ملکہ ترنم کی 100ویں سالگرہ: اے وطن کے سجیلے جوانو سے چاندنی راتیں تک، نورجہاں کے نغمے آج بھی جوان

منگل 22 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سچا فنکار کبھی نہیں مرتا، وہ اپنے کام کے ذریعے زندہ رہتا ہے اور نور جہاں ایسی ہی ایک نایاب اور بے مثال فنکارہ کی مثال ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘

پیدائش کے 100 سال بعد بھی وہ جنوبی ایشیا کی سب سے محبوب گلوکارہ ہیں۔ نور جہاں 21 ستمبر 1926 کو قصور میں پیدا ہوئیں اور ان کا نام اللہ وسائی رکھا گیا۔ انہوں نے کم عمری میں ہی گانا اور اداکاری شروع کر دی اور اس میں ایسی مہارت حاصل کی کہ انہیں ملکہ ترنم کا خطاب ملا۔

اور اپنی اسی موسیقی کی بادشاہت کے شایان شان، نور جہاں نے اردو، پنجابی اور سندھی میں تقریباً 10 ہزار گیت ریکارڈ کیے۔ سنہ 1960 کی دہائی میں ان کی آواز پاکستانی شناخت کا ایک بڑا حصہ بن گئی جب انہوں نے کئی حب الوطنی کے نغمات کو اپنی آواز دی جن میں سدا بہار نغمہ اے وطن کے سجیلے جوانو بھی شامل ہے۔ آج بھی یہ نغمے لاکھوں پاکستانیوں کے لیے سکون، ہمت اور امید کا ذریعہ ہیں۔

لیکن نور جہاں کی وراثت صرف ان کی طاقتور آواز تک محدود نہیں بلکہ ان کے گیتوں کی تنوع بھی اس کا حصہ ہے۔ وہ کچھ بھی گا سکتی تھیں، چاہے وہ حوصلہ بڑھانے والے ترانے ہوں، غمگین گیت ہوں یا رومانوی نغمے۔ اس سے بڑھ کر ان کا کام نسلوں تک محیط ہے۔

مزید پڑھیے: رشید عطرے: ’کہاں تک سنو گے، کہاں تک سناؤں‘

اس طرح کی فنکارانہ لافانیت اگلے 100 سال تک جشن کے قابل ہے اور اسے منانے کا بہترین طریقہ ان کے چند بہترین گیتوں کو دوبارہ سننا ہے۔

مجھ سے پہلی سی محبت

اردو زبان کے عظیم ترین شاعروں میں سے ایک فیض احمد فیض کی کہی ہوئی اس غزل کو نور جہاں نے اس قدر خوبصورتی سے گایا کہ شاعر نے خود کہا تھا کہ اب یہ میرا گیت نہیں رہا بلکہ یہ اب نور جہاں کا ہے۔

چاندنی راتیں

یہ نرم و ملائم اور خواب جیسا گیت سنہ 1952 کی پاکستانی فلم دوپٹہ کے لیے پہلی بار گایا گیا تھا۔ اس کے بعد کئی فنکاروں نے اسے دوبارہ گایا۔ برطانوی بھارتی میوزک پروڈیوسر بالی ساگو کا نوے کی دہائی میں بنایا گیا ورژن شاید سب سے زیادہ مقبول ہے۔

مونجھی پریت نئیں، مونجھو پیار نئو

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ نور جہاں نے سندھی میں بھی گیت گائے۔ مونجھی پریت نئیں، مونجھو پیار نئو (یعنی میری محبت نئی ہے، میرا پیار نیا ہے،) سنہ 1970 کی سندھی فلم ’گھونگھٹ لاہ کنوار‘ کے لیے استاد محمد یوسف کے ساتھ دوگانے کے طور پر گایا گیا تھا۔

سانوں نہر والے پل تے

پاکستانی موسیقی کی تاریخ کے سب سے زیادہ پہچانے جانے والے گیتوں میں سے ایک، یہ گیت ملکہ ترنم نے سنہ 1973 کی پاکستانی پنجابی فلم دکھ سجنا دے کے لیے گایا تھا۔ آج بھی بہت سے لوگ ان لوگوں کا انتظار کرتے ہوئے اسے گنگناتے ہیں جو وقت پر آنے کی اہمیت نہیں سمجھتے۔

اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے

یہ ماں کی محبت پر ایک دل کو چھو لینے والا پنجابی گیت ہے۔ یہ اس بات کی صرف ایک مثال ہے کہ نور جہاں کی آواز نسلوں تک لوگوں میں کیسے کیسے جذبات ابھارنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مزید پڑھیں: ملکہ ترنم نورجہاں کی 23ویں برسی، سریلی آواز کی وجہ سے عوام کے دلوں میں آج بھی زندہ

نور جہاں کا شاندار کیریئر 6 دہائیوں پر محیط رہا اور وہ 23 دسمبر 2000 ہزار کو 74 سال کی عمر میں کراچی میں وفات پا گئیں۔ وہ اپنی لافانی آواز، وقار اور حسن کی بدولت آج بھی لاکھوں دلوں میں زندہ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حرمین شریفین کی حرمت، سلامتی اور استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، طاہر اشرفی کی زیرصدارت اجلاس میں علما و مشائخ کا متفقہ فتویٰ

سونا چاندی سستے ہوگئے، بھاؤ کیا رہا؟

پاکستانی روپیہ قدم بہ قدم ترقی کی جانب گامزن، ڈالر اور بٹ کوائن کتنے کے؟

حق مہر بیوی کا قانونی اور شرعی حق، شوہر شرائط عائد کرکے ادائیگی سے نہیں بچ سکتا، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

کفایت شعاری اقدامات: قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں ورک فرام ہوم پالیسی کے نفاذ سمیت اہم فیصلے

ویڈیو

’بڑا ہوکر اپنے والد کی طرح پولیس افسر بنوں گا‘، شہید ایس پی اکبر شنواری کے بیٹے ایمل کا عزم

تحریک انصاف کو احتجاج کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے، عمران خان مذاکرات کے ذریعے ہی باہر آسکتے ہیں، سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان

27 ستمبر احتجاج: پی ٹی آئی کے مکمل خاتمے کا پلان؟ محسن نقوی نے وارننگ دیدی

کالم / تجزیہ

سید مودودیؒ آج بھی کیوں پڑھے جا رہے ہیں؟

اسلام آباد کو سومنات بنا دیں گے

سومنات: جب تاریخ سیاسی نعرہ بن جائے