سابق بھارتی نیول کمانڈر نے پاکستان کی بحری صلاحیتوں اور چین سے حاصل کی جانے والی آبدوزوں پر بات کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے چینی ساختہ ٹائپ 039 یا ہنگور کلاس کی آبدوزیں حاصل کرنا بھارتی بحریہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں سابق بھارتی نیول کمانڈر سے پوچھا گیا کہ پاکستان کی جانب سے چین سے ٹائپ 039 یا ہنگور کلاس کی متعدد آبدوزیں حاصل کرنے کی صورت میں بھارت کے لیے یہ معاملہ کس قدر تشویش کا باعث ہوگا؟
یہ بھی پڑھیں:جدید ہنگور کلاس آبدوزوں کا منصوبہ، پاک بحریہ کا ایک سنگ میل
سابق بھارتی کمانڈر نے جواب دیا کہ یہ بھارت کے لیے ‘بہت بڑا دردِ سر’ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر صرف اپنی بحری صلاحیت بڑھا کر قابو پانا آسان نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے پاس 8 آبدوزیں ہوں تو معمول کے حالات میں ان میں سے 4 یا 5 ہی بیک وقت آپریشنل ہوں گی، تاہم اس کے باوجود بھارتی بحریہ کے لیے صورتحال مشکل ہوگی۔
سابق بھارتی نیول کمانڈر نے کہا کہ بھارت کے پاس بڑی تعداد میں بحری جہاز اور دیگر بحری وسائل موجود ہیں، تاہم پاکستانی آبدوزوں کی موجودگی ایک سنجیدہ چیلنج ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ دوسری جانب آبدوز کمانڈر ہوتے تو اس صورتحال کو ایک بڑا چیلنج سمجھتے۔














