سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایمان مزاری کیس کی سماعت کے دوران ایک غیر معمولی قانونی صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے، جب وکیلِ صفائی نے پاکستانی عدالتی نظیر کے بجائے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ پیش کر دیا۔
سماعت کے دوران اعلیٰ عدالت نے ایمان مزاری کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا پاکستان کی سپریم کورٹ کی ایسی کوئی عدالتی نظیر موجود ہے جس کی بنیاد پر ملزمہ کو قانونی ریلیف فراہم کیا جا سکے؟
عدالت کے اس سوال کے جواب میں دفاعی ٹیم کوئی مقامی نظیر پیش کرنے میں ناکام رہی اور اس کے بجائے بھارتی سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ پیش کیا گیا۔
پاکستانی عدالت عالیہ میں ریلیف کی استدعا کے لیے بھارتی عدالتی نظیر کو بطور قانونی بنیاد پیش کرنے کے اس عمل نے قانونی اور سیاسی حلقوں میں ایک نیا بحث کا باب چھیڑ دیا ہے، جسے ماہرین ایک دلچسپ قانونی تضاد کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔














