سابق گورنر پنجاب، سابق سینیٹر اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما ملک محمد رفیق رجوانہ کا کہنا ہے کہ احتجاج ہر سیاسی جماعت کا حق ہے تاہم پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ کچھ زیادہ سختی ہوئی ہے جو نہیں ہونی چاہیے تاہم اس پارٹی کے ٹریک ریکارڈ کی وجہ سے 9 مئی جیسے واقعات کا اندیشہ رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن کو مذاکرات کا کہہ دیا، پھر بھی جتھے آئے تو ہم بھی تیار ہیں، فورسز انہیں ہرصورت روکیں گی، وزیر داخلہ محسن نقوی
وی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے محمد رفیق رجوانہ نے کہا کہ حال ہی میں جماعت اسلامی نے لاہور میں پیٹرولیم لیوی کے خلاف ایک چوک پر بیٹھ کر مظاہرہ کیا جو احتجاج کا درست طریقہ تھا لیکن پاکستان تحریک انصاف کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے احتجاج کے حوالے سے 9 مئی جیسے واقعات کا اندیشہ رہتا ہے۔
رفیق رجوانہ نے کہا کہ سیاسی جماعتیں احتجاج کریں لیکن اس دوران حدود و قیود کا خیال رکھنا چاہیے۔ اسلام آباد کی تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سابقہ احتجاجات نہ پی ٹی آئی اور نہ ہی حکومت کے لیے اچھی یادیں چھوڑ گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’اللہ نہ کرے کہ کوئی تصادم ہو‘۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پر چڑھائی کسی مسئلے کا حل نہیں اور 20 بار بھی دارالخلافے پر چڑھائی کریں گے تو مسئلہ حل نہیں ہوگا کیوں کہ مسائل کا حل مذاکرات اور پارلیمانی اپوزیشن میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں آئے روز ہونے والے احتجاجات سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے اور نوکریوں پر جانے والے افراد، طلبہ اور عام شہریوں کے لیے اپنی کام کی جگہوں تک پہنچنا دشوار تر ہوجاتا ہے۔
مریم نواز کے نجی طیارے کے استعمال پر تنقید
مریم نواز کے نجی طیارے کے استعمال پر ہونے والی تنقید اور اس حوالے سے مریم نواز کے جواب کے بارے میں سوال پر رفیق رجوانہ نے کہا کہ ان پر بہت تنقید ہوئی اور گزشتہ روز وہ اپنے جذبات کا اظہار کچھ زیادہ شدت سے کر گئیں۔
مزید پڑھیے: جماعت اسلامی نے لاہور سے دھرنا ختم کردیا، اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تیاری
انہوں نے کہا کہ باقی یہ ایک حساس موضوع ہے اور میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکمنامہ احتجاج روکنے کے لیے کتنا مؤثر؟
اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکمنامے کے ذریعے احتجاج روکنے کی کوشش کی افادیت سے متعلق سوال پر رفیق رجوانہ نے کہا کہ ہائیکورٹ کسی سے بیانِ حلفی لے سکتی ہے کہ کوئی غیر قانونی کام نہیں ہوگا لیکن موقع پر ہونے والی اشتعال انگیزی کو نہیں روک سکتی۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اور خطے کے حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ وقت احتجاج کے لیے بالکل مناسب نہیں۔
’احتجاج کے ذریعے عمران خان رہا نہیں ہوں گے‘
رفیق رجوانہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ کوشش کر رہے ہیں کہ احتجاج کے ذریعے عمران خان کو رہا کروا لیں لیکن ان کی رہائی عدالتوں کے ذریعے ہوگی۔
مزید پڑھیں: پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا سپر لانگ مارچ، شیڈول جاری
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے ڈی چوک پر جلسہ، جلوس اور اشتعال انگیزی کے ذریعے عمران خان کی رہائی نہیں ہوسکتی۔ البتہ میں یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ عمران خان کے مقدمات کے فیصلے جلد کیے جائیں۔
’ملک میں لسانیت اور صوبائیت کا معاملہ بڑا نہیں‘
ملک میں لسانیت اور صوبائیت کے معاملے پر بات کرتے ہوئے رفیق رجوانہ نے کہا کہ ملک میں لسانیت کی بنیاد پر کوئی مناقشہ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائیت بھی اتنی نہیں کہ ہم اسے اس نہج پر سمجھیں کہ یہ علیحدگی کا مسئلہ ہے البتہ بلوچستان میں جہاں ہمارے فوجی جوان اور سویلین شہید ہو رہے ہیں وہاں مسئلے کا سیاسی حل نکالنا چاہیے۔
’اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی نئے صوبوں سے زیادہ ضروری ہے‘
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر رفیق رجوانہ نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کو اختیارات دینے اور ان کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کے حوالے سے منصوبہ پاکستان مسلم لیگ ن نے بنایا تھا جسے پی ٹی آئی نے اپناتے ہوئے نافذ کیا اور جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ آج کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے بنانے کے لیے سب سے پہلا فورم صوبائی اسمبلی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک اسمبلی میں اس معاملے پر بحث نہیں ہوگی باقی مباحثے غیر ضروری ہیں اور کسی مناسب فورم پر اس حوالے سے بحث نہیں ہو رہی۔
یہ بھی پڑھیے: پیپلزپارٹی نے 18 سالوں میں سندھ تباہ کردیا، نئے صوبے ناگزیر ہوچکے ہیں، فوزیہ حمید
رفیق رجوانہ نے کہا کہ سنہ 2012 میں جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے کی قراردادیں اب بھی مؤثر ہیں۔ تاہم صوبوں سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں یا کسی اور طریقے سے اگر میرے مسائل مقامی سطح پر حل ہوتے ہیں تو ایسا ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بنیادی مسئلہ لوگوں کے مسائل کا ہے اس لیے ضروری ہے کہ بااختیار مقامی حکومتیں قائم کی جائیں۔













