جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کے دیگر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ رابطے ہیں اور حافظ نعیم الرحمان نے تمام جماعتوں کو احتجاج میں شرکت کی دعوت بھی دی ہے تاہم فی الحال ہماری تمام تر توجہ 20 ستمبر کے اسلام آباد مارچ پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ: حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور آج ہوگا
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے احتجاج کی حمایت کی جا سکتی ہے اگر حکومت نے مشکل حالات پیدا کردیے تو سب کچھ پیچھے رہ جائے گا اور سب اکٹھے ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محسن نقوی سے حالیہ دنوں میں احتجاج کے حوالے سے کوئی رابطہ نہیں ہوا البتہ چند روز قبل ایک اسپتال میں ان سے مختصر ملاقات ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ محسن نقوی بہت اہمیت رکھتے ہیں اور ہم چاہیں گے کہ وہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ اس وقت ملک میں کوئی اپوزیشن اتحاد موجود نہیں اور نہ ہی جماعت اسلامی کسی اتحاد کا حصہ ہے۔ ہر سیاسی جماعت کا اپنا بیانیہ اور احتجاج کا اپنا طریقہ ہے، جماعت اسلامی کا بھی اپنا بیانیہ ہے اور اسی کے تحت جدوجہد جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ایک پرامن جماعت ہے، اپنے احتجاج کو پرامن رکھتی ہے اور اپنے کارکنوں کا دفاع کرتی ہے۔ ہر جماعت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی اپنا احتجاج پرامن رکھے۔
لیاقت بلوچ نے بتایا کہ جماعت اسلامی کے احتجاج میں فی الحال خواتین شرکت نہیں کریں گی بلکہ صرف نوجوان، کسان اور دیگر کارکنان شریک ہوں گے۔
’32 روز سے احتجاج جاری، 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ ہوگا‘
لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف 32 روز سے احتجاج جاری رکھا ہوا ہے اور اب 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ ہونا ہے جبکہ حکومت کے ساتھ جماعت اسلامی کے مذاکرات بھی جاری ہیں۔ حالیہ مذاکرات میں بھی جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ برقرار رکھا ہے۔
مزید پڑھیے: فیول ریلیف: وفاقی وزرا کی جماعت اسلامی کے وفد کو بریفنگ، لیاقت بلوچ نے حکومتی اعلامیہ مسترد کردیا
انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ فی لیٹر پیٹرول پر عائد اضافی پٹرولیم ڈیوٹی ختم کی جائے کیونکہ اس کے باعث پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
لیاقت بلوچ کے مطابق حکومت کے پاس پیٹرولیم مصنوعات سستی کرنے کے لیے بہت سے آپشن موجود ہیں۔ حکومت پالیسی ریٹ کم کرسکتی ہے جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع میں بھی کمی کی جاسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت وقت مانگ رہی ہے اور یہ بھی کہہ رہی ہے کہ ہم نے عوام کے لیے ریلیف کا اعلان کیا ہے لیکن یہ صرف ایک نمائشی ریلیف ہے۔ ایسے اقدامات سے حاصل ہونے والا ریلیف حکومتی آمدن اور اخراجات کے نظام میں ہی ضائع ہوجاتا ہے اور عوام کو حقیقی فائدہ نہیں پہنچتا۔
’ڈیزل مہنگا ہونے سے پبلک ٹرانسپورٹ اور کسان متاثر ہیں‘
لیاقت بلوچ نے کہا کہ ملک بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا بڑا حصہ ڈیزل پر چلتا ہے لیکن اس شعبے کے لیے قیمتیں کم نہیں کی گئیں اور نہ ہی کوئی مؤثر ریلیف دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح کسان اپنے ٹریکٹروں کے لیے ڈیزل استعمال کرتے ہیں لیکن ڈیزل مہنگا ہونے سے ان کے اخراجات میں بھی بہت اضافہ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق کسانوں کے لیے اعلان کردہ سبسڈی سے بھی کوئی مؤثر فائدہ نہیں پہنچ رہا۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ اگر حکومت کی نیت ہو تو عوام کو ریلیف دینے کے لیے تمام کام کیے جاسکتے ہیں۔
’20 ستمبر کے مارچ کا پلان میڈیا کو نہیں بتاسکتے‘
20 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کے حوالے سے لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کا جو بھی پلان ہے اسے فی الحال میڈیا کے سامنے نہیں بتایا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مارچ کے لیے اسلام آباد انتظامیہ سے رابطہ آج کرلیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم کے پیٹرول میں ریلیف کے اعلان کے باوجود کیا جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات ہوں گے؟
جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے معاملے پر مذاکرات جاری ہیں جبکہ جماعت اسلامی نے 20 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کی کال برقرار رکھی ہوئی ہے۔












