اوپن اے آئی نے مصنوعی ذہانت کے غلط رویے کے 6 نئے واقعات رپورٹ کردیے

جمعہ 18 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت  کی امریکی کمپنی ’اوپن اے آئی‘ نے  اے آئی ماڈلز کے قابو سے باہر ہونے کے واقعات زیادہ منظم انداز میں رپورٹ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پہلے سے ظاہر نہ کیے گئے 6 واقعات کی تفصیلات بھی جاری کردی ہیں۔

اوپن اے آئی کی جانب سے شفافیت بڑھانے کا اعلان کمپنی سے متعلق جولائی سے سامنے آنے والے متعدد واقعات کے بعد کیا گیا ہے۔ ان میں سب سے سنگین واقعہ ایسے 2  اے آئی ماڈلز کا تھا جنہوں نے آزمائشی مرحلے کے دوران خودکار طور پر اپنے محدود ماحول سے نکل کر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی اور متعدد ویب سائٹس اور پلیٹ فارمز میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیے مصنوعی ذہانت سے تمام انسانیت کے خاتمے کا 10 فیصد سے زائد امکان ہے، اینتھروپک کے ایک اور ماہر میدان میں

کمپنی کے مطابق نیا رپورٹنگ نظام بیرونی ماہرین اور عام مبصرین کو جدید ترین اے آئی کی صلاحیتوں اور اس سے وابستہ خطرات کو سمجھنے میں مدد دے گا، تاکہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کے حوالے سے جاری بحث کو ٹھوس شواہد کی بنیاد فراہم کی جاسکے۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو داریو امودی نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کو مربوط انداز میں عارضی طور پر کم کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ اس ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے نئے خطرات کو سمجھنے کے لیے وقت مل سکے۔

اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹ مین، گوگل ڈیپ مائنڈ کے صدر ڈیمس ہسابس، اسپیس ایکس اے آئی کے سربراہ ایلون مسک اور مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹو ستیہ نڈیلا نے بھی اس تجویز کی حمایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے مصنوعی ذہانت کے مشورے پر عمل، چینی کسان کی 25 ایکڑ فصل تباہ

اوپن اے آئی نے کہا ہے کہ اے آئی کی نگرانی اور اس کی انسانی ترجیحات سے ہم آہنگی کے مسائل ابھی اس حد تک حل نہیں ہوئے کہ صنعت زیادہ سے زیادہ رفتار کے ساتھ ذمہ دارانہ انداز میں ترقی جاری رکھ سکے۔

 کمپنی کے نئے نظام کے تحت اے آئی کی جانب سے غیر مجاز اقدامات، نگرانی کے دائرے سے فرار اور مختلف اے آئی نظاموں کے درمیان ازخود رابطہ اور تعاون جیسے واقعات بھی رپورٹ کیے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp