مکہ امت کی ریڈلائن ہے؟

جمعرات 17 ستمبر 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یہ بات تو طے ہے کہ سعودی عرب پر ہونے والے حملے بین الاقوامی قانون کی صریح پامالی ہیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت سعودی عرب کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کرے، تاہم معاملہ قانونی مباحث کی گتھیاں سلجھانے سے کہیں زیادہ سنگین ہے اور ایک مسلمان کے طور پر ہمارے دل لہو لہو ہیں۔

یہ خبر کیا کسی قیامت سے کم ہے کہ مکہ جیسے حرمت والے شہر کی جانب کوئی ڈرون یا کوئی میزائل جائے اور اس شہر میں الرٹ جاری کرنا پڑے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں صدمے سے حسیات برفاب ہو جاتی ہیں۔

اتحاد امت ایک نازک دھاگے کی صورت اختیار کر چکا ہے اور اسے اب تک پاکستان کی بصیرت نے سنبھالا ہوا ہے ورنہ ابتدا ہی سے امریکا ایران جنگ مسلمانوں کی باہمی جنگ میں بدلنے کے پورے خطرات موجود تھے، یہ پاکستان ہی تھا جس نے اس تصادم کو ٹالا۔ اس میں سعودی عرب کے غیر معمولی صبر و تحمل کا بھی بہت بڑا کردار ہے، لیکن صبر اور تحمل کی بھی ایک حد ہوتی ہے، اس حد کی حساسیت کو سمجھا جانا چاہیے۔

دھند کا چھٹنا اب بہت ضروری ہے، حوثی جنگجوؤں کو قوت کہاں سے ملتی ہے، یہ بات اب کوئی راز نہیں ہے۔ ایسے میں ایران کا یہ کہہ دینا کافی نہیں ہوگا کہ وہ الگ شناخت رکھتے ہیں اور اپنے فیصلوں میں خود مختار ہیں۔ یہ بات اب ابہام اور مغالطوں کے دائرے میں نہیں رہ سکتی۔ ایران کو ایک برادر اسلامی ملک کے طور پر بڑے واضح اور دوٹوک انداز میں حوثیوں کو روکنا ہوگا، اسے ایک ذمہ دار ملک کے طور پر بروئے کار آنا چاہیے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا یہ بنیادی اصول رہا ہے کہ سعودی عرب تو ہماری عقیدتوں کا مرکز ہے، اس کی تو بات ہی اور ہے، مقامات مقدسہ کے لیے تو دل و جان کا فدا ہو جانا بھی ہمارے لیے سعادت ہے لیکن ایران بھی پڑوسی اور برادر اسلامی ملک ہے۔ ہم اس سے بھی صرف خیر خواہی اور بھائی چارے کا تعلق رکھیں گے۔ اسی لیے حالیہ جنگ میں بھی ہمارا کردار سراپا خیر رہا ہے۔ اس کا اعتراف بھی سب نے ہی کیا ہے۔

معاملات کو یہیں سنبھال لینے کا تعلق عقیدے سے بھی اور حکمت اور بصیرت سے بھی ہے۔ مسلم ممالک اگر کمزور ہوتے ہیں یا ان کا انفراسٹرکچر تباہ ہوتا ہے یا وہ باہم الجھ کر اپنی قوت ضائع کرتے ہیں تو اس کا فائدہ کس کو ہوگا؟ سب سے بڑا بینیفشری اسرائیل ہوگا۔ وہی اسرائیل جس کے خلاف ایران کا دعویٰ ہے کہ وہ مزاحمت کررہا ہے۔

اب اگر ایران اور اس کی اسرائیل مخالف مزاحمتی معاون قوتوں کی سرگرمی کا منطقی فائدہ اسرائیل کو پہنچے تو اس حکمت عملی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ مکرر عرض ہے کہ یہاں ابہام کی کوئی گنجائش نہیں ہے، دھند کا چھٹنا اب بہت ضروری ہے۔ حکمت، بصیرت اور درد مندی کی ضرورت ہے۔

مسلمان ممالک کی معاشی قوت کو نقصان پہنچے یا ان کی دفاعی قوت کمزور ہو جائے، اصل فائدہ اسرائیل کو ہوگا۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی باہمی جنگ میں کوئی مسلمان ملک فاتح نہیں ہوگا۔ یہ وہ جنگ ہے جس کا فائدہ صرف دشمن اٹھائے گا۔

ایران کو معلوم ہے پاکستان اس کے لیے خیر خواہی میں کس حد تک گیا۔ اسے یہ بھی معلوم ہے پاکستان سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کر چکا ہے۔ ایران کے زیر اثر جنگجوؤں کی وجہ سے اگر پاکستان کسی بڑی آزمائش سے دوچار ہوتا ہے تو ایران کے لیے خاموش رہنا کوئی آپشن نہیں ہے۔ ہم اگر اپنے بھائیوں کے لیے سراپا خیر ہیں تو جواب میں اپنے بھائیوں کے تشکر پاکستان کے نعرے کو اب عملی تائید کی بھی ضرورت ہے۔

پاکستان سعودی عرب سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ پاکستان امت سے لاتعلق نہیں رہ سکتا، پاکستان کا دکھ گہرا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اپنے دوستوں سے خیر خواہی کی ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کی حساسیت کا بھی احترام کیا جائے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا تعلق ایک دفاعی معاہدے تک محدود نہیں ہے، یہ عقیدت کا تعلق بھی ہے۔ اس میں وہ مقام بھی آ سکتا ہے جہاں حساب سودو زیاں کی بحث پیچھے رہ جائے۔

یہ تصادم اگر آگے بڑھتا ہے تو امریکا یا اسرائیل کو کیا تکلیف ہوگی؟ سارا نقصان مسلمان ممالک کا ہوگا۔ سعودی عرب کا نقصان ہوگا۔ خلیجی ممالک کا نقصان ہوگا۔ پاکستان کا نقصان ہوگا، ایران کا نقصان ہوگا۔ مسلمانوں کی معاشی اور عسکری قوت کمزور ہوگی۔ اسرائیل کو اور کیا چاہیے؟ مسلمانوں کا باہمی تصادم اسرائیل کےلیے تو واک اوور ہوگا۔

ایک طویل عرصے سے مسلم معاشرے میدان جنگ بنے ہوئے ہیں۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ اس سے مسلمانوں کو کیا فائدہ حاصل ہوا۔ ایران عراق جنگ میں مارے جانے والے مسلمانوں کی تعداد 10 لاکھ کے قریب ہے۔ سوڈان کی خانہ جنگی میں 20 لاکھ مسلمان مارے گئے۔ شام میں 5 لاکھ سے زیادہ مسلمان قتل کیے گئے۔ یمن میں ساڑھے تین لاکھ کے قریب مسلمان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ الجیریا کی سول وار میں 2 لاکھ مسلمان جان سے گئے۔ سوال یہ ہے کہ اس کا امت کو کیا فائدہ ہوا؟ مسلمانوں کا خون اتنا ارزاں کیوں؟

امت کو اس وقت تصادم کی حاجت نہیں، امت کو مرہم کی ضرورت ہے۔ دلاور وہی ہوگا جس کے ہاتھ میں مرہم ہوگا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غزہ میں نسل کشی کی رپورٹ سے لے کر نوبیل انعام تک، ناوی پلے کی جیت پر عالمی سیاست میں بھونچال

سیکیورٹی خدشات، راولپنڈی اور مری میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ

گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ کی موت پر وزیراعظم، وزیر داخلہ کے حکم پر ملزم کے خلاف مقدمہ درج

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی بازگشت، پولیس کی تیاری مکمل، اشتعال انگیزی کرنے والوں کی ویڈیوز ریکارڈ کرنے کی ہدایت

چین میں جراسک دور کے سب سے بڑے ممالیہ نما جانور کی دریافت، 160 ملین سال پرانا فوسل توجہ کا مرکز

ویڈیو

پی ٹی آئی کا مارچ لانگ نہیں، گول مارچ ہے، صوابی سے آگے نہیں بڑھ سکیں گے، ارکان اسمبلی کی رائے

پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کو دہشتگردوں کے حوالے کر دیا، صوبہ پتھر کے زمانے میں پہنچا دیا گیا، عطا اللہ تارڑ

نیشنل ٹیکنالوجی پارک کا نام ’دانش آئی ٹی پارک‘ رکھ دیا گیا، ملک بھر میں توسیع کا اعلان

کالم / تجزیہ

لیٹر باکس سے ان باکس تک

مودی حکومت، راہول اور جنریشن زی کا نیا سیاسی معرکہ

لانگ مارچ کی 12ویں برسی