نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیرمتزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر فلسطین سے متعلق او آئی سی کمیٹی آف 6 کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے پر عملدرآمد کے لیے امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ کے حوالے سے او آئی سی اجلاس میں سعودی عرب کا کردار لائق تحسین ہے: فلسطینی سفیر ڈاکٹر زہیر زید
انہوں نے کہا کہ جامع امن منصوبے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد ضروری ہے۔
اسحاق ڈار نے مسجد اقصیٰ سمیت الحرم الشریف میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مغربی کنارے، بشمول مشرقی بیت المقدس، میں غیرقانونی آبادکاری، آبادکاروں کے تشدد اور الحاق سے متعلق اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
🔈 PR No. 2️⃣5️⃣1️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Statement by the Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 at the OIC Committee of Six on Palestine.
🔗⬇️ pic.twitter.com/QUuRPnDJVA
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) September 22, 2026
انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم یعنی او آئی سی پر زور دیا کہ ان اقدامات کے خلاف مربوط اور مؤثر سفارتی کوششیں مزید تیز کی جائیں۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ غزہ کی تعمیر نو اور مستقبل کے انتظام و حکمرانی سے متعلق انتظامات فلسطینی قیادت میں ہونے چاہییں، جبکہ فلسطینی اتھارٹی کو اس عمل میں مرکزی کردار دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں پر احتساب کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
مزید پڑھیں: غزہ کی صورتحال پر جدہ میں او آئی سی کا ہنگامی اجلاس، پاکستان نے 7 مطالبات پیش کردیے
اسحاق ڈار نے ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی ریاست 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، جبکہ پاکستان فلسطین کی اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کی بھی حمایت کرتا ہے۔














