقی کی رفتار کم کرنے کی ہدایت دینے کی ضرورت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:مصنوعی ذہانت تمام انسانوں کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہے، گوگل ڈیپ مائنڈ کے سابق ریسرچر کا بھیانک انتباہ
مائیک جانسن کے مطابق اگر کمپنیاں خود مصنوعی ذہانت کی ترقی سست کرنا چاہیں تو یہ ان کی مرضی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے اس حوالے سے لازمی پابندی عائد نہیں ہونی چاہیے۔
الجزیرہ کے مطابق امریکا میں مصنوعی ذہانت کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ بعض ارکانِ کانگریس اور دیگر شخصیات کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت روزگار، توانائی کے اخراجات اور عوامی تحفظ سمیت مختلف شعبوں کو متاثر کرسکتی ہے۔
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے پابند حفاظتی ضوابط کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ٹیکنالوجی سے کروڑوں ملازمتیں ختم ہونے اور کئی پیشوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر رہنے والے اسٹیو بینن نے بھی مصنوعی ذہانت کو موجودہ دور کا اہم ترین مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کی ترقی سست کرنے اور اس کے خطرات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
Washington is split on AI regulation. Mike Johnson says tech firms should self-regulate so the U.S. doesn't lose its competitive edge to China. Meanwhile, Sen. Blumenthal warns Big Tech can't police itself and demands urgent federal oversight as national security debate grows. pic.twitter.com/vv5NidLe6x
— MEAWW News (@meawwcom) September 15, 2026
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت سے متعلق خدشات کو ’فریب‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا میں پہلے ہی ضروری حفاظتی اقدامات موجود ہیں۔ تاہم مائیک جانسن نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے لیے حفاظتی ضوابط کی ضرورت ہوسکتی ہے، لیکن یہ متوازن اور محتاط انداز میں وضع کیے جانے چاہییں۔
انہوں نے آزاد آڈیٹرز کی ضرورت اور مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے شفافیت پر بھی زور دیا اور بتایا کہ بڑی اے آئی کمپنیوں کے عہدیداروں کو آئندہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں اجلاس کے لیے بلایا جائے گا۔













