تحریک انصاف کو احتجاج کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے، عمران خان مذاکرات کے ذریعے ہی باہر آسکتے ہیں، سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان

منگل 22 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ اور پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز (پی ٹی آئی پی) کے چیئرمین محمود خان نے کہا ہے کہ 2023 میں شاہ محمود قریشی نے عمران خان کے کان میں یہ بات ڈالی تھی کہ خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کردی جائے۔ خیبرپختونخوا کی قیادت نے اس فیصلے کی مخالفت کی تھی، تاہم بعد میں فواد چوہدری اور پنجاب کی دیگر قیادت نے بھی عمران خان کو اسمبلی تحلیل کرنے پر آمادہ کرلیا۔

وزارت اعلیٰ کے خاتمے اور پی ٹی آئی چھوڑنے کے بعد پہلی مرتبہ تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے وی نیوز کو بتایا کہ اسمبلی تحلیل کرنے کا سب سے زیادہ نقصان تحریک انصاف کو ہوا۔

مزید پڑھیں: جیل سے رہائی کے بعد شاہ محمود قریشی عمران خان کی جگہ لے سکتے ہیں؟

انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے تھے کہ اگر اسمبلیاں تحلیل کرنا ضروری  ہیں تو پہلے پنجاب اسمبلی تحلیل کی جائے۔ وہاں انتخابات کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے بعد میں خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا جاتا، لیکن ہماری ایک نہ سنی گئی۔

محمود خان نے کہاکہ 16 جولائی 2023 کو عمران خان کے ساتھ ان کا آخری رابطہ ہوا تھا۔ عمران خان نے انہیں پارٹی نہ چھوڑنے کا کہا، تاہم کچھ مجبوریاں ایسی تھیں جن کی وجہ سے انہیں تحریک انصاف چھوڑنا پڑی۔ ان کے بقول، اگر وہ پارٹی نہ چھوڑتے تو عمران خان اور انہیں، دونوں کو نقصان پہنچتا۔

علی امین گنڈا پور کی کارکردگی اور بشریٰ بی بی کی جیل

سابق وزیراعلیٰ محمود خان نے علی امین گنڈا پور پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 19 ماہ کے اقتدار کے دوران کچھ بھی ڈیلیور نہیں کیا۔ ’علی امین گنڈا پور کو وزیراعلیٰ بنانے کا بنیادی مقصد عمران خان کی رہائی تھا، لیکن وہ بیک وقت دونوں طرف کھیل رہے تھے۔‘

محمود خان کے مطابق جب عمران خان کو معلوم ہوا کہ علی امین گنڈا پور ان کے لیے نہیں بلکہ دوسرے فریق کے لیے کام کررہے ہیں تو انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

انہوں نے الزام عائد کیاکہ علی امین گنڈا پور کے تمام احتجاج پلانٹڈ ہوتے تھے۔ وہ 12 سے 13 اضلاع عبور کرکے ویڈیوز بناتے تھے، حالانکہ وہ صرف ایک ضلع عبور کرکے بھی خیبرپختونخوا پہنچ سکتے تھے۔

محمود خان نے دعویٰ کیاکہ بشریٰ بی بی اس وقت علی امین گنڈا پور کی وجہ سے جیل میں ہیں۔ ان کے بقول، علی امین گنڈا پور نہیں چاہتے تھے کہ بشریٰ بی بی پشاور میں رہیں، اس لیے انہوں نے اپنی نگرانی ختم کرانے کے لیے بشریٰ بی بی کو جیل میں بند کرا دیا۔

انہوں نے علی امین گنڈا پور پر کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہاکہ انہیں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ علی امین گنڈا پور کرپشن کرتے تھے۔ ’ان کے بھائی فیصل امین نے ایک الگ دفتر قائم کر رکھا تھا، جہاں کرپشن کا بازار گرم تھا۔‘

سہیل آفریدی کے انتخاب کی وجوہات

محمود خان نے بتایا کہ اکتوبر 2025 میں جب عمران خان نے علی امین گنڈا پور کو ہٹایا تو وزیراعلیٰ کے لیے انہیں 3 نام پیش کیے گئے تھے۔ ان میں سے 2 ناموں سے عمران خان ذاتی طور پر واقف تھے، اس لیے انہوں نے انہیں پہلی فرصت میں مسترد کردیا۔

ان کے مطابق عمران خان سہیل آفریدی کو نہیں جانتے تھے، تاہم انہیں توقع تھی کہ یہ قبائلی نوجوان کچھ کر دکھائے گا، اس لیے انہوں نے سہیل آفریدی کے نام کا قرعہ نکالا۔

محمود خان کا کہنا تھا کہ ان کے علم کے مطابق سہیل آفریدی کو حکومتی امور چلانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ ان پر بہت زیادہ دباؤ تھا، جس کی وجہ سے انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم، محمود خان نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے سنا ہے کہ سہیل آفریدی کے بھائی اور ان کے دستِ راست نے بھی وزیراعلیٰ ہاؤس کو کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔

پی ٹی آئی پی اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات

محمود خان نے بتایا کہ جب پی ٹی آئی پی قائم کی گئی تو پرویز خٹک اس کے پہلے چیئرمین تھے۔ 2024 کے انتخابات کے بعد تحریک انصاف کو ایک سیاسی جماعت کی ضرورت پیش آئی، کیونکہ الیکشن کمیشن نے ان کی جماعت کو ڈی لسٹ کر دیا تھا۔

ان کے مطابق عمران خان کے کہنے پر تحریک انصاف نے ان سے رابطہ کیا۔ تحریک انصاف کا مطالبہ تھا کہ پرویز خٹک کو پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹا دیا جائے۔ انہوں نے یہ بات پرویز خٹک کے سامنے رکھی، جس کے بعد وہ مستعفی ہوگئے۔

محمود خان نے بتایا کہ بعد میں تحریک انصاف کے رہنما پی ٹی آئی پی کی چیئرمین شپ چاہتے تھے، تاہم انہوں نے انہیں وائس چیئرمین کا عہدہ دینے کی پیشکش کی۔ اس معاملے پر اتفاق نہ ہو سکا، جس کے نتیجے میں تحریک انصاف 70 سے زیادہ مخصوص نشستوں سے محروم ہوگئی۔

ان کے مطابق پرویز خٹک نے ان سے کہا تھا کہ آپ لوگوں نے مجھے بھی مستعفی کرا دیا اور تحریک انصاف والے بھی نہیں آئے۔ پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔

محمود خان وزیراعلیٰ کیسے بنے؟

محمود خان نے بتایا کہ 2018 کے انتخابات کے بعد پرویز خٹک ہر صورت دوسری بار وزیراعلیٰ بننا چاہتے تھے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے بھرپور لابنگ کی۔

انہوں نے کہاکہ اس دوران عاطف خان بھی وزارتِ اعلیٰ کے مضبوط امیدوار تھے۔ جب دونوں کے درمیان رسہ کشی شدت اختیار کر گئی تو بالآخر ان کے نام کا قرعہ نکلا اور عمران خان نے انہیں وزیراعلیٰ بنا دیا۔

محمود خان کے مطابق ان کا نام جہانگیر ترین اور مراد سعید نے پیش نہیں کیا تھا، تاہم دونوں نے ان کی حمایت ضرور کی تھی، جس کے بعد پارٹی نے ان کے نام کی حتمی منظوری دی۔

عمران خان سے اختلافات اور کابینہ میں تبدیلیاں

محمود خان نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ 2018 کے انتخابات کے بعد ایک صحافی کے ساتھ ان کے اختلافات پیدا ہوئے۔ اس صحافی نے عثمان بزدار کے ساتھ ان کا موازنہ کرتے ہوئے انہیں ’وسیم اکرم پلس‘ قرار دیا تھا۔

محمود خان کا کہنا تھا کہ وسیم اکرم ایک اچھے کرکٹر تھے۔ وزیراعلیٰ کی مسند پر بیٹھنے کے بعد انہوں نے کئی امور پر عمران خان کی باتوں کی مخالفت کی، تاکہ صوبے کے مفادات کا مقدمہ لڑ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی کابینہ کے ارکان عاطف خان، شہرام خان اور شکیل خان کو اس بات پر تکلیف تھی کہ وہ وزیراعلیٰ کیسے اور کیوں بنے۔ وہ مسلسل ان کے خلاف لابنگ کرتے اور انہیں کام نہیں کرنے دیتے تھے۔

محمود خان کے مطابق انہوں نے عمران خان سے ان ارکان کی شکایت کی، جس کے بعد انہیں کابینہ سے نکال دیا گیا۔ بعد میں جب معاملات ٹھیک ہوگئے تو انہیں دوبارہ کابینہ میں شامل کر لیا گیا۔

’تحریک انصاف کو مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے‘

محمود خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اب کوئی وجود نہیں رکھتی۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کی موجودہ قیادت کو احتجاج کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتی مقدمات میں صرف تاریخیں بدلتی رہیں گی، اس لیے تحریک انصاف کی قیادت کو ہر صورت مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

27 ستمبر کو تحریک انصاف کے احتجاج کے حوالے سے محمود خان نے کہاکہ پارٹی رہنماؤں کو سمجھنا چاہیے کہ احتجاجی مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی ممکن نہیں۔ اگر وہ لوگوں کو اکٹھا کر حالات خراب کریں گے تو اس کا نقصان بھی تحریک انصاف ہی کو ہوگا۔

نگران وزیراعلیٰ کے انتخاب میں پرویز خٹک کا کردار

محمود خان نے بتایا کہ 2023 میں جب نگران وزیراعلیٰ کا انتخاب ہو رہا تھا تو پرویز خٹک نے پہلے عمران خان کو ایک نام پر آمادہ کیا بتایا کہ یہ بہت اچھا آدمی ہے۔

ان کے مطابق وہ اپوزیشن کے ساتھ اس نام پر اتفاق نہیں کرنا چاہتے تھے، تاہم پرویز خٹک کو اس معاملے میں بہت زیادہ دلچسپی تھی۔

افغان طالبان سے وابستہ افراد کی واپسی کا فیصلہ

محمود خان نے مزید بتایا کہ عمران خان کے اقتدار کے آخری دور میں ایک اِن کیمرہ اجلاس ہوا تھا، جس میں تمام وزرائے اعلیٰ اور شہباز شریف بھی بطور اپوزیشن لیڈر موجود تھے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی میں اختلافات بڑھ گئے، 27 ستمبر کے احتجاج پر پنجاب اور خیبر پختونخوا کی قیادت میں کس بات پر تنازع ہے؟

ان کے مطابق اس اجلاس میں یہ بات کی گئی تھی کہ افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ افراد کو واپس لایا جائے۔

محمود خان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ صرف عمران خان کا نہیں تھا، بلکہ اس وقت کی تمام قیادت نے مل کر یہ فیصلہ کیا تھا۔ بعد میں افغانستان سے پاکستان آنے والے بہت سے افراد واپس چلے گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp