وفاقی حکومت نے بجلی چوری پر قابو پانے کے لیے نیا نظام متعارف کروانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے تحت صرف چوری میں ملوث ٹرانسفارمر کو بند کیا جا سکے گا اور پورے فیڈر کے صارفین متاثر نہیں ہوں گے۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کے مطابق اس نظام کا ریگولیٹری فریم ورک اگلے سال اپریل یا مئی تک مکمل کر لیا جائے گا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بتایا کہ حکومت بجلی چوری کی روک تھام کے لیے ایک نیا انتظامی نظام لانے جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مقامی وسائل کے استعمال سے بجلی سستی، اگست میں 10 ارب روپے کی بچت ہوئی، اویس لغاری
انہوں نے واضح کیا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد بجلی چوری کی نشاندہی ہونے پر پورے فیڈر کو بند کرنے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔
وزیر توانائی کے مطابق نئے طریقہ کار کے تحت متعلقہ حکام صرف اسی ٹرانسفارمر کی بجلی منقطع کر سکیں گے جو چوری یا قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث پایا جائے، جبکہ اسی فیڈر سے جڑے دیگر تمام صارفین کی بجلی معمول کے مطابق بحال رہے گی۔
کئی ممالک میں پہلے سے رائج جدید نظام
اویس لغاری نے اس اقدام کو ایک جدید تصور قرار دیا اور کہا کہ یہ نظام دنیا کے متعدد ممالک میں پہلے ہی کامیابی سے استعمال ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس نظام کے نفاذ کے لیے مکمل فریم ورک پر کام کر رہی ہے اور اسے اگلے سال اپریل یا مئی تک حتمی شکل دے دی جائے گی۔
اضافی لوڈشیڈنگ کی تردید
وفاقی وزیر نے ملک میں اضافی لوڈشیڈنگ کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کوئی اضافی بجلی بندش نہیں کی جا رہی۔ لوڈشیڈنگ سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اگر لوڈشیڈنگ نہ کی جائے تو صارفین کو فی یونٹ اضافی 6 روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔
نیٹ میٹرنگ کی تبدیلیوں سے بیٹری اسٹوریج کا رجحان بڑھا
نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر توانائی نے بتایا کہ پالیسی میں کی گئی تبدیلیوں کے باعث صارفین بیٹری اسٹوریج سسٹم نصب کرنے کی جانب راغب ہوئے ہیں اور نیٹ میٹرنگ کے لیے درخواستیں اب بھی بڑی تعداد میں موصول ہو رہی ہیں۔
مزید پڑھیں:بجلی چوری کا توڑ ، حکومت فیڈر کے بجائے ٹرانسفارمز کی سطح پر لوڈ شیڈنگ کی تیاری کررہی ہے : اویس لغاری
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ محدود تعداد میں صارفین کا مالی بوجھ ملک بھر کے عام صارفین پر منتقل نہ ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے 3 سے 4 لاکھ افراد کا بوجھ باقی ماندہ 35 ملین صارفین پر ڈالے جانے کا سلسلہ روک دیا ہے‘۔
ورچوئل گرڈ سسٹم کے لیے بھی تیاریاں شروع
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جس کی صدارت محمد ادریس نے کی، اویس لغاری نے بتایا کہ حکومت ورچوئل گرڈ سسٹم کے لیے بھی ریگولیشنز تیار کر رہی ہے۔ اس نظام کے تحت عوام خود اپنی بجلی پیدا اور ذخیرہ کر سکیں گے، اور اس کے ریگولیٹری فریم ورک پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی پاک، روس تعاون کی نئی علامت بنے گی، اویس لغاری
وزیر توانائی نے بتایا کہ بجلی کے نظام کی اپ گریڈیشن کے لیے بھاری سرمایہ کاری درکار ہوگی، جس کے لیے درکار اخراجات کی منظوری نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے حاصل کی جائے گی۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے ایل این جی کارگو متاثر
کمیٹی اجلاس میں وزیر توانائی نے یہ بھی بتایا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پیٹرولیم ڈویژن ایل این جی کارگو وصول کرنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر حکومت مقامی سطح پر پیدا ہونے والی گیس کا استعمال احتیاط کے ساتھ کر رہی ہے۔














