خیبر پختونخوا میں ساڑھے 12 سال سے ایک حکومت ہے لیکن ترقی کا فقدان ہے، عطا اللہ تارڑ

منگل 22 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں تعمیر و ترقی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، صوبے میں ساڑھے 12 سال سے ایک ہی حکومت موجود ہے لیکن اس کے باوجود ترقی کا فقدان ہے۔

پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا کے دورے کا آغاز کوہاٹ سے کیا، خیبر پختونخوا غیور عوام کی دھرتی ہے۔ کوہاٹ واقعہ کے زخمیوں اور شہدا کے لواحقین سے ملاقات ہوئی، ان کے حوصلے بلند دیکھے۔ شہید پولیس کانسٹیبل فہیم اللہ کے والد نے اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں:قومی یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے، عطا اللہ تارڑ کا دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کا دورہ

وفاقی وزیر نے کہا کہ پشاور پریس کلب کی دنیا میں منفرد حیثیت ہے، پشاور کے صحافیوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔ فرائض کی ادائیگی کے دوران شہید ہونے والے میڈیا ورکرز اور صحافیوں کا ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا جبکہ شہید اور دوران سروس وفات پانے والے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ شہدا کے لواحقین پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پشاور پریس کلب کی قومی بیانیے کے حوالے سے متوازن پالیسی ہے، پشاور کے صحافیوں کے لیے ہیلتھ انشورنس کا اجرا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ 9 مئی کو نذر آتش کی جانے والی ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت وزیراعظم کی ہدایت پر مکمل طور پر فعال کر دی گئی ہے۔ ریڈیو پاکستان کے دروازے صحافیوں کے لیے کھلے ہیں، پشاور کے صحافی ریڈیو پاکستان کے اسٹوڈیوز میں پوڈ کاسٹ اور وی لاگ ریکارڈ کر سکتے ہیں۔ پوڈ کاسٹ اسٹوڈیوز سمیت دیگر اسٹوڈیوز بھی یہاں کے صحافیوں کے لیے دستیاب ہونے چاہئیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ عبداللہ جان مرحوم نے ریڈیو پاکستان پشاور سے پاکستان بننے کا اعلان پشتو زبان میں کیا تھا، ریڈیو پاکستان معلومات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ صحافیوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، امیر جماعت اسلامی نے لانگ مارچ مؤخر کرنے کے حوالے سے مشاورت کرنے کا کہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشوں کو رعایتی نرخوں پر پٹرول فراہم کیا جا رہا ہے، عوام کو اربوں روپے کا ریلیف دیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے پاس نہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے اور نہ ہی اس پر عمل درآمد کا اختیار ہے، یہ معلوم نہیں کہ فیصلہ سازی کا اختیار کس کے پاس ہے۔

مزید پڑھیں:عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سرکاری وسائل عوام کے لیے ہیں، احتجاجوں کے لیے نہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی وہ جماعت ہے جو کبھی پرامن نہیں رہ سکتی۔ حکومت کسی کو امن و امان میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دے گی۔ گزشتہ روز بھی انہوں نے کہا تھا کہ کسی بھی پرتشدد گروہ کو اسلام آباد کی طرف مارچ نہیں کرنے دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ انسداد دہشتگردی کے لیے این ایف سی ایوارڈ کے تحت ہر سال خیبر پختونخوا حکومت کو حصہ دیا جاتا ہے۔ این ایف سی کے آغاز کو 16 سال ہو چکے ہیں، بتایا جائے کہ امن و امان کے لیے مختص اربوں روپے کہاں خرچ کیے گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستانی روپیہ قدم بہ قدم ترقی کی جانب گامزن، ڈالر اور بٹ کوائن کتنے کے؟

حق مہر بیوی کا قانونی اور شرعی حق، شوہر شرائط عائد کرکے ادائیگی سے نہیں بچ سکتا، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

کفایت شعاری اقدامات: قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں ورک فرام ہوم پالیسی کے نفاذ سمیت اہم فیصلے

ملکہ ترنم کی 100ویں سالگرہ: اے وطن کے سجیلے جوانو سے چاندنی راتیں تک، نورجہاں کے نغمے آج بھی جوان

کراچی بندرگاہ پر پاکستان اور امریکا کی مشترکہ کارروائی، افغانستان میں تیار منشیات سری لنکا اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

ویڈیو

’بڑا ہوکر اپنے والد کی طرح پولیس افسر بنوں گا‘، شہید ایس پی اکبر شنواری کے بیٹے ایمل کا عزم

تحریک انصاف کو احتجاج کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے، عمران خان مذاکرات کے ذریعے ہی باہر آسکتے ہیں، سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان

27 ستمبر احتجاج: پی ٹی آئی کے مکمل خاتمے کا پلان؟ محسن نقوی نے وارننگ دیدی

کالم / تجزیہ

سید مودودیؒ آج بھی کیوں پڑھے جا رہے ہیں؟

اسلام آباد کو سومنات بنا دیں گے

سومنات: جب تاریخ سیاسی نعرہ بن جائے