وزیراعظم کا اہم فیصلہ، 20 سال پرانی موٹرسائیکلیں اور رکشے بھی فیول ریلیف اسکیم میں شامل

جمعہ 18 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف نے عوامی ریلیف کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے یکم جنوری 2006 کے بعد رجسٹرڈ ہونے والی 20 سال پرانی موٹرسائیکلوں اور رکشوں کو بھی ’وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم‘ میں فوری شامل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اسکیم پر عملدرآمد کو آسان بنانے کے لیے وزیراعظم نے پیٹرول پمپس پر خصوصی سہولت ڈیسک قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز میں فیول ریلیف پیکج پر اتفاق، عمل درآمد شروع

ان ڈیسکس پر ضلعی انتظامیہ کے اہلکار، رضاکار اور پیٹرول پمپ کا عملہ تعینات ہوگا، جو مستحق شہریوں کو رجسٹریشن اور سبسڈی کے حصول میں ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔

وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو یہ ہدایت بھی کی ہے کہ وہ اس اسکیم کے حوالے سے عوام میں بھرپور شعور بیدار کرنے کے لیے متحرک رہیں۔

ریلیف کا طریقہ کار اور مستحقین

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کے مطابق، یہ ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرام خاص طور پر کم آمدنی والے طبقے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔

اس اسکیم کے تحت موٹرسائیکل اور رکشہ مالکان کو ماہانہ 20 لیٹر تک، جبکہ 800cc تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو 30 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کی سبسڈی دی جائے گی۔

اس اقدام سے موٹرسائیکل سواروں کو ماہانہ 2000 روپے اور گاڑی والوں کو 3000 روپے کا ریلیف ملے گا۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس بچت سے ڈیلیوری رائیڈرز اور روزمرہ کی اجرت پر کام کرنے والوں کو اپنے گھر کا راشن اور بچوں کی فیسیں ادا کرنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ اور عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث 16 ستمبر کو یہ اسکیم ملک گیر سطح پر نافذ کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:پیٹرول ریلیف اسکیم مسترد: پیٹرولیم ڈیلرز نے حکومتی طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیے

پاکستان اکنامک سروے 25-2024 کے اعداد و شمار کے مطابق، پیٹرولیم مصنوعات پاکستان کے درآمدی بل کا سب سے بڑا حصہ ہیں، جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں آنے والا معمولی سا اتار چڑھاؤ بھی براہ راست ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور مہنگائی پر اثر انداز ہوتا ہے۔

اوپیک پلس کے فیصلے، مشرق وسطیٰ کے تنازعات اور بحیرہ احمر جیسے اہم تجارتی راستوں میں رکاوٹیں ملکی معیشت کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔

قیمتوں کا نیا میکنزم اور چیلنجز

رواں سال اپریل میں پیٹرول کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 458.40 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی، جب حکومت نے ایک ہی اضافے میں قیمت 137 روپے بڑھائی تھی۔

امریکا اور ایران کی حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں پیدا ہونے والے عدم استحکام سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت نے 17 جولائی کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہفتہ وار کے بجائے ’یومیہ بنیادوں‘ پر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:فیول سبسڈی اسکیم کے ثمرات زیادہ سے زیادہ مستحق شہریوں تک پہنچائے جائیں، وزیراعظم کی ہدایت

اگرچہ اس اقدام کو ٹرانسپورٹرز اور تاجر برادری کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، تاہم حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور معاشی اثرات کو متوازن رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp