حکومت کا بڑا معاشی اقدام، ایس ایم ایز کے لیے 300 ارب روپے کی خصوصی فنانسنگ کا اعلان

ہفتہ 7 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی حکومت نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان (ایس ایم ایز) کو عالمی منڈیوں میں مسابقت کے قابل بنانے کے لیے بڑا معاشی فیصلہ کیا ہے۔

حکومت کی جانب سے جاری منصوبے کے مطابق پاک ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت مختص 300 ارب روپے کی پوری رقم صرف اہل چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمدی کاروباروں کے لیے مخصوص کر دی ہے۔

فیصلے کے مطابق تقریباً 1.1 ارب امریکی ڈالر مالیت کی اس مالی سہولت کا مقصد چھوٹے برآمد کنندگان کو آسان شرائط پر سرمایہ فراہم کرنا، کاروباری لاگت کم کرنا، برآمدات میں اضافہ اور ملکی برآمدی بنیاد کو وسعت دینا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی اور بلاتعطل فراہمی کے لیے حکومت متحرک، نئی پالیسی پر عملدرآمد شروع

اس فیصلے کو کاروباری شعبے کے لیے براہ راست مالی معاونت کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

300 ارب روپے کی رقم اب صرف ایس ایم ای برآمد کنندگان کے لیے مختص

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی قیادت اور وزیراعظم شہباز شریف کے معاشی وژن کے تحت کیے گئے اس پالیسی فیصلے کے مطابق پاک ایکسپورٹ امپورٹ بینک (پاک ایگزم بینک) کی ایکسپورٹ فنانس اسکیم (ای ای ایف ایس) کے تحت مختص 300 ارب روپے اب خصوصی طور پر اہل چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان کو فراہم کیے جائیں گے۔

اس سے قبل مذکورہ مالی وسائل چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں، زرعی شعبے سے وابستہ ایس ایم ایز اور اسکیم سے پہلی مرتبہ استفادہ کرنے والے کاروباری افراد کے درمیان مشترکہ طور پر مختص تھے۔

تاہم نئی پالیسی کے تحت فنڈز کی ترجیحات تبدیل کرتے ہوئے پوری رقم اہل ایس ایم ای برآمد کنندگان کے لیے مخصوص کر دی گئی ہے، جس سے برآمدی کاروباروں کو مالی وسائل تک رسائی میں سہولت ملنے کی توقع ہے۔

چھوٹے برآمد کنندگان کو سرمایہ حاصل کرنے میں آسانی ہوگی

حکومتی فیصلے کا بنیادی مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمدی کاروباروں کو درکار سرمایہ نسبتاً آسان شرائط پر فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ اپنے روزمرہ کاروباری اخراجات پورے کرنے کے ساتھ پیداواری سرگرمیوں کو وسعت دے سکیں۔

مزید پڑھیں:ایس ایم ایز کو بڑا ریلیف، وزیراعظم کی قرضوں کے لیے 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کرنے کی ہدایت

اس مالی معاونت سے کاروباری اداروں کو ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات پوری کرنے، عالمی منڈیوں میں مسابقت بڑھانے اور نئی برآمدی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

حکومت کے مطابق اس اقدام سے چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے برآمدی شعبے میں ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور زیادہ سے زیادہ کاروبار بین الاقوامی تجارت کا حصہ بن سکیں گے۔

پاک ایگزم بینک نے بینکوں کو عمل درآمد کی ہدایت کر دی

اس پالیسی فیصلے پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے پاک ایگزم بینک نے اسکیم میں شریک بینکوں کو ضروری ہدایات جاری کر دی ہیں۔

شریک بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ 300 ارب روپے کی مختص رقم کو نئی پالیسی کے مطابق اہل چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان تک پہنچایا جائے اور دستیاب فنڈز کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے۔

اس اقدام کا مقصد محض مالی وسائل مختص کرنا نہیں بلکہ ان کی بروقت فراہمی اور مستحق کاروباری اداروں تک رسائی کو بھی یقینی بنانا ہے۔

وفاقی بجٹ 27-2026 میں برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس ریلیف

ایس ایم ایز کے لیے خصوصی فنانسنگ کی یہ سہولت وفاقی بجٹ 27-2026 میں برآمدی شعبے کے لیے اعلان کردہ مراعات کا تسلسل ہے۔

بجٹ میں برآمدی شعبے پر عائد ایکسپورٹ سرچارج ختم کرنے، برآمدی آمدن پر ٹیکس اور سپر ٹیکس میں کمی اور برآمد کنندگان کو نمایاں طور پر کم شرح سود پر رعایتی فنانسنگ فراہم کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

ان پالیسی اقدامات کا مقصد کاروباری اداروں پر مالی اور ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنا، ان کے پاس دستیاب نقد سرمائے میں اضافہ کرنا اور نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

مزید پڑھیں:تاجروں کے مسائل حل کرنا حکومت کی ترجیح، برآمدکنندگان اور ایس ایم ایز کو مزید سہولیات دیں گے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

حکومت کا مؤقف ہے کہ فنانسنگ میں آسانی اور ٹیکسوں میں ریلیف کے مشترکہ اثرات سے پاکستانی برآمد کنندگان عالمی منڈیوں میں زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں گے۔

معاشی استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب پیش رفت

حکومت کے مطابق یہ مربوط اقدامات وزارت خزانہ کے اس وسیع تر معاشی ایجنڈے کا حصہ ہیں، جس کا مقصد کاروباری شعبے کی مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانا اور برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

اس پالیسی کا ایک اہم ہدف ملکی برآمدی بنیاد کو وسیع کرنا اور چھوٹے کاروباری اداروں کو ترقی کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ نہ صرف اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کر سکیں بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کریں۔

حکومتی اقدامات کے تحت سرمایہ کاری میں اضافے، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، روزگار کی فراہمی اور برآمدات میں وسعت کو باہم مربوط معاشی اہداف قرار دیا گیا ہے۔

چھوٹے کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی حکمت عملی

حکومت کا کہنا ہے کہ 300 ارب روپے کی خصوصی مالی سہولت اور بجٹ میں اعلان کردہ ٹیکس مراعات کا مقصد پالیسی اعلانات کو عملی اور براہ راست کاروباری معاونت میں تبدیل کرنا ہے۔

مزید پڑھیں:’بلاک چین، ٹوکنائزیشن اور اسٹیبل کوائنز پاکستان کی معیشت بدل سکتے ہیں‘، وزیر مملکت اور چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی

ان اقدامات کے ذریعے زیادہ سے زیادہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو برآمدی سرگرمیوں میں شامل کرنے، نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، روزگار کے مواقع بڑھانے اور پاکستان کی مجموعی برآمدات میں اضافہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

حکومتی حکمت عملی کے تحت معاشی استحکام کے بعد اب توجہ پائیدار ترقی، کاروباری مسابقت اور برآمدات میں مسلسل اضافے پر مرکوز کی جا رہی ہے، جبکہ ایس ایم ایز کو ملکی معیشت کی ترقی میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنانا اس پالیسی کا بنیادی مقصد ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایرانی شہری کو غیر قانونی پاکستانی شناختی کارڈ جاری کرنے کا الزام، نادرا کے سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار

’این سی سی آئی اے‘ کال سینٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن کیوں کررہی ہے؟

ایک لاکھ کے ڈیپ فریزر پر 35 لاکھ روپے ہرجانے کا مطالبہ، کراچی میں دلچسپ مقدمہ سامنے آگیا

حلقہ این اے 77 میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام، الیکشن کمیشن نے عطا اللہ تارڑ کو طلب کر لیا

نئی آٹو پالیسی میں 800 اور 1000 سی سی گاڑیوں کے لیے کیا فیصلہ ہوا؟ عطااللہ تارڑ نے بتا دیا

ویڈیو

سُرتال اکیڈمی کے بچوں کی بھارت سمیت دنیا بھر میں دھوم

اسموگ کے خاتمے کے لیے لاہور میں اینٹی اسموگ گنز کا دائرہ وسیع، لاک ڈاؤن کا کوئی منصوبہ نہیں

ترقی کے سفر میں لیہ کب شامل ہوگا؟ شہری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے منتظر

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟