یہ بات تو طے ہے کہ سعودی عرب پر ہونے والے حملے بین الاقوامی قانون کی صریح پامالی ہیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت سعودی عرب کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کرے، تاہم معاملہ قانونی مباحث کی گتھیاں سلجھانے سے کہیں زیادہ سنگین ہے اور ایک مسلمان کے طور پر ہمارے دل لہو لہو ہیں۔
یہ خبر کیا کسی قیامت سے کم ہے کہ مکہ جیسے حرمت والے شہر کی جانب کوئی ڈرون یا کوئی میزائل جائے اور اس شہر میں الرٹ جاری کرنا پڑے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں صدمے سے حسیات برفاب ہو جاتی ہیں۔
اتحاد امت ایک نازک دھاگے کی صورت اختیار کر چکا ہے اور اسے اب تک پاکستان کی بصیرت نے سنبھالا ہوا ہے ورنہ ابتدا ہی سے امریکا ایران جنگ مسلمانوں کی باہمی جنگ میں بدلنے کے پورے خطرات موجود تھے، یہ پاکستان ہی تھا جس نے اس تصادم کو ٹالا۔ اس میں سعودی عرب کے غیر معمولی صبر و تحمل کا بھی بہت بڑا کردار ہے، لیکن صبر اور تحمل کی بھی ایک حد ہوتی ہے، اس حد کی حساسیت کو سمجھا جانا چاہیے۔
دھند کا چھٹنا اب بہت ضروری ہے، حوثی جنگجوؤں کو قوت کہاں سے ملتی ہے، یہ بات اب کوئی راز نہیں ہے۔ ایسے میں ایران کا یہ کہہ دینا کافی نہیں ہوگا کہ وہ الگ شناخت رکھتے ہیں اور اپنے فیصلوں میں خود مختار ہیں۔ یہ بات اب ابہام اور مغالطوں کے دائرے میں نہیں رہ سکتی۔ ایران کو ایک برادر اسلامی ملک کے طور پر بڑے واضح اور دوٹوک انداز میں حوثیوں کو روکنا ہوگا، اسے ایک ذمہ دار ملک کے طور پر بروئے کار آنا چاہیے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کا یہ بنیادی اصول رہا ہے کہ سعودی عرب تو ہماری عقیدتوں کا مرکز ہے، اس کی تو بات ہی اور ہے، مقامات مقدسہ کے لیے تو دل و جان کا فدا ہو جانا بھی ہمارے لیے سعادت ہے لیکن ایران بھی پڑوسی اور برادر اسلامی ملک ہے۔ ہم اس سے بھی صرف خیر خواہی اور بھائی چارے کا تعلق رکھیں گے۔ اسی لیے حالیہ جنگ میں بھی ہمارا کردار سراپا خیر رہا ہے۔ اس کا اعتراف بھی سب نے ہی کیا ہے۔
معاملات کو یہیں سنبھال لینے کا تعلق عقیدے سے بھی اور حکمت اور بصیرت سے بھی ہے۔ مسلم ممالک اگر کمزور ہوتے ہیں یا ان کا انفراسٹرکچر تباہ ہوتا ہے یا وہ باہم الجھ کر اپنی قوت ضائع کرتے ہیں تو اس کا فائدہ کس کو ہوگا؟ سب سے بڑا بینیفشری اسرائیل ہوگا۔ وہی اسرائیل جس کے خلاف ایران کا دعویٰ ہے کہ وہ مزاحمت کررہا ہے۔
اب اگر ایران اور اس کی اسرائیل مخالف مزاحمتی معاون قوتوں کی سرگرمی کا منطقی فائدہ اسرائیل کو پہنچے تو اس حکمت عملی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ مکرر عرض ہے کہ یہاں ابہام کی کوئی گنجائش نہیں ہے، دھند کا چھٹنا اب بہت ضروری ہے۔ حکمت، بصیرت اور درد مندی کی ضرورت ہے۔
مسلمان ممالک کی معاشی قوت کو نقصان پہنچے یا ان کی دفاعی قوت کمزور ہو جائے، اصل فائدہ اسرائیل کو ہوگا۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی باہمی جنگ میں کوئی مسلمان ملک فاتح نہیں ہوگا۔ یہ وہ جنگ ہے جس کا فائدہ صرف دشمن اٹھائے گا۔
ایران کو معلوم ہے پاکستان اس کے لیے خیر خواہی میں کس حد تک گیا۔ اسے یہ بھی معلوم ہے پاکستان سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کر چکا ہے۔ ایران کے زیر اثر جنگجوؤں کی وجہ سے اگر پاکستان کسی بڑی آزمائش سے دوچار ہوتا ہے تو ایران کے لیے خاموش رہنا کوئی آپشن نہیں ہے۔ ہم اگر اپنے بھائیوں کے لیے سراپا خیر ہیں تو جواب میں اپنے بھائیوں کے تشکر پاکستان کے نعرے کو اب عملی تائید کی بھی ضرورت ہے۔
پاکستان سعودی عرب سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ پاکستان امت سے لاتعلق نہیں رہ سکتا، پاکستان کا دکھ گہرا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اپنے دوستوں سے خیر خواہی کی ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کی حساسیت کا بھی احترام کیا جائے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا تعلق ایک دفاعی معاہدے تک محدود نہیں ہے، یہ عقیدت کا تعلق بھی ہے۔ اس میں وہ مقام بھی آ سکتا ہے جہاں حساب سودو زیاں کی بحث پیچھے رہ جائے۔
یہ تصادم اگر آگے بڑھتا ہے تو امریکا یا اسرائیل کو کیا تکلیف ہوگی؟ سارا نقصان مسلمان ممالک کا ہوگا۔ سعودی عرب کا نقصان ہوگا۔ خلیجی ممالک کا نقصان ہوگا۔ پاکستان کا نقصان ہوگا، ایران کا نقصان ہوگا۔ مسلمانوں کی معاشی اور عسکری قوت کمزور ہوگی۔ اسرائیل کو اور کیا چاہیے؟ مسلمانوں کا باہمی تصادم اسرائیل کےلیے تو واک اوور ہوگا۔
ایک طویل عرصے سے مسلم معاشرے میدان جنگ بنے ہوئے ہیں۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ اس سے مسلمانوں کو کیا فائدہ حاصل ہوا۔ ایران عراق جنگ میں مارے جانے والے مسلمانوں کی تعداد 10 لاکھ کے قریب ہے۔ سوڈان کی خانہ جنگی میں 20 لاکھ مسلمان مارے گئے۔ شام میں 5 لاکھ سے زیادہ مسلمان قتل کیے گئے۔ یمن میں ساڑھے تین لاکھ کے قریب مسلمان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ الجیریا کی سول وار میں 2 لاکھ مسلمان جان سے گئے۔ سوال یہ ہے کہ اس کا امت کو کیا فائدہ ہوا؟ مسلمانوں کا خون اتنا ارزاں کیوں؟
امت کو اس وقت تصادم کی حاجت نہیں، امت کو مرہم کی ضرورت ہے۔ دلاور وہی ہوگا جس کے ہاتھ میں مرہم ہوگا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












