اے آئی کی رفتار روکی تو چین امریکا سے آگے نکل جائے گا، امریکی اسپیکر

بدھ 16 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے مصنوعی ذہانت کی ترقی روکنے کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسا کرنے سے امریکا چین کے مقابلے میں اپنی برتری کھو سکتا ہے۔

الجزیرہ اور رائٹرز کے مطابق مائیک جانسن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی پر پابندی یا وقفہ نہیں لگایا جاسکتا، کیونکہ اس صورت میں امریکا چین سے اپنی برتری کھو دے گا اور اس کے امریکی خاندانوں کی قومی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں کو بڑی حد تک خود اپنے معاملات کو منظم کرنے کی اجازت ہونی چاہیے اور حکومت کو انہیں ترقی کی رفتار کم کرنے کی ہدایت دینے کی ضرورت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:مصنوعی ذہانت تمام انسانوں کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہے، گوگل ڈیپ مائنڈ کے سابق ریسرچر کا بھیانک انتباہ

مائیک جانسن کے مطابق اگر کمپنیاں خود مصنوعی ذہانت کی ترقی سست کرنا چاہیں تو یہ ان کی مرضی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے اس حوالے سے لازمی پابندی عائد نہیں ہونی چاہیے۔

الجزیرہ کے مطابق امریکا میں مصنوعی ذہانت کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ بعض ارکانِ کانگریس اور دیگر شخصیات کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت روزگار، توانائی کے اخراجات اور عوامی تحفظ سمیت مختلف شعبوں کو متاثر کرسکتی ہے۔

امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے پابند حفاظتی ضوابط کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ٹیکنالوجی سے کروڑوں ملازمتیں ختم ہونے اور کئی پیشوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر رہنے والے اسٹیو بینن نے بھی مصنوعی ذہانت کو موجودہ دور کا اہم ترین مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کی ترقی سست کرنے اور اس کے خطرات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت سے متعلق خدشات کو ’فریب‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا میں پہلے ہی ضروری حفاظتی اقدامات موجود ہیں۔ تاہم مائیک جانسن نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے لیے حفاظتی ضوابط کی ضرورت ہوسکتی ہے، لیکن یہ متوازن اور محتاط انداز میں وضع کیے جانے چاہییں۔

انہوں نے آزاد آڈیٹرز کی ضرورت اور مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے شفافیت پر بھی زور دیا اور بتایا کہ بڑی اے آئی کمپنیوں کے عہدیداروں کو آئندہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں اجلاس کے لیے بلایا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp