وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے اسلام آباد کو ’سومنات‘ بنانے سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پُرامن شہریوں کو وفاقی دارالحکومت آنے سے کوئی نہیں روکے گا، تاہم دہشتگردی یا غیرقانونی اقدام کی اجازت نہیں دی جائےگی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہاکہ اگر آپ پُرامن شہری ہیں تو ہر راستے سے اسلام آباد آئیں، سو بار آئیں، لیکن اگر دہشتگرد بن کر آئیں گے تو پھر واپس جانے نہیں دیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیاکہ کوئی بھی غیرقانونی اقدام برداشت نہیں کیا جائے گا۔
وزیر مملکت نے کہاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا اور دارالحکومت میں ایسا کوئی اقدام برداشت نہیں ہوگا جس سے شہریوں کی جان و مال کو خطرہ لاحق ہو۔
سینیٹر طلال چوہدری نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال اور حکومتی کارکردگی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں دہشتگردی پر قابو نہیں پایا جا سکا، جبکہ صحت اور تعلیم کی سہولیات بھی موجود نہیں ہیں، لیکن اس کے باوجود اسلام آباد کو ’سومنات‘ بنانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں معلوم ہے کہ انہوں نے خیبرپختونخوا کو سومنات بنا دیا ہے۔
طلال چوہدری نے مزید کہا کہ حکومت اس طرح کی سوچ کو آگے بڑھنے نہیں دے گی، کیونکہ متعلقہ افراد نے خود اپنے اصل منصوبے سے آگاہ کر دیا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی تیاریوں اور حکومتی اقدامات پر سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔
پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو دھمکی دی کہ اس بار ہم صرف لاشیں اٹھانے نہیں آئیں گے، اسلام آباد کو سومنات بنا دیں گے۔
جنید اکبر کے اس بیان پر شدید تنقید کی جارہی ہے، اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آخر یہ پی ٹی آئی کا کیسا پر امن مارچ ہے۔














