گھر کے اندر قتل میں گواہ کہاں سے آتے ہیں، سپریم کورٹ کا استفسار

منگل 22 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے بیوی کے قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزم کی اپیل پر سماعت کے دوران گھریلو ناچاقی اور گھر کے اندر ہونے والے قتل کے مقدمات میں شواہد سے متعلق اہم سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے موکل کے خلاف کوئی براہِ راست شواہد موجود نہیں۔

بیوی کو قتل کرنے کے الزام میں ملزم کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت جسٹس ملک شہزاد احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کی۔

دورانِ سماعت ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے خلاف قتل کے الزام میں نہ کوئی براہِ راست شواہد موجود ہیں اور نہ ہی کوئی ایسی دستاویز پیش کی گئی ہے جو اسے جرم سے جوڑتی ہو۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ : قابل دست اندازی جرم کی اطلاع پر اندراج مقدمہ میں تاخیر کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت

عدالت نے استفسار کیا کہ گھر کے اندر ہونے والے قتل کے مقدمے میں گواہ کہاں سے آتے ہیں، جسٹس ملک شہزاد احمد نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی آر میں گھریلو ناچاقی کا ذکر کیا گیا ہے۔

جس پر جسٹس شکیل احمد نے استفسار کیا کہ گھریلو ناچاقی کے کون سے ثبوت ہوتے ہیں؟ انہوں نے ریمارکس دیے کہ ملک میں گھریلو ناچاقی کے 90 فیصد مقدمات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ بعض مقدمات میں خاندان کی جانب سے دباؤ ہوتا ہے، جبکہ بعض واقعات روایات کے باعث بھی رپورٹ نہیں کیے جاتے۔

جسٹس شکیل احمد نے مزید ریمارکس دیے کہ گھریلو ناچاقی کے نتیجے میں ہونے والے تشدد کے واقعات میں پہلے کی نسبت اب کچھ کمی آئی ہے۔

مزید پڑھیں: ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس، سپریم کورٹ نے سیشن عدالت کو مزید کارروائی سے روک دیا

پروسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملزم بے قصور تھا تو وہ جیل سے بھی درخواست دے سکتا تھا۔

اس پر جسٹس ملک شہزاد احمد نے ریمارکس دیے کہ جب کوئی جیل چلا جائے تو پھر کون سنتا ہے، بڑے بڑے لوگ جیل سے شکایات کر رہے ہیں، اب بڑے کی کوئی نہیں سن رہا تو اس کی کس نے سننی ہے۔

جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ ملزم کی پستول میچ کر گئی ہے، عدالت نے ملزم کے وکیل کو مزید تیاری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp