روسی تیل خریدنے پر بھارت کو 100 فیصد تک ٹیرف کی امریکی دھمکی

جمعرات 17 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

روس سے تیل خریدنے پر بھارت کو ایک بار پھر امریکا کی جانب سے 100 فیصد تک اضافی ٹیرف کا سامنا ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان نے روس پر نئی پابندیوں اور روسی تیل و گیس خریدنے والے ممالک پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کے اختیارات سے متعلق قانون منظور کرلیا ہے۔

اس اقدام نے بھارت کو اپنی سب سے بڑی درآمدی ضروریات میں سے ایک کی لاگت کم کرنے اور ریفائنریوں کو وافر مقدار میں خام تیل فراہم کرنے میں مدد دی، تاہم اب یہی سودا جغرافیائی اور سیاسی خطرے کا باعث بن رہا ہے۔

قانون کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو روسی تیل و گیس خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار مل سکتا ہے، تاہم قانون پر حتمی دستخط اور اس کے عملی نفاذ کے مراحل ابھی باقی ہیں۔

بھارت اور چین ان ممالک میں شامل ہیں جنہیں اس صورتحال سے سب سے بڑا خطرہ لاحق ہے، کیونکہ دونوں ممالک روسی خام تیل کے بڑے خریدار ہیں۔ توانائی سے متعلق تحقیقی ادارے اور تھنک ٹینک سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر (کریا) کے مطابق، دسمبر 2022 سے اگست 2026 کے دوران روسی خام تیل کی برآمدات میں چین کا حصہ تقریباً 50 فیصد، بھارت کا 37 فیصد، ترکیہ کا 5 فیصد اور یورپی یونین کا بھی 5 فیصد رہا۔

یہ بھی پڑھیے مودی کی کس غلطی کی وجہ سے بھارت امریکا معاہدہ کھٹائی میں پڑا، امریکی وزیر تجارت نے بتادیا

دہلی میں قائم تھنک ٹینک گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو کے مطابق، مالی سال 2026 میں بھارت کی مجموعی خام تیل درآمدات میں روس کا حصہ 30.3 فیصد رہا، جس کی مالیت تقریباً 40 ارب 80 کروڑ ڈالر تھی۔ جولائی میں روسی تیل بھارت کی مجموعی خام تیل درآمدات کے نصف سے بھی زیادہ رہا۔

رپورٹ کے مطابق بھارت نے یوکرین جنگ کے بعد روسی تیل کی خریداری میں نمایاں اضافہ کیا، کیونکہ مغربی منڈیوں سے روسی خام تیل کے ہٹنے کے بعد بھارتی ریفائنریوں کو یہ تیل نسبتاً کم قیمت پر دستیاب رہا۔

امریکی سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے قانون کی منظوری کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بھارت اور چین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’چین اور بھارت، بہتر یہی ہے کہ آپ اپنا تیل و گیس کہیں اور سے خریدیں۔ ‘

مجوزہ قانون کے تحت متاثرہ ممالک کو روسی توانائی کی درآمدات کم کرنے یا واشنگٹن سے مذاکرات کے لیے عموماً 180 دن کی مہلت دی جا سکتی ہے، تاہم امریکی صدر اس مدت کو کم کرنے کا اختیار بھی رکھتے ہیں۔

بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر مزید پیشرفت کا جائزہ لے رہی ہے اور’اپنی عوام کی توانائی کی ضروریات کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’حالیہ مہینوں میں امریکی حکام سے اعلیٰ سطح پر بات چیت بھی ہوئی ہے۔ بھارتی فریق کی جانب سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ بین الاقوامی توانائی کی منڈی پر اس کے ممکنہ اثرات کو بھی واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔‘

ماہرین کے مطابق بھارت روسی تیل کے متبادل ذرائع تلاش کرسکتا ہے، تاہم اس کے لیے خام تیل، شپنگ اور انشورنس کے اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ طویل سمندری راستے اور عالمی منڈی میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ بھی بھارت کے لیے اضافی مالی بوجھ بن سکتا ہے۔

امریکی ٹیرف کا اثر صرف روسی تیل کی درآمد تک محدود نہیں ہوگا بلکہ بھارتی برآمدات، روپے کی قدر، ریفائنریوں کے منافع اور تجارتی توازن پر بھی پڑ سکتا ہے۔ امریکا بھارت کی اہم برآمدی منڈیوں میں شامل ہے۔ 2025 میں امریکا نے بھارت سے تقریباً 104 ارب ڈالر کی اشیا درآمد کیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اشیا اور خدمات کی مجموعی تجارت تقریباً 240 ارب ڈالر رہی۔

بھارت کی امریکا کو برآمدات میں الیکٹرانکس، ادویات، مشینری، زیورات، کیمیکلز، ٹیکسٹائل اور پیٹرولیم مصنوعات شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق 100 فیصد تک ممکنہ ٹیرف ایسے وقت میں بھارت کے لیے بڑا چیلنج بن سکتا ہے جب واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان تجارتی مذاکرات بھی جاری ہیں۔

دوسری جانب روسی خام تیل سے تیار ہونے والی بھارتی پیٹرولیم مصنوعات بھی عالمی تجارت کا حصہ ہیں۔ روسی ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں کے باعث روس کو بعض اوقات بیرونِ ملک سے ایندھن درآمد کرنا پڑا ہے۔ تحقیقی ادارے کے مطابق اگست میں روس کی پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچیں، جن میں بھارت نے تقریباً 70 فیصد حصہ فراہم کیا۔

یہ بھی پڑھیے امریکا کا بھارت کو بڑا جھٹکا، فوجی کمان سے ’انڈو‘ کا نام غائب، پینٹاگون کے فیصلے نے نئی دہلی میں کھلبلی مچا دی

بھارت اپنی خام تیل کی ضروریات کا 88 فیصد سے زیادہ درآمد کرتا ہے، جبکہ اس کی درآمدات کا بڑا حصہ چند ممالک پر منحصر ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارتی ریفائنریاں ہر قسم کے خام تیل پر یکساں طور پر نہیں چل سکتیں، اس لیے روسی تیل کی جگہ فوری طور پر دوسرے ذرائع لانا تکنیکی اور مالی، دونوں اعتبار سے مشکل ہوسکتا ہے۔

بھارت کھانا پکانے کے اہم ایندھن ایل پی جی کی اپنی ضرورت کا 60 فیصد سے زیادہ بھی درآمد کرتا ہے، جبکہ اس کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر محدود مدت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔

کونسل آن انرجی، انوائرمنٹ اینڈ واٹر کے اندازے کے مطابق، 2022 کے بعد روسی خام تیل کی خریداری بڑھانے سے بھارت نے تقریباً 12 ارب 60 کروڑ ڈالر کی بچت کی ہے۔ تاہم اب نئی دہلی کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ روسی تیل سے حاصل ہونے والی بچت امریکی تجارتی پابندیوں اور ممکنہ ٹیرف کے خطرے کے مقابلے میں کس حد تک فائدہ مند رہتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی ایئربیس پر پاکستانی جے ایف 17 طیاروں کو نشانہ بنانے کی خبر فیک نیوز، دعویٰ بے بنیاد نکلا

سعودی عرب کے دفاع سے متعلق آئی ایس پی آر کا بیان پوری قوم کی ترجمانی ہے، تحفظ حرمین شریفین کانفرنس

اے آئی یورپی معیشت کی پیداوار بڑھا سکتی ہے مگر معاشی عدم مساوات کا خطرہ بھی ہے، آئی ایم ایف

امریکی یونیورسٹی نے مولانا طارق جمیل کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نواز دیا

کھانے کی سجاوٹ کے لیے چیونٹیاں استعمال کرنا مہنگا پڑگیا، ریسٹورنٹ مالک کو لاکھوں روپے جرمانہ

ویڈیو

’میری بیٹی زندہ اور گھر میں موجود ہے‘، پمز آتشزدگی میں بچ جانے والی نومولود کے والد نے انتقال کی تردید کردی

ہنر سیکھنے کا سفر، بلوچستان کی خواتین مفت بیوٹیشن کورس کے لیے اسلام آباد پہنچ گئیں

سہیل آفریدی کا لاہور کا دورہ ناکام ترین رہا، جماعت اسلامی احتجاج کرنا چاہتی ہے تو آبنائے ہرمز یا باب المندب جائے، حنا پرویز بٹ

کالم / تجزیہ

قاتل لکھاری

سیاست عوام کے لیے کیوں نہیں؟

آپ کا سب سے بڑا مخالف آپ خود ہیں