روس کی تیزی سے مقبول ہونے والی میکس ایپ میں صارفین کی جاسوسی کے لیے خطرناک صلاحیتوں کا انکشاف ہوا ہے۔
تحقیق کے مطابق میکس ایپ صارفین کو علم ہوئے بغیر ان کے آلات کی اسکرین کے عکس لے سکتی ہے، جبکہ ایپ کی خدمات میں محفوظ معلومات تک بھی رسائی حاصل کرسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل ٹی وی کی نئی جاسوسی سیریز، بائیکاٹ کی مہم کیوں زور پکڑ رہی ہے؟
رپورٹ کے مطابق یہ تحقیق یونیورسٹی آف مشی گن کی کمپیوٹر سائنسدان رویا انصافی کی سربراہی میں کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ میکس اپنے نظام میں موجود پیغامات اور ادائیگیوں تک رسائی حاصل کرسکتی ہے اور صارفین کی شناخت اختیار کرکے ان کی نمائندگی بھی کرسکتی ہے۔
محققین کے مطابق میکس ایپ اپنی چھوٹی ایپس میں کوڈ بھی شامل کرسکتی ہے، جس کے باعث اسے سائبر حملوں کے لیے استعمال کیے جانے کا خدشہ ہے۔
رویا انصافی نے دی گارڈین سے گفتگو میں میکس کو آمرانہ حکومتوں کی جانب سے شہریوں کی نگرانی کے لیے استعمال ہونے والی حکمت عملی کی ایک مثال قرار دیا۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ میکس الگ سے استعمال ہونے والی ٹیلی گرام اور واٹس ایپ جیسی ایپس تک رسائی حاصل نہیں کرسکتی، اگرچہ روس میں دونوں پلیٹ فارمز پر پابندی عائد ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی سمندروں میں غیرملکی جاسوسی کا انکشاف، کچھووں اور مچھلیوں کا استعمال
رپورٹ کے مطابق سرکاری اداروں کے ملازمین، یونیورسٹی طلبہ، اساتذہ اور اسکول کے بچوں پر روزمرہ رابطوں اور مختلف خدمات کے لیے میکس استعمال کرنے کے لیے دباؤ ڈالے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
رویا انصافی نے میکس کو کسی بھی حکومت کے لیے ڈیجیٹل نگرانی کے دائرے کو وسیع کرنے کا ایک نمونہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ روس نے اپنی آبادی کو تیزی سے ریاست کے زیادہ کنٹرول والے انٹرنیٹ کی جانب منتقل کیا ہے۔














